اتوار، 10 جولائی، 2016
شاعری کی زباں :ڈونڈھوگے اگر ملکوں ملکوں ، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔
ڈونڈھوگے اگر ملکوں ملکوں ، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم۔
اے درد بتا کچھ تو ہی پتہ اب تک یہ معمہ حل نہ ہوا،
ہم میں ہے دل بے تاب نہاں یا آپ ہی دل بے تاب ہیں ہم۔
میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر،
دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم۔
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک،
اے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کمیاب ہیں ہم۔
صدیق اکبر کا عشق رسول صہ
ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﺗﮭﺎﺻﺮﻑ ﺍﮌﺗﯿﺲ ( 38 ) ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ .
ﻣﮑﮧ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ . ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮧ، ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺳﺮﺷﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻋﻼﻧﯿﮧ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ ﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻓﯿﺾ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﻭﮞ . ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺍﮮ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ! ﺍﺑﮭﯽ ﺫﺭﺍ ﺻﺒﺮ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﻮ . ﺍﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ . ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮧ ﭘﺮ ﻏﻠﺒﮧ ﺣﺎﻝ ﻃﺎﺭﯼ ﺗﮭﺎ . ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﮭﺮﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﮮ ﺩﯼ .
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﻭ ﺧﻄﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﷲ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼ . ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ: '' ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺑﻌﺜﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻄﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﷲ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﻼﯾﺎ ''.
ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﻣﮑﮧ ﺁﭖ ﭘﺮ ﭨﻮﭦ ﭘﮍﮮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﺨﺖ ﭘﯿﭩﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻧﺪﺍ . ﻋﺘﺒﮧ ﺑﻦ ﺭﺑﯿﻌﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺑﮯ ﺗﺤﺎﺷﺎ ﺗﮭﭙﮍ ﻣﺎﺭﮮ . ﺁﭖ ﻗﺒﯿﻠﮧ ﺑﻨﻮ ﺗﻤﯿﻢ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﺒﯿﻠﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﺒﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺩﻭﮌﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﺋﮯ . ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﮍﺍ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﮯ . ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮧ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺒﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ . ﻭﮦ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﺭﮨﮯ .ﺟﺐ ﺷﺎﻡ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮨﻮﺵ ﺁﯾﺎ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺍﺑﻮﻗﺤﺎﻓﮧ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﺒﯿﻠﮯ ﮐﮯ ﻟﻮگ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﮨﻮﺵ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﯽ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ . ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺒﯿﻠﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺳﺨﺖ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼﻣﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺫﻟﺖ ﻭ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﻧﯽ ﭘﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﺎﺭﭘﯿﭧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﻧﯽ ﭘﮍﯼ، ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺗﻢ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﯽ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﻮ . ﺍﻥ ﻋﻘﻞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺳﺨﺘﯿﺎﮞ ﺟﮭﯿﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﺬﺕ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﯿﺞ ﺍﻭﺭ ﺑﺴﺘﺮ ﮐﯿﻤﺨﺎﺏ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ . ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺒﯿﻠﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﮔﺌﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺍﻡ ﺍﻟﺨﯿﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﺤﻤﺪ (ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ) ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺯ ﻧﮧ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﺋﯿﮑﺎﭦ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺩﻭ . ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﻣﺘﺎ ﺗﮭﯽ، ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﺁﯾﺎ . ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻ ﮐﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐھ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﻮﮐﮯﮨﻮ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻟﻮ . ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :
'' ﻣﺎﮞ ﺍﷲ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮑﮭﻮﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﻮﮞ ﮔﺎﺟﺐ ﺗﮏ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﻭﮞ .''
ﺣﻀﺮت ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﺍﻡ ﺟﻤﯿﻞ ﺁﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﺨﯿﺮﯾﺖ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﺭ ﺍﺭﻗﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﮨﯿﮟ . ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮧ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﻮﺭ ﺗﮭﮯ، ﭼﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ، ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ . ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺟﮭﮏ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮﻣﺎ . ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﷲ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﭘﺮ ﺳﺨﺖ ﮔﺮﯾﮧ ﻃﺎﺭﯼ ﺗﮭﺎ .
یہ تهے عبدالستار ایدھی صاحب جو جہاں فانی سے کوچ کر گئے

گجرات کے گاؤں بانٹوا کا نوجوان عبدالستار گھریلو حالات خراب ہونے پر کراچی جا کر کپڑے کا کاروبار شروع کرتا ہے کپڑا خریدنے مارکیٹ گیا وہاں کسی شخض نے کسی شخض کو چاقو مار دیا زخمی زمین پر گر کر تڑپنے لگا لوگ زخمی شخض کے گرد گھیرا ڈال کر تماشہ دیکھتے رہے وہ شخض تڑپ تڑپ کر مر گیا نوجوان عبدالستار کے دل پر داغ پڑ گیا سوچا معاشرے میں تین قسم کے لوگ ہیں دوسروں کو مارنے والے مرنے والوں کا تماشہ دیکھنے والے اور زخمیوں کی مدد کرنے والے نوجوان عبدالستار نے فیصلہ کیا وہ مدد کرنے والوں میں شامل ہو گا اور پھر کپڑے کا کاروبار چهوڑا ایک ایمبولینس خریدی اس پر اپنا نام لکها نیچے ٹیلی فون نمبر لکھا اور کراچی شہر میں زخمیوں اور بیماروں کی مدد شروع کر دی وہ اپنے ادارے کے ڈرائیور بهی تهے آفس بوائے بهی ٹیلی فون آپریٹر بهی سویپر بهی اور مالک بهی وہ ٹیلی فون سرہانے رکھ کر سوتے فون کی گھنٹی بجتی یہ ایڈریس لکهتے اور ایمبولینس لے کر چل پڑتے زخمیوں اور مریضوں کو ہسپتال پہنچاتے سلام کرتے اور واپس آ جاتے- عبدالستار ایدھی فجر کی نماز پڑھنے مسجد گئے وہاں مسجد کی دہلیز پر کوئی نوزائیدہ بچہ چهوڑ گیا مولوی صاحب نے بچے کو ناجائز قرار دے کر قتل کرنے کا اعلان کیا لوگ بچے کو مارنے کے لیے لے جا رہے تھے یہ پتهر اٹها کر ان کے سامنے کهڑے ہو گئے ان سے بچہ لیا بچے کی پرورش کی - یہ لعشیں اٹهانے بهی جاتے تھے پتا چلا گندے نالے میں لعش پڑی ہے یہ وہاں پہنچے دیکھا لواحقین بهی نالے میں اتر کر لعش نکالنے کے لیے تیار نہیں عبدالستار ایدھی نالے میں اتر گئے لعش نکالی گهر لائے غسل دیا کفن پہنایا جنازہ پڑهایا اور اپنے ہاتھوں سے قبر کهود کر میت دفن کر دی بازاروں میں نکلے تو بے بس بوڑھے دیکهے پاگلوں کو کاغذ چنتے دیکھا آوارہ بچوں کو فٹ پاتهوں پر کتوں کے ساتھ سوتے دیکها تو اولڈ پیپل ہوم بنا دیا پاگل خانے بنا لیے چلڈرن ہوم بنا دیا دستر خوان بنا دیئے عورتوں کو مشکل میں دیکھا تو میٹرنٹی ہوم بنا دیا لوگ ان کے جنون کو دیکھتے رہے ان کی مدد کرتے رہے یہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ ایدهی فاؤنڈیشن ملک میں ویلفیئر کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا یہ ادارہ 2000 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی آ گیا ایدھی صاحب نے دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس بنا دی عبدالستار ایدھی ملک میں بلا خوف پهرتے تهے یہ وہاں بهی جاتے جہاں پولیس مقابلہ ہوتا تھا یا فسادات ہو رہے ہوتے تھے پولیس ڈاکو اور متحارب گروپ انہیں دیکھ کر فائرنگ بند کر دیا کرتے تھے ملک کا بچہ بچہ قائداعظم اور علامہ اقبال کے بعد عبدالستار ایدھی کو جانتا ہے ایدھی صاحب نے 2003 تک گندے نالوں سے 8 ہزار لعشیں نکالی 16 ہزار نوزائیدہ بچے پالے انہوں نے ہزاروں بچیوں کی شادیاں کرائی یہ اس وقت تک ویلفیئر کے درجنوں ادارے چلا رہے تھے لوگ ان کے ہاتھ چومتے تهے عورتیں زیورات اتار کر ان کی جهولی میں ڈال دیتی تهیی نوجوان اپنی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر انہیں دے کر خود وین میں بیٹھ جاتے تهے
تو جناب یہ تهے عبدالستار ایدھی صاحب جو آج جہاں فانی سے کوچ کر گئے ہیں اور پوری قوم کو سوگوار چھوڑ گئے۔
تو جناب یہ تهے عبدالستار ایدھی صاحب جو آج جہاں فانی سے کوچ کر گئے ہیں اور پوری قوم کو سوگوار چھوڑ گئے۔
یااللہ ایدھی صاحب کی مغفرت فرما ،ان کے درجات بلند فرما ،انھیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرما اور ان کے اہل و عیال کو صبرِ جمیل عطا فرما ۔۔۔آمین
(اسداللہ بلوچ کی وال سے)
زندہ تحریریں: کبھی کبھی یہ سوچیں کہ۔۔
مجھ میں کمی یہ ہے کہ مجھے ایسا وقت نہیں ملتا، ایسی دھوپ نہیں ملتی، ایسا لان نہیں ملتا کہ جہاں پر میں ہوں اور میرا پالن ہار، اور کچھ نہ کچھ اس سے بات ہو۔ عبادت اپنی جگہ، بلکل ٹھیک ہے لیکن اللہ خود فرماتا ہے کہ جب تم نماز ادا کر چکو پھر میرا ذکر کرو، لیٹے ہوئے، بیٹھے ہوئے یا پہلو کے بل۔
لیکن آدمی ایسا مجبور ہے کہ وہ اس ذکر سے محروم رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ سوچیں کہ اس وقت میرا اللہ کہاں ہے؟ کیسے ہے؟ شہ رگ کے پاس تو ہے مگر میں کیوں خالی خالی محسوس کرتا ہوں؟
تو پھر آپکو ایک حرکت، ایک وائبریشن محسوس ہوتی ہے۔
یہ بڑے مزے کی اور دلچسپ باتیں ہیں لیکن ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ اس طرف جا ہی نہیں سکتے۔
اشفاق احمد، زاویہ کے باب حقوق العباد سے انتخاب
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)



