اتوار، 31 جولائی، 2016

مراد علی شاہ قائم علی شاہ سے مختلف نہیں ہونگے


ڈاکٹر محمد اجمل نیازی


سینئر ترین سیاستدان پیپلز پارٹی کیلئے تین نسلوں کے وفادار قائم علی شاہ نے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ اپنے ہاتھ سے لکھا اور اپنے نام کے نیچے 201 لکھا۔ لگتا ہے کہ وہ بہت پہلے سے ایک مستعفی آدمی کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وہ پیپلز پارٹی کیلئے اتنے وفادار تھے کہ ہر آدمی کی بات کو حکم کا درجہ دیتے تھے اور بلا سوچے سمجھے تعمیل کرتے تھے۔
ان کیلئے پیپلز پارٹی کے کرپٹ لوگ بھی کہتے تھے کہ وہ انتہائی دیانت دار شخص تھے۔ ایک روپے کی کرپشن بھی ان سے منسوب نہیں ہے۔ سابق گورنر پنجاب انتہائی معقول اور دوست سیاستدان مخدوم احمد محمود نے ان کی دیانت کیلئے حلفاً کہا کہ پیپلز پارٹی میں ان جیسا سچا وفا حیا والا اور دیانت دار شخص کوئی نہیں ہے۔
انہیں شہید بی بی بینظیر بھٹو نے وزیراعلیٰ سندھ بنایا تھا۔ 2016ء تک وہ تین بار وزیراعلیٰ رہے۔ ’’صدر‘‘ زرداری نے بھی انہیں مسلسل وزیراعلیٰ بنایا۔ پاکستان میں کسی وزیراعلیٰ نے کچھ نہیں کیا۔ البتہ لوٹ مار کی۔ کرپشن کی اور اقربا نوازی کی۔ مگر ایسا کوئی کام قائم علی شاہ نے نہیں کیا۔ انہوں نے ویسے بھی کچھ نہیں کیا تو مجھے بتایا جائے اور کس وزیراعلیٰ نے کچھ کیا ہے۔
اب جو ان کی جگہ وزیراعلیٰ بنے ہیں۔ وہ بھی کچھ نہیں کریں گے۔ قائم علی شاہ اور مراد علی شاہ کی عمر میں فرق ہو گا۔ مگر کارکردگی کے اعتبار سے کچھ فرق نہیں ہو گا۔ کام کیلئے جوانی اور بڑھاپے کا کوئی فرق نہیں ہے۔ بلاول کو نجانے قائم علی شاہ سے کیا پرخاش تھی۔ ’’صدر‘‘ زرداری نے اپنے بیٹے کی مسلسل تکرار کے بعد یہ فیصلہ کیا۔
آصفہ بھٹو زرداری نے قائم علی شاہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے جو بہت مستحسن اور قابل تعریف ہے۔ ایسے شخص کی تعریف جو ملنگ قسم کا سیاستدان ہو‘ قیادت کا وفادار ہو وہ واقعی تعریف کے قابل ہے۔ اس کی جو تعریف کرے‘ وہ بھی قابل تعریف ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینئر دوست منور انجم بھی وڈے سائیں کے معترف ہیں۔ منور انجم شہید بی بی ’’صدر‘‘ زرداری اور بلاول کیلئے بھی بہت عزت محبت رکھتے ہیں۔
قائم علی شاہ نے اپنے بچوں کی کبھی سیاسی سرپرستی نہیں کی۔ صرف ایک نفیسہ شاہ سیاست میں آئی ہے مگر وہ ایک نفیس خاتون ہیں۔ ان کی وجہ سے کوئی مسئلہ قائم علی شاہ کیلئے کبھی پیدا نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ کبھی ان کے کسی رشتہ دار کی وجہ سے بھی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔
قائم علی شاہ پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں سے ہیں۔ بھٹو صاحب بینظیر بھٹو اور ’’صدر‘‘ زرداری نے ہمیشہ ان پر اعتماد کیا۔ وہ ہر طرح کے اعتماد پر پورے اترے۔ وہ زندگی میں کبھی لوٹے نہیں بنے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی نہ چھوڑی۔ پارٹی کیلئے جیل کاٹی اور سختیاں بھی جھیلیں۔
قائم علی شاہ بے خوابی کے مریض ہیں رات بھر نہیں سوتے۔ صبح تین چار بجے بستر پر لیٹتے ہیں۔ ان کی وزارت اعلیٰ کے دوران بڑے بڑے بحران آئے مگر وہ کبھی نہیں گھبرائے۔ ہمیشہ بہت محنت اور لگن کے ساتھ سرکاری امور نپٹائے۔ وزیراعلیٰ کے طور پر بہت چھوٹے چھوٹے کام کر لیتے جو جونیئر افسران کو کرنا چاہئے۔ نہایت شریف النفس انسان ہیں۔
ان کا خیر پور میں ایک عام سا گھر ہے۔ کوئی جائیداد وغیرہ وہاں نہیں بنائی۔ ایک درمیانے سائز کا گھر کراچی میں بنایا ہے۔ ان کیلئے کئی افواہیں اڑائی جاتی رہی ہیں۔ وہ مست رہنے والے آدمی ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ’’بھنگ‘‘ پیتے ہیں۔ حالانکہ وہ سگریٹ تک نہیں پیتے۔
گورننس کے معاملے میں کمزور ثابت ہوئے ہیں جبکہ پاکستان میں کوئی حکمران گڈ گورننس تو کجا گورننس کے لحاظ سے بھی قابل ذکر نہیں۔ خیبر پی کے میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کہتے ہیں کہ عمران خان برسوں کا کام مہینوں میں چاہتے ہیں جبکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ خٹک صاحب نے برسوں کا کام بھی نہیں کیا ہے۔
بیوروکریسی پر قائم علی شاہ کا کنٹرول بہت ڈھیلا ڈھالا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اپنے داماد اور بیٹی کو بھی بیوروکریسی سے نہ بچا سکے۔ بیوروکریسی اصل میں برا کریسی ہے اور قائم علی شاہ دل کے بہت اچھے آدمی ہیں۔ ’’صدر‘‘ زرداری اور محترمہ فریال تالپور کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنے رہے۔ عجیب و غریب صورتحال ہے۔ کرپشن کوئی کرتا ہے اور الزام قائم علی شاہ پر لگتا ہے مگر وہ اس طرح کے آدمی ہیں کہ کرپشن کا الزام بھی ان پر نہیں لگ سکتا۔ کئی افسران قائم علی شاہ کو بائی پاس کر کے ’’صدر‘‘ زرداری اور فریال تالپور سے رابطہ رکھتے ہیں مگر قائم علی شاہ دونوں کے وفادار ہیں۔ ان کی حیثیت قربانی کا بکرا اور بگلا بھگت کی ہو کے رہ گئی ہے۔
بڑے شاہ صاحب کی عمر 83 برس ہو چکی ہے مگر اب بھی وہ جوان بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا کیا علاج کہ انہیں بھولنے کی عادت بھی ہے۔ وہ اکثر بھول جاتے ہیں کہ وہ بوڑھے ہیں۔ وہ کسی کے فرنٹ مین نہیں ہیں مگر انہیں ہی آگے کر دیا جاتا ہے۔
نوائے وقت کے مشہور صحافی اور پہلے کالم نگار م۔ ش کے داماد اور میرے دوست میاں عزیز الرحمن ملازمت کے سلسلے میں سندھ کے مختلف علاقوں میں رہے ہیں۔ وہ قائم علی شاہ کے گھرانے اور ان کیلئے بہت جان پہچان رکھتے ہیں۔ میاں عزیزالرحمن بہت اعلیٰ خوبیوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قائم علی شاہ بہت اچھے انسان ہیں اور ان کے گھرانے کو لوگوں نے ہمیشہ پسند کیا ہے اور انہیں ووٹ بھی دیا ہے۔ قائم علی شاہ کے علاوہ ان کی بیٹی نفیسہ شاہ اپنے علاقے سے ہمیشہ کامیاب ہوئی ہیں۔ قائم علی شاہ اشعار سناتے رہتے ہیں۔ شعر کی غلطی کو غلطی نہیں سمجھتے۔ ویسے بھی غلط فہمی بڑی غلطی ہوتی ہے۔ قائم علی شاہ غلطی بھی دانستہ نہیں کرتے مگر غلط فہمی پھیلانا ان کی فطرت میں نہیں ہے۔
سندھ کے وزیراعلیٰ کے طور پر مراد علی شاہ کو لایا گیا ہے۔ اللہ کرے وہ امیدوں پر پورا اتریں۔ مگر ان سے کوئی زیادہ امید نہیں ہے۔ پاکستان میں کسی حکمران نے کچھ نہیں کیا۔ مراد علی شاہ بھی کچھ نہیں کریں گے تو کیا قائم علی شاہ ان سے بہتر وزیراعلیٰ نہ تھے؟
(روزنامہ نوائے وقت)

وال پیپر: سندھ کے نئے وزیر اعلیٰ کی ترجیحات


پیپلز پارٹی کے سید مراد علی شاہ گزشتہ روز بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے سندھ کے 27 ویں وزیر اعلیٰ منتخب ہو گئے۔ نو منتخب وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں صوبے میں امن کے قیام اور تعلیم و صحت کی سہولیات کی فراہمی کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات قرار دیتے ہوئے نعرہ لگایا کہ انہوں نے صاف ترین کراچی‘ سبز ترین تھر اور محفوظ ترین سندھ کیلئے کام کرنا ہے۔ انکی قیادت میں صوبہ میں گڈ گورننس کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ انکی تقریر کی ڈرافٹنگ بلاشبہ خوبصورت پیرائے میں ہوئی ہے تاہم انکی بیان کردہ ترجیحات فی الواقع ان کیلئے بہت بڑا چیلنج ہیں۔ صوبہ سندھ میں اس وقت امن و امان کی یہ صورتحال ہے کہ گزشتہ روز بھی لاڑکانہ میں دہشت گردوں نے رینجرز کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح صحت اور تعلیم کی صورتحال خاصی دگرگوں ہے۔ 40 فیصد سکول بند پڑے ہیں، تمام شہروں میں ہسپتالوں کا بھی برا حال ہے اور نو منتخب وزیر اعلیٰ کے بقول پورے سندھ میں کرپشن کا بازار گرم ہے کہ جب بھی کرپشن کی بات ہوتی ہے، سندھ کا نام پہلے آتا ہے۔ رینجرز سندھ میں امن و امان کیلئے کام کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت انکے خصوصی اختیارات اور قیام میں توسیع کے معاملے میں تذبذب کا شکار ہے جس کے باعث جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کارروائی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں نئے وزیراعلیٰ کو حکومت اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں میں تصادم کی اس کیفیت کو بھی دور کرنا ہوگا اور سیاسی جماعتوں بشمول حکمران پیپلزپارٹی کے عسکری ونگز سے بھی کراچی کے عوام کو نجات دلانا ہوگی تاکہ کراچی سمیت سندھ میں امن و امان کا قیام یقینی بنایا جا سکے۔ امید رکھنی چاہیے کہ صوبے کے نئے وزیراعلیٰ اپنے اتحادیوں سمیت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے اور اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنا کر عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے تاکہ ان کا وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونا محض چہروں کی تبدیلی ثابت نہ ہو۔ گڈ لک ٹو مراد علی شاہ!
(نوائے وقت)


کسب، رزق،برکت(۷)


رضا الدین صدیقی


حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:
٭ اللہ تبارک وتعالیٰ نرمی کا معاملہ کرنے والا ہے ،اس لیے نرم خوئی کو پسند کرتا ہے ، اور نرمی کرنے والے کو وہ کچھ (خیروبرکت)دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا ،(بلکہ)نرمی کے علاوہ اورکسی چیز پر نہیں دیتا۔(مسلم)
٭ نرمی رزق بڑھاتی ہے اوربرکت لاتی ہے اورجو شخص نرمی سے محروم ہووہ خیر سے محروم ہوجاتا ہے ۔(طبرانی)
٭ جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ ہر بھلائی سے محروم رہا۔(صحیح مسلم)
٭ اگر کسی معاملے (Dealing)کے دونوں فریق سچے ہوں اور خرید وفروخت میں ایک دوسرے سے کوئی دھوکہ یا غلط بیانی نہ کریں اورسودے کا کوئی پہلو دوسرے سے نہ چھپائیں توایسے ہر سودے میں اللہ تبارک وتعالیٰ ان دونوں کو برکت عطاءفرمائے گا، دونوں اس سودے سے نفع اٹھائیں گے اوردونوں کے رزق میں اضافہ ہوگا۔(مسند امام احمد بن حنبل)
٭ اللہ رب العزت کا فرمان (حدیث قدسی)ہے ، جب دومسلمان باہم مل کر کوئی کاروبار کرتے ہیں اوراس میں ایک دوسرے کے ساتھ کسی قسم کی بدنیتی یا خیانت کے مرتکب نہیں ہوتے تو میں ان دونوں کے ساتھ تیسرا شریک ہوتا ہوں اوران کی حفاظت اورمدد کرتا ہوں اوران کے کاروبار میں برکت عطاءفرماتا ہوں۔(ابوداﺅد)
٭ اپنی حاجتوں کو ان لوگوں سے طلب کرو جن کے مزاج میں نرمی اوررحم موجود ہو، ایسا کرنے سے تمہیں رزق بھی ملے گا اورمقصد میں کامیابی بھی ہوگی۔اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے، میرے جو بندے رحم دل ہوں ان کے ساتھ میری رحمت شامل حال ہوتی ہے۔(کنزالعمال)
٭ اگر تمہیں کوئی حاجت درپیش ہواور لوگوں سے مددحاصل کرنا ناگزیر محسوس ہونے لگے تو صرف نیک طینت لوگوں سے اعانت طلب کرو، اس طرح اللہ رب العزت کی رحمت بھی تمہارے شامل حال ہوجائے گی اورمراد بھی پوری ہوجائے گی۔(مسند امام احمد بن حنبل)
٭ جب اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تواسے معیشت میں نرمی اورمیانہ روی کی توفیق عطاءفرماتا دیتا ہے۔(شعب الایمان ،بیہقی)
٭ وہ شخص میانہ روی کو اپنا لیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے غنی کردیتا ہے اورجو بے جا اخراجات کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو تنگ دستی میں مبتلاءکردیتا ہے ۔(بزار، کنزالعمال)٭ وہ شخص کبھی مفلس وتنگ دست نہیں ہوگا جو میانہ روی اختیار کرے۔(احمد ، دارقطنی) ٭میانہ روی سے رزق میں اضافہ اورخیر وبرکت نصیب ہوتی ہے۔(معجم ، طبرانی)


ہفتہ، 30 جولائی، 2016

عجیب اور دلچسپ : جنگل میں جانوروں کے ساتھ کھیلنے والے بہن بھائی


چھتیس گڑھ: بھارت میں 2 بچے مشہور فلم ’’جنگل بُک‘‘ کے اصل کردار دکھائی دیتے ہیں جو روزانہ گھنے جنگلوں میں بندروں اور دیگر جانوروں کے ساتھ کھیلتے ہیں ۔
چھتیس گڑھ کے رہائشی دونوں بچوں میں بہن اور بھائی شامل ہیں جو قریبی گاؤں میں رہتے ہیں جہاں گھنے جنگل میں بندروں سمیت چیتے بھی پائے جاتے ہیں۔ دونوں بہن بھائی دن بھر جنگل کے درختوں پر اچھلتے کودتے رہتے ہیں اور روزانہ بندروں کے ساتھ کھیلتے ہیں جب کہ اس دوران انہیں جنگل کے جانوروں سے کوئی خوف بھی محسوس نہیں ہوتا۔
بچوں کی ماں کے مطابق دونوں بچے پیدائش کے بعد نارمل تھے لیکن ٹھیک سے بولنا نہیں سیکھا، لڑکا بندروں کے ساتھ کبڈی اور چھپن چھپائی کھیلتا ہے۔ گاؤں کے لوگ اس کے چلنے کے انداز سے اسے گوریلا کہتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اب تک کسی بھی جانور نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا ۔
اس علاقے میں بھارت مخالف نکسل باغیوں کا راج ہے۔ بچوں کے باپ کو بھی انہی باغیوں نے مخبر سمجھ کر اس وقت قتل کردیا تھا جب وہ اپنے بچوں کی تلاش میں جنگل میں گئے تھے۔ اسی لیے ان کی ماں ہمیشہ فکر مند رہتی ہے کہ کہیں یہ بچے بھی باغیوں کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ بچے ٹھیک نہیں ہوسکتے کیونکہ بچوں کا دماغ پوری طرح نہیں بن سکا اور اس کا اثر ان کے چہرے اور جسم پر واضح ہے۔
(ایکسپریس نیوز بلاگس)

بچوں کی محفل: جنگل سکول


بچوں کی محفل: ہماری زمیں۔




معجزات نبویﷺ : سورج کاپلٹ آنا:۔


حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے آسمانی معجزات میں سورج پلٹ آنے کامعجزہ بھی بہت ہی عظیم الشان معجزہ اور صداقت ِنبوت کا ایک واضح ترین نشان ہے۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت بی بی اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ “خیبر” کے قریب ” منزل صہبا ” میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نماز عصر پڑھ کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں اپنا سر اقدس رکھ کر سو گئے اور آپ پر وحی نازل ہونے لگی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سر اقدس کو اپنی آغوش میں لیے بیٹھے رہے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور آپ کو یہ معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز عصر قضا ہوگئی تو آپ نے یہ دعا فرمائی کہ “یااﷲ! یقینا علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھے لہٰذا تو سورج کو واپس لوٹا دے تا کہ علی نماز عصر ادا کرلیں۔”
حضرت بی بی اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ڈوبا ہوا سورج پلٹ آیا اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور زمین کے اوپر ہر طرف دھوپ پھیل گئی۔(زرقانی جلد ۵ ص ۱۱۳ و شفاء جلد ۱ ص ۱۸۵ و مدارج النبوۃ جلد۲ ص ۲۵۲)
اس میں شک نہیں کہ بخاری کی روایتوں میں اس معجزہ کا ذکر نہیں ہے لیکن یاد رکھیے کہ کسی حدیث کا بخاری میں نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ حدیث بالکل ہی بے اصل ہے۔ امام بخاری کو چھ لاکھ حدیثیں زبانی یاد تھیں۔ انہی حدیثوں میں سے چن کر انہو ں نے بخاری شریف میں اگر مکر رات و متابعات کو شامل کر کے شمار کی جائیں تو صرف نو ہزار بیاسی حدیثیں لکھی ہیں اور اگر مکر رات و متابعات کو چھوڑ کر گنتی کی جائے تو کل حدیثوں کی تعداد دو ہزار سات سو اکسٹھ ۲۷۶۱ رہ جاتی ہیں۔(مقدمه فتح الباری)
باقی حدیثیں جو حضرت امام بخاری علیہ الرحمۃ کو زبانی یاد تھیں۔ ظاہر ہے کہ وہ بے اصل اور موضوع نہ ہوں گی بلکہ وہ بھی یقینا صحیح یا حسن ہی ہوں گی تو آخر وہ سب کہاں ہیں؟ اور کیا ہوئیں؟ تو اس بارے میں یہ کہنا ہی پڑے گا کہ دوسرے محدثین نے انہی حدیثوں کو اور کچھ دوسری حدیثوں کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہوگا۔ چنانچہ منزل صہبا میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز عصر کے لیے سورج پلٹ آنے کی حدیث کو بہت سے محدثین نے اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ جیسا کہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ حضرت امام ابو جعفر طحاوی، احمد بن صالح، و امام طبرانی و قاضی عیاض نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے اور امام طحاوی نے تو یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ امام احمد بن صالح جو امام احمد بن حنبل کے ہم پلہ ہیں، فرمایا کرتے تھے کہ یہ روایت عظیم ترین معجزہ اور علامات نبوت میں سے ہے لہٰذا اس کو یاد کرنے میں اہل علم کو نہ پیچھے رہنا چاہئے نہ غفلت برتنی چاہئے۔(مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۲۵۴)
بہرحال جن جن محدثین نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے ان کی ایک مختصر فہرست یہ ہے:
مشکل الآثار میں(۱) حضرت امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے
مستدرک میں(۲) حضرت امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے
معجم کبیرمیں(۳) حضرت امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے
اپنی مرویات میں(۴) حضرت حافظ ابن مردویہ رحمۃ اللہ علیہ نے
الذریۃ الطاہرہ میں(۵) حضرت حافظ ابوالبشر رحمۃ اللہ علیہ نے
شفاء شریف میں(۶) حضرت قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے
تلخیص المتشابہ میں(۷) حضرت خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے
الزہرالباسم میں(۸) حضرت حافظ مغلطائی رحمۃ اللہ علیہ نے
عمدۃ القاری میں(۹) حضرت علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے
کشف اللبس میں(۱۰) حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے
(۱۱) حضرت علامہ ابن یوسف        دمشقی رحمۃ اللہ علیہ نے
ازالۃ الخفاء میں(۱۲) حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے
مدارج النبوۃمیں(۱۳) حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے
زرقانی علی المواہب میں(۱۴) حضرت علامہ محمد بن عبدالباقی رحمۃ اللہ علیہ نے
مواہب لدنیہ میں(۱۵) حضرت علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے
اس حدیث پر علامہ ابن جوزی نے اپنی عادت کے موافق جو جرحیں کی ہیں اور اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے، حضرت علامہ عینی نے عمدۃ القاری جلد ۷ ص ۱۴۶ میں تحریر فرمایا ہے کہ علامہ ابن جوزی کی جر حیں قابل التفات نہیں ہیں، حضرت امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کو سندیں لکھ کر فرمایا کہھٰذَانِ الْحَدِيْثَانِ ثَابِتَانِ وَرُوَاتُهُمَا ثِقَاتٌ… یعنی یہ دونوں روایتیں ثابت ہیں اور ان کے راوی ثقہ ہیں۔(شفاء شريف جلد۱ ص ۱۸۵)
اسی طرح حضرت شیخ عبدالحق محدت دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی علامہ ابن جوزی کی جرحوں کو رد کردیا ہے اور اس حدیث کے صحیح اورحسن ہونے کی پرزور تائید فرمائی ہے۔(مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۲۵۴)
اسی طرح ازالۃ الخفاء میں علامہ محمد بن یوسف دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب “مزيل اللبس عن حديث ردالشمس″کی یہ عبارت منقول ہے کہ
اعلم ان هذا الحديث رواه الطحاوي فی کتابه “ شرح مشکل الاثار ” عن اسماء بنت عميس من طريقين و قال هذان الحديثان ثابتان و رواتهما ثقات و نقله قاضي عياض في “ الشفاء ” و الحافظ ابن سيد الناس في “ بشري اللبيب ” و الحافظ علاء الدين مغلطائي في کتابه “ الزهر الباسم ” و صححه ابو الفتح الازدي و حسنه ابو زرعة بن العراقي و شيخنا الحافظ جلال الدين السيوطي في “ الدرر المنتشرة في الاحاديث المشتهرة ” و قال الحافظ احمد بن صالح و ناهيك به لا ينبغي لمن سبيله العلم التخلف عن حديث اسماء لانه من اجل علامات النبوة و قد انکر الحفاظ علي ابن الجوزي ايراده الحديث في “ کتاب الموضوعات ”(التقرير المعقول في فضل الصحابة واهل بيت الرسول ص ۸۸)
تم جان لو کہ اس حدیث کو امام طحاوی نے اپنی کتاب” شرح مشکل الآثار ” میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دوسندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ دونوں حدیثیں ثابت ہیں اور ان دونوں کے روایت کرنے والے ثقہ ہیں اور اس حدیث کو قاضی عیاض نے ” شفاء ” میں اور حافظ ابن سیدالناس نے ” بشری اللبیب ” میں اور حافظ علاء الدین مغلطائی نے اپنی کتاب “الزہرالباسم” میں نقل کیا ہے اور ابوالفتح ازدی نے اس حدیث کو “صحیح” بتایا اور ابو زرعہ عراقی اور ہمارے شیخ جلال الدین سیوطی نے “الدر رالمنتشرہ فی الا حادیث المشہترہ ” میں اس حدیث کو ” حسن ” بتایا اور حافظ احمد بن صالح نے فرمایا کہ تم کو یہی کافی ہے اور علماء کو اس حدیث سے پیچھے نہیں رہنا چاہئے کیونکہ یہ نبوت کے بہت بڑے معجزات میں سے ہے اور حدیث کے حفاظ نے اس بات کو برا مانا ہے کہ ” ابن جوزی ” نے اس حدیث کو ” کتاب الموضوعات ” میں ذکر کر دیا ہے۔