اتوار، 31 جولائی، 2016

نئے وزیراعلیٰ کی ضرورت کیوں؟


الیاس شاکر
سندھ حکومت کو مشورہ دیا گیا کہ وزیرداخلہ کو فارغ کردو، اس پر فلاں فلاں الزام ہے۔
الزامات کا تذکرہ اخبارات میں بھی ہوا۔ لاڑکانہ میں رینجرز نے وزیر داخلہ کے گھر کے باہر ناکے بھی لگائے، ان کے فرنٹ مین کو قابو بھی کیاگیا، لیکن رینجرزکی کم نفری کا فائدہ اٹھاکر، عوام کی مدد سے، سندھ پولیس کی سربراہی میں اسد کھرل کو رہا کروا لیا گیا۔ اس کے بعد سندھ حکومت کو پیغام بھیجا گیا کہ اپنے وزیرداخلہ کو فوری طور پر تبدیل کردو، لیکن یہ بات ''وڈیرہ شاہی‘‘ کو اچھی نہ لگی۔ ان کی شان و شوکت نے اس مشورے کو تسلیم نہ کیا۔ ٹال مٹول شروع ہوگئی۔ رینجرز کے اختیارات کی تاریخ میں اضافے کا ہلکا پھلکا تنازع دوبارہ پیدا ہوا۔ وزیر اعلیٰ کور کمانڈر سے ملاقات کے لئے گئے تو ان کے ہمراہ وزیرداخلہ بھی تھے، کور کمانڈر نے ان کے لئے گرم جوشی کا مظاہرہ نہ کیا۔ وزیرداخلہ ہاتھ بھی نہ ملاسکے۔ اس طرز عمل کو پہلے سندھ حکومت اور جلد ہی دبئی میں بیٹھے ہوئے ''سندھ کے حقیقی حکمران‘‘سمجھ گئے۔ فیصلہ ہوا کہ وزیرداخلہ کو معزول کرنے کی بجائے وزیراعلیٰ کو ہی فارغ کردیا جائے، اس طرح وزیرداخلہ سہیل انور سیال بھی خود بخود وزارت سے ہٹ جائیں گے اور فریال تالپور کے لئے شرمندگی کا کوئی موقع بھی پیدا نہیں ہوگا۔
ڈیڑھ سال سے بلاول بھٹو زرداری کی خواہش تھی کہ مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ بنایا جائے۔ جس وقت بلاول بھٹو نے ان کا نام پیش کیا تھا تو ان دنوں آصف علی زرداری کا خیال تھا کہ بلاول بھٹو ابھی سندھ کے ''سیاسی تالاب‘‘ میں کم تجربہ کار ہے۔ وہ سب کو جانتا اور سمجھتا نہیں ہے۔ لیکن اب بلاول بھٹو سب کو پہچان گیا ہے، سیکھ گیا ہے، سب کی'' قیمت اور طاقت ‘‘کا بھی اسے اندازہ ہوگیا ہے۔ دبئی اجلاس سے قبل بلاول بھٹو نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا تھا جس میں وزیراعلیٰ قائم علی شاہ، مراد علی شاہ، وزیرداخلہ اور کابینہ کے دیگر ارکان موجود تھے۔ اجلاس میں رینجرز کے اختیارات کا معاملہ بھی اٹھا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میں نے فائل دیکھی ہے، اس کے مطابق سندھ حکومت نے رینجرز کو صرف کراچی میں شہری انتظامیہ کی مدد کے لئے بلایا ہے۔ سندھ میں لاء اینڈ آرڈر کا ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے کہ پولیس اس پر قابو نہ پا سکے۔ پتا نہیں آپ لوگ، خاص طور پر قائم علی شاہ صاحب رینجرز کی کیوں اتنی تعریف کر رہے ہیں۔ بلاول صاحب نے کہا کہ سندھ حکومت نے اندرون سندھ کے لئے رینجرز کو کبھی پاورز نہیں دیں۔ اس میٹنگ میں بلاول بھٹو نے ایک تلخ جملہ ٹھنڈے لہجے میں بولا۔ سمجھنے والے سمجھ گئے کہ بات اتنی آسان نہیں ہے۔ بلاول بھٹو نے اچانک سوال کیا: آپ لوگ رینجرزکی بہت تعریف کر رہے ہیں، کیا آپ لوگ ان کے ساتھ ہیں یا سندھ حکومت کے ساتھ؟اس پر سناٹا چھاگیا اور فیصلہ ہوا کہ دبئی چلتے ہیں اور ''بڑے صاحب‘‘ سے مشورہ کرتے ہیں۔چنانچہ سب نے دبئی جانے کی تیاری شروع کردی۔ 
دبئی کے اجلاس میں زرداری صاحب نے ایک بڑے ڈرامے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ سب سے پہلے انہوں نے سندھ حکومت کے وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ سنایا اور بلاول بھٹو کو موقع دیا کہ وہ اپنے کھلاڑی (مراد علی شاہ) کو میدان میں لے آئیں اور چپکے چپکے اسٹیبلشمنٹ کا یہ مشورہ بھی مان لیا کہ وزیرداخلہ کو کابینہ سے خارج کرو۔ یہ سب کچھ اس طرح ہوا جیسے ایک ٹیسٹ میچ میں پھنسی ہوئی ٹیم بارش کا فائدہ اٹھا کر''میچ ڈرا ‘‘ کرنے کا اعلان کرتی ہے اور ناکامی کی شرمندگی سے بچ جاتی ہے۔ 
آصف زرداری نے سندھ کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے اعلان کی آڑ میں اپنی یہ بات بھی خاموشی سے منوالی کہ رینجرز کو اختیارات کراچی تک دیے جائیں گے اور رینجرزکو ان کے آبائی علاقوں اور حلقہ انتخاب میں بنائے گئے سیٹ اپ میں مداخلت کرنے کا موقع نہیں دیاجائے گا، رینجرز کراچی میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں۔ سندھ حکومت یہ نہیں چاہتی کہ ان کی موروثی ریاست میں کوئی مداخلت ہو اور کوئی آکر جاگیرداروں کی طاقت کو چیلنج کرے۔ وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے بعد یہ سوالات بھی پیدا ہوگئے کہ اپیکس کمیٹی کا کیپٹن (سربراہ) کون ہوگا؟ اسے رینجرز کے معاملات کو سمجھنے میں کتنے دن لگیں گے۔ نیا وزیرداخلہ کون ہوگا؟ اور اس کے رینجرز سے معاملات کس طرح چلیں گے؟ نیا وزیراعلیٰ کراچی کے اردو بولنے والوں کے ساتھ کیسا برتائو کرے گا؟ کیا وہ انہیں کابینہ میں شامل کرے گا یا قائم علی شاہ کی طرح سو فیصد سندھی حکومت تشکیل دے گا؟ بہت سارے سوالات ہیں جن سے نئے وزیراعلیٰ کو نمٹنا ہے، سمجھنا ہے اور ایک نئی بنیاد ڈالنی ہے ۔ لیکن ایک آخری بات۔۔۔۔ اسلام آباد میں غیب کا علم جاننے والوں اور ''فرشتوں‘‘ سے رفاقت کی شہرت رکھنے والوں کو زرداری صاحب نے قائم علی شاہ کو قربانی کا بکرا بناکر مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ وہ کہتے تھے''سندھ حکومت جلد جانے والی ہے‘‘۔ اس تبدیلی کے بعد ان کو ''گورنر راج ٹائپ‘‘ کا کوئی ایکشن لینے میں وقت نہیں لگے گا؟ یا انڈہ آملیٹ فوراً تیار ہو جائے گا؟
(روزنامہ دنیا)

گھریلو چٹکلے اور مشورے : شہد کے گھریلو چٹکلے 




شہد کو ایک مفید غذا اور دوا کے طور پر صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پیغمبر اسلام سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث‌میں بھی اسکے خصائص بیان ہوئے ہیں۔
شہد ایک نہایت موثر قدرتی عطیہ ہے جو تقریبا تمام امراض کے لئے ذریعہ شفا ہے۔ شہد کو کسی بھی قسم کے منفی اثرات (Side effects) کے ڈر کے بغیر پورے اطمینان سے کسی بھی قسم کی بیماری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تھکان
اگر آپ تھک تھکا کر نڈھال ہو چکے ہوں تو شہد آپ کی تھکان دور کرنے میں ایک اچھا معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ بڑی عمر کے افراد اگر صبح نہار منہ، منہ دھو کر یا رات سونے سے پہلے ایک گلاس گرم دودھ میں 2 چمچے شہد ڈال کر پینے سے چند ہفتوں میں زائل ہوتی ہوئی توانائی بحال ہو جائے گی اور جسمانی قوت اور طاقت میں بہتری سامنے آتی ہے جو ہر عمر کے افراد کے لئے لازمی چیز ہے۔
امراض قلب
شہد اور دارچینی کے پاؤڈر کو ملا کر پیسٹ بنالیں اور اسے ڈبل روٹی کے توسٹ پر لگائیے۔ جام جیلی کی جگہ اسے استعمال کرکے دیکھئیے۔ آپ کی شریانوں میں جمنے والے کولیسٹرول کو نکال باہر کرے گا اور یوں آپ کو دل کے دورے سے محفوظ کر دے گا ۔ یہاں تک کہ جو لوگ پہلے دورہ قلب کا شکار ہو چکے ہیں وہ اس نسخے پر مستقل طور پر عمل درآمد کریں تو اگلے دورے سے بہت زیادہ محفوظ ہو جائیں گے۔
بد ہضمی
دو بڑے کھانے کے چمچے شہد میں کسی قدر دار چینی کاپاوڈر چھڑک کر کھائیے اور پھر کھانے کے ساتھ بھر پور انصاف کریں۔ تکلیف دہ تیزابیت ختم ہو کر بھوک کھل کر لگے گی اور پھر آپ کا معدہ، لکڑ ہضم، پتھر ہضم قسم کا ہو جائے گا ۔
کھانسی
ہلکی کھانسی کے لیے ایک چمچ شہد میں‌ پسی ہوئی کالی مرچ چھڑک کر کھانے اور اسکے بعد ایک گلاس نیم گرم پانی پینے سے کھانسی ٹھیک ہوجائے گی۔
گلے کی خارش اور سخت کھانسی :
سخت کھانسی اور گلے میں خارش کے لیے ناشتے سے پہلے 2 چمچ ادرک کا رس، 1 چمچ شہد ڈال کر مائیکروویو میں 30سیکنڈ گرم کرکے چمچ سے کھائیں۔ افاقہ ہوگا۔
خون میں گرمی :
صبح نہار منہ ایک گلاس ٹھنڈے پانی میں ایک چمچ شہد ڈال کر پینے سے خون اور معدے کی گرمی ختم ہوجاتی ہے۔
گیس ٹربل :
جاپان اور بھارت میں کی جانے والی تحقیق و تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ شہد میں دار چینی کا پاوڈر ملا کر استعمال کرنے سے گیس ٹربل مرض سے مکمل نجات ممکن ہے۔
--------------------------------------
Radionics Computer, Quantum Analyzer in Pakistan

زندہ تحریریں : سیرت النبی ﷺ اور غیر مسلم سیرت نگار


نبی کریم ﷺ کی ذاتِ والا صفات سے محبت اور نسبت ہر مسلمان کے ایمان کا جزو ہے۔ بڑے بڑے صاحبِ ایمان اور بزرگ ترین لوگ تو ان ﷺ سے عشق کا دعویٰ کرتے ہیں، میرے جیسے نیچ ذات بھی ان ﷺ کے قدموں کی خاک بننے کے تمنائی ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے نبی سائیں ﷺ کا وجود سیاہ رات میں چودھویں کے چاند جیسا ہے۔ وہ ﷺ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ انسانوں میں ان ﷺ سے بلند مرتبہ کسی کا نہ ہوا اور نہ ہو گا۔ ان ﷺ کی ذات کی نسبت سے ہماری نسبت اللہ سائیں کے ساتھ طے ہوتی ہے۔ وہ ﷺ کہتے ہیں کہ رب ایک ہے تو ہم مانتے ہیں کہ رب ایک ہے۔ وہ ﷺ کہتے ہیں کہ رب یہ فرماتا ہے تو ہم مانتے ہیں کہ رب یہ فرماتا ہے۔ ہم اللہ کو رب اس لیے مانتے ہیں کہ محمد الرسول اللہ ﷺ نے ایسا کہا۔ وہ ہمارے سالارِ قافلہ ہیں، ان ﷺ کا کہا ہمارا جزوِ ایمان۔ انہوں ﷺ  نے کہا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے تو ہم مانتے ہیں کہ قرآن اللہ ہی کا کلام ہے۔

محمد الرسول اللہ ﷺ کی سیرت لکھنے کا باسعادت کام بہت سے علماء نے سرانجام دیا۔ اور آج بھی یہ کام جاری و ساری ہے۔ ان ﷺ کے زندگی کو پڑھنا، ان کے حالات کو جاننا ہمیں ان ﷺ کی پیروی کرنے، ان جیسا بننے کی کوشش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سیرت الرسول ﷺ ایسا بابرکت شعبہ ہے کہ اسلامی تواریخ میں باقاعدہ ایک اہم ترین صنف بن کر ابھرا۔ لیکن سیرت الرسول ﷺ پر صرف مسلم علماء نے ہی نہیں، غیر مسلموں نے بھی بے تحاشا کام کیا۔ بحیثیت قاری میں نے سیرت النبی ﷺ کی ایک آدھ کتاب کا ہی مطالعہ کیا ہو گا۔ لیکن اپنے مشاہدے اور کتب سیرت بارے مطالعہ سے یہ بات ضرور جانتا ہوں کہ مسلمان مصنفین سیرت النبی ﷺ لکھتے ہوئے ایک خاص تقدس اور احترام ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں۔ ان کا یہ طرزِ عمل عین درست ہے چونکہ انہوں نے جن قارئین کے لیے یہ لکھنا ہے وہ بھی حبِ رسول ﷺ کے دعوے دار ہوتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کو جاننا ہو تو کسی نسبتاً دیانت دار اور غیر جانبدار مستشرق کی لکھی ہوئی سیرت بھی پڑھی جائے۔ چونکہ ایسا مصنف ایک مختلف پسِ منظر سے آتا ہے، وہ نبی کریم ﷺ کی ذات کو اپنے مذہبی، سماجی اور ثقافتی آئینے میں دیکھتا ہے، اپنی تہذیب اور روایات کی روشنی میں پرکھتا ہے، اس طرح ہمارے سامنے نبی ﷺ کی ذات کے وہ پہلو بھی سامنے آتے ہیں جو مسلم مصنفین عقیدت و احترام اور مانوسیت کی وجہ سے نظر انداز کر جاتے ہیں۔ نبی ﷺ کی ذات والا صفات بارے کسی غیر مسلم کی تحریر ہمیشہ مجھے کشش کرتی ہے۔ جب کوئی ایسا مصنف چاہے ان ﷺ کو نبی اور رسول نہ بھی مانے، لیکن جب وہ ان ﷺ کے کردار، اخلاق اور اعلٰی انسانی صفات کا اقرار کرتا ہے تو اس سے میرا ایمان ان ﷺ کی ذات پر اور بڑھ جاتا ہے کہ وہ واقعی بہترین اخلاق کے مالک تھے۔

میں اپنے قارئین سے بھی درخواست کروں گا کہ نبی ﷺ کی سیرت پڑھنی ہو تو کم از کم کسی ایک غیر مسلم مصنف کی سیرت ضرور پڑھیں۔ ہاں یہ خیال کر لیں کہ مصنف مناسب حد تک دیانت دارانہ رائے دینے کے لیے معروف ہے، چونکہ بعض مستشرقین انتہائی منفی رجحان بھی رکھتے ہیں۔ اس سے فائدہ ہو گا کہ ہمارے علماء اور مصنفین کی تحریر کردہ کتب سیرت سے جو مانوسیت اور تقدس کا ہالا بن جاتا ہے، اس کے پار ایک تیسری آنکھ سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اور کچھ ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جن سے نبی ﷺ کو بطور انسان جاننے میں کچھ مدد ملتی ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر حمید اللہ کی کتب جو انہوں نے غیر مسلموں سے نبی ﷺ کا تعارف کروانے کے لیے لکھیں بھی قابلِ توجہ ہیں۔ اگرچہ مجھے ان میں سے کوئی بھی کتاب پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا، لیکن ڈاکٹر صاحب نے ایک داعی کے نقطہ نظر سے وہ کتب لکھیں، اس لیے ان کے قارئین غیر مسلم تھے۔ چنانچہ ان سے ہمیں نبی ﷺ کو ایک اور انداز میں جاننے کا موقع مل سکتا ہے۔ اسی حوالے سے ایک برطانوی یہودی مصنفہ لیزلی ہیزلیٹن کی سیرت النبی ﷺ پر کتاب دی فرسٹ مسلم بھی قابلِ توجہ ہے۔ مصنفہ معقول حد تک غیر جانبداری سے نبی ﷺ کی زندگی کے واقعات بیان کرتی ہے۔ اور آج کل مجھے اس کتاب کا اردو ترجمہ 'اول المسلمین' ایک دوست بلاگر برادرم عمر احمد بنگش کے توسط سے پڑھنے کو مل رہا ہے۔ ماشاءاللہ ان کی ترجمے کی صلاحیتیں بھی قابلِ داد ہیں، لیکن اصل خوشی یہ ہو رہی ہے کہ ایک غیر مسلم مصنفہ بھی نبی ﷺ پر لکھے تو ان کے اعلٰی کردار اور اخلاق کی تعریف پر خود کو مجبور پاتی ہے۔ نیز اس کا اندازِ تحریر، جو یقیناً ہمارے ہاں لکھی گئی کتب سیرت سے قطعاً مختلف نوعیت کا ہے، مجھے نبی ﷺ اور اس وقت کے عرب سماج کو سمجھنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس کے لیے میں مصنفہ اور مترجم ہر دو کا شکر گزار ہوں۔ آپ احباب سے بھی گزارش ہے کہ نبی ﷺ کی سیرت ویسے تو ہمارے نصاب کا لازمی حصہ ہے، لیکن خود بھی دو تین کتب سیرت ضرور پڑھیں۔ اور ان میں سے کم از کم ایک کسی غیر مسلم مصنف کی تحریر کردہ ہو تاکہ آپ کو نبی ﷺ کے کردار، اعلٰی اخلاق اور بحیثیت انسان ان کی عظمت کا احساس ایک اور نقطہ نظر سے بھی ہو سکے۔
(آواز دوست سے)

میرے بچے اور کمائی‘ خود اغوا ہوئے


نذیر ناجی
ہمارے تو وزیر اعظم کئی کئی دن لاپتہ رہتے ہیں۔ ہم گمشدہ بچوں کے بارے میں کیا بات کریں؟ میڈیا والے‘
 پولیس کو گمشدگیوں کا ذمے دار قرار دے کر‘ اس پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کرتے ہیں۔کسی پر تہمت لگانے سے پہلے سوچ لینا چاہئے کہ کیا وہ شخص یا ادارہ‘ ان واقعات کا ذمے دار بھی ہے؟ جس کی بنیاد پر پولیس کو ہر کوئی ذمہ دار ٹھہرا دیتا ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے پولیس کے بنیادی فرائض یہ ہیں کہ وی آئی پیز کی حفاظت کرے۔ انہیں اغوا کنندگان سے بچائے۔ ان کے ساتھ کوئی شرارت نہ کر پائے۔ چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رکھے۔ عوام میں کئی سرپھرے‘ وی آئی پیزکو دیکھتے ہی اپنا گلا درست کر کے ان کے خلاف بلا وجہ نعرے لگانے لگتے ہیں۔ جو کام وی آئی پیز کی ذمے داریوں میں شامل نہیں‘ اس کے حوالے سے الزام تراشیاں کرتے ہیں۔ سبزی مہنگی ہو تو ذمے دار‘ وی آئی پی۔آٹا مہنگا ہو تو ذمے دار‘ وی آئی پی ۔ خواتین کا میک اپ خراب ہو جائے تو ذمے دار وی آئی پی۔ حد تو یہ ہے کہ لوگ علما کرام پر بھی ایسے الزامات لگانے لگے ہیں۔ مفتی عبدالقوی کو ہی دیکھ لیں۔ کیا میڈیا والوں کو زیب دیتا تھا کہ ایسے پا ک باز انسان پر بے ہودہ الزام لگائے جاتے۔ ایک زمانہ تھا کہ مفتی صاحب کے حجرے سے کوئی خوب صورت ماڈل برآمد ہو بھی جاتی تو عقیدت مند یہی سمجھتے کہ مفتی صاحب‘ برآمد ہونے والی ماڈل کو نیک چلنی کا سبق دے رہے ہوں گے۔ پردے کی اہمیت سمجھا رہے ہوں گے۔ بندوں کے حقوق جتلا رہے ہوں گے۔ ایک زمانہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ماڈل کو گناہ سے تائب ہونے پر مائل کیا اور وہ‘ مفتی صاحب کے حجرے میں پہنچ کر ان سے دعا کی طالب ہوئی کہ اس کے حق میں دعا کریں ۔وہ گناہ کا راستہ ترک کر کے‘ اچھی زندگی گزارنا شروع کر دے۔ غالباً مفتی صاحب ہی کی ہدایت اور رہنمائی کی برکت تھی کہ مذکورہ ماڈل نے اپنے خاندان کی طرف رجوع کیا‘ لیکن اس کے بھائی ایسے بے ہدایت نکلے کہ اپنی بہن ہی کی جان لینے کے درپے ہو گئے۔ سزا کے حق دار مرحومہ کے بھائی قرار پائیں گے کیونکہ مرحومہ نے بری زندگی چھوڑ کے‘ اچھی زندگی کے لئے‘ خدا کے ایک نیک بندے کی طرف رجوع کیا ۔ا س کہانی سے استفادہ کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس میںپوشیدہ سبق حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ 
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ پولیس والوں کا کام ہی‘ وی آئی پیز کی حفاظت کرنا ہے۔ انہیں بے راہ روی سے بچانا ہے۔ان پر نظر رکھنا ہے کہ وہ محافظوں سے نظر بچا کر‘مفتی عبدالقوی کی طرح نہ دھر لئے جائیں۔پولیس کی ڈیوٹی ‘خدا کی طرف سے بندوں کی کڑی آزمائش ہے۔ لیکن میڈیا انہیں نیکی اور پاک بازی کے راستے پر چلنے نہیں دیتا۔ بچے ناراض ہو کر یا آوارگی کا راستہ اختیار کر کے‘ خود گھروں سے بھاگتے ہیں اور الزام پولیس پر لگا دیا جاتا ہے کہ وہ ان بچوں کو تلاش نہیں کرتی۔ میرے ذہن میں برے برے خیالات آرہے ہیں۔ فرض کیا مفتی صاحب کی حفاظت کرنے اور ان پر نظر رکھنے کے لئے پولیس کی ایک گارد کی ڈیوٹی لگائی جائے اور گارد کے جوان‘ اپنی ڈیوٹی ادا کرتے ہوئے‘ مفتی صاحب کے تخلیے میں جا دھمکیں تو ان پر کیسی کیسی تہمتیں لگائی جاتیں؟ حالانکہ وہ بیچارے فرض کے ہاتھوں مجبور ہو کر‘اپنی خواہش کے خلاف مفتی صاحب پر ''نظر ‘‘ رکھنے کا فرض ادا کرنے کی غرض سے اس کمرے میں گئے تھے۔ ہم اپنی پولیس کو جانتے ہیں۔ نیکی کا راستہ بار بار اس کے سامنے آتا ہے مگر کیا مجال ہے کہ پولیس والے ‘اس راستے پر قدم رکھیں۔بچوں کے اغوا کے واقعات کتنے دردناک اور تکلیف دہ ہیں؟ پولیس چاہے تو بچے کواغوا کرنے والے بدمعاشوں سے‘ چند ہی دنوں میں بازیاب کرا کے‘ انہیں والدین تک پہنچا سکتی ہے۔ آپ نے متعدد پولیس افسروں کے بیانات میں فرض شناسی کا جذبہ دیکھا ہو گا۔آج ہی ایک فرض شناس پولیس افسر کا یہ بیان دیکھنے میں آیا کہ ایک باپ مبینہ طور پر اپنے اغوا شدہ بچے کو ڈھونڈتا ہوا پولیس کے پاس پہنچا۔ پولیس اسے تھانے کے اندر ''خاطر مدارات‘‘ کے لئے مخصوص کمرے میں لے گئی۔اس کمرے کے اندر ‘حواس باختہ باپ کی ''اصلاح‘‘ کی گئی اور کمرے سے باہر نکلتے ہی وہ باپ یہ کہتا ہواپایا گیا کہ '' میرا بچہ خود ناراض ہو کر گھر سے بھاگا ہے‘‘۔پولیس افسر نے ‘حواس باختہ باپ کا یہ بیان اپنی نگرانی میں میڈیا کے سامنے پیش کیا اور ثابت کر دیا کہ اگراغوا شدہ بچے کا باپ‘ اپنے منہ سے یہ کہہ دے کہ وہ ناراض ہو کر گھر سے بھاگا ہے تو سارے مسائل ختم ہو گئے۔ پولیس نے اپنا فرض ادا کر دیا۔اگر قارئین میں سے کسی کو اس باپ کی حالت دیکھنے کا موقع ملا ہو‘ جو بدحواسی کے عالم میں یہ کہہ رہا تھا کہ'' مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی۔ میرا سر چکرا رہا ہے۔میرا بیٹا ناراض ہو کر‘ خود ہی گھر سے چلا گیا تھا‘‘۔گویا باپ اقرار کر رہا تھا کہ میرا بچہ گھر سے ناراض ہو کر نکلا تھا۔ خدا اسے خود ہی بازیاب کر دے گا۔ خدا ہمیشہ پولیس والوں کی مدد کرتا ہے۔
ہمارے حکمرانوں میں جتنے بھی لیڈر‘ قائدین اور رہنما‘ ہمارے سامنے زندہ سلامت پھر رہے ہیں۔ یہ صرف پولیس والوں کی مہربانی ہے اور پولیس والوں پر خدا کا کرم ہے کہ وہ اپنی ذمے داریاں‘ نہایت خلوص نیت کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔ اپنے فرائض نبھا رہے ہیںاور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عوام ان لیڈروں کے لئے کیا کیا دعائیں کر رہے ہیں؟شاید پولیس والے یہ سوچتے ہوں کہ عوام اپنے لیڈروں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عوام کے جس جس محبوب لیڈر نے جتنی دولت بھی کمائی ہے‘ وہ حریص اور لالچی پاکستانیوں کے برے ارادوں سے بچی رہے۔ کوئی اس پر ہاتھ نہ مارے۔ کوئی اسے لوٹ نہ پائے۔ہمارے ارباب اقتدار اگر پاناما جیسے دور افتادہ مقامات پر عوام کی دولت ‘ان سے چھین کر محفوظ نہ کریں‘ تو پاکستان کنگال ہو جائے۔ حکومت پاکستان نے کرپٹ رہنمائوں کے لئے‘ ایسے ایسے قوانین بنا دئیے ہیں کہ جو رہنما کرپشن کے ذریعے جتنی زیادہ دولت جمع کرتا ہے‘ اسے اتنا ہی تحفظ دیا جاتا ہے۔ہمارے جو ادارے ناجائز دولت کمانے والوں کو پکڑنے پر مامور ہیں‘ اگر انہیں یہ شکایت ملے کہ فلاں شخص نے ناجائز دولت جمع کی ہے اور ادارے کے افسران یہ رپورٹ لکھ دیں کہ گرفت میں آیا ہوا شخص‘ بے گناہ ہے تو قوم کو ڈانٹ کر بتایا جاتا ہے کہ ہم نے اسے ایک مرتبہ بے گناہ قرار دے دیا ہے۔ اب کوئی بد زبان اس پر الزام نہ لگائے۔ اس کے پاس جتنی بھی دولت ہے‘ آئندہ ہم اس کی حفاظت کریں گے اور سچی بات ہے کہ وہ قول کے پکے ہیں۔ اختیارات اور اتھارٹی رکھنے والے کتنے لوگوں نے کرپشن کر کے‘ اتنی دولت جمع کی ہے ‘ وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئی۔دنیا میں بڑے بڑے دولت مندوں نے مل کر جو قواعد و ضوابط طے کئے ہیں ‘ ان کے تحت جتنی بھی ناجائز دولت یکجا کر کے‘ مشترکہ تحفظ میں دے دی گئی ہے ‘ اسے وہ شخص زندگی بھر آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا‘ جس سے یہ چھینی گئی ۔پاکستان میں جتنے لوگوں سے لوٹ کر یہ دولت جمع کی گئی‘ ان کی اکثریت دھکے کھاتی پھر رہی ہے۔اس کے جوتے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ کپڑے پھٹے ہوئے ہیں۔سانس پھولی ہوئی ہے۔ پسلیوں کی ہڈیاں باہر نکلی ہوئی ہیں۔ ایسی دولت پاکستان کے پندرہ بیس خاندانوں کے پاس ہو گی۔اس کی حفاظت کا انتہائی تسلی بخش نظام بنا دیا گیا ہے۔اپنی اغوا شدہ کمائی اور اغوا شدہ بچوں کو‘ بے چارگی کے عالم میں ڈھونڈنے والے غریب پاکستانیوں کے پاس ‘ایک ہی راستہ ہے کہ مدد کے لئے پولیس کے پاس جائیں اور پولیس ان سے یہ بیان دلوائے کہ '' میرا بچہ ناراض ہو کر گھر سے بھاگا ہے اور میرا پیسہ‘ میری جیب سے اچھل کر‘ حکمرانوں کے قدموں میں گرا ہے۔ یہاں میرے اختیار میں کچھ نہیں۔ میرے بچے بھی اور خون پسینے کی کمائی بھی‘‘۔ 
(روزنامہ دنیا)

سبق آموز باتیں : ‏ایک‬ راز




بہت عرصہ مجھے اس راز کا پتہ ہی نہ چل سکا کہ ‫ماں‬ کو میرے آنے کی خبر کیسے ہو جاتی ہے۔ میں سکول سے آتا تو دستک دینے سے پہلے دروازہ کھل جاتا۔ کالج سے آتا تو دروازے کے قریب پہنچتے ہی ماں کا خوشی سے دمکتا چہرہ نظر آ جاتا۔
وہ پیار بھری مسکراہٹ سے میرا استقبال کرتی، دعائیں دیتی اور پھر میں صحن میں اینٹوں سے بنے چولہے کے قریب بیٹھ جاتا۔
ماں گرما گرم روٹی بناتی اور میں مزے سے کھاتا ۔
جب میرا پسندیدہ کھانا پکا ہوتا تو ماں کہتی چلو مقابلہ کریں۔
یہ مقابلہ بہت دلچسپ ہوتا تھا۔
ماں روٹی چنگیر میں رکھتی اور کہتی اب دیکھتے ہیں کہ پہلے میں دوسری روٹی پکاتی ہوں یا تم اسے ختم کرتے ہو۔ ماں کچھ اس طرح روٹی پکاتی ... ادھر آخری نوالہ میرے منہ میں جاتا اور ادھر تازہ تازہ اور گرما گرم روٹی توے سے اتر کر میری پلیٹ میں آجاتی۔
یوں میں تین چار روٹیاں کھا جاتا۔
لیکن مجھے کبھی سمجھ نہ آئی کہ فتح کس کی ہوئی!
ہمارے گھر کے کچھ اصول تھے۔ سب ان پر عمل کرتے تھے۔
ہمیں سورج غروب ہونے کے بعد گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے لاھور میں ایک اخبار میں ملازمت ایسی ملی کہ میں رات گئے گھر آتا تھا۔
ماں کا مگر وہ ہی معمول رہا۔
میں فجر کے وقت بھی اگر گھر آیا تو دروازہ خود کھولنے کی ضرورت کبھی نہ پڑی۔
لیٹ ہو جانے پر کوشش ہوتی تھی کہ میں خاموشی سے دروازہ کھول لوں تاکہ ماں کی نیند خراب نہ ہو لیکن میں ادھر چابی جیب سے نکالتا، ادھر دروازہ کھل جاتا۔
میں ماں سے پوچھتا تھا.... آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں آ گیا ہوں؟
وہ ہنس کے کہتی مجھے تیری خوشبو آ جاتی ہے۔
پھر ایک دن ماں دنیا سے چلی گئی !
ماں کی وفات کے بعد ایک دفعہ میں گھر لیٹ پہنچا، بہت دیر تک دروازے کے پاس کھڑا رہا، پھر ہمت کر کے آہستہ سے دروازہ کھٹکٹایا۔ کچھ دیر انتظار کیا اور جواب نہ ملنے پر دوبارہ دستک دی۔ پھر گلی میں دروازے کے قریب اینٹوں سے بنی دہلیز پر بیٹھ گیا۔
سوچوں میں گم نجانے میں کب تک دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا رہا اور پتہ نہیں میری آنکھ کب لگی۔ بس اتنا یاد ہے کہ مسجد سےاذان سنائی دی، کچھ دیر بعد سامنے والے گھر سے امّی کی سہیلی نے دروازہ کھولا۔ وہ تڑپ کر باہر آئیں۔
انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور بولی پتر! تیری ماں گلی کی جانب کھلنے والی تمہارے کمرے کی کھڑکی سے گھنٹوں جھانکتی رہتی تھی۔ ادھر تو گلی میں قدم رکھتا تھا اور ادھر وہ بھاگم بھاگ نیچے آ جاتی تھیں۔
وہ بولی پتر تیرے لیٹ آنے، رات گئے کچن میں برتنوں کی آوازوں اور شور کی وجہ سے تیری بھابی بڑی بڑ بڑ کیا کرتی تھی کیونکہ ان کی نیند خراب ہوتی تھی۔
پھر انہوں نے آبدیدہ نظروں سے کھڑکی کی طرف دیکھا اور بولیں "پتر ھن اے کھڑکی کدے نیئں کھلنی"۔
کچھ عرصہ بعد میں لاھور سے اسلام آباد آ گیا جہاں میں گیارہ سال سے مقیم ہوں۔
سال میں ایک دو دفعہ میں لاھور جاتا ہوں۔
میرے کمرے کی وہ کھڑکی اب بھی وہاں موجود ہے۔
لیکن ماں کا وہ مسکراہٹ بھرا چہرہ مجھے کبھی نظر نہیں آیا۔
ماں باپ کے سایہ کی بے قدری مت کر اے نادان
دھوپ بہت کاٹے گی جب شجر کٹ جائیگا
‏گل_زادی‬

سبق آموز باتیں : ”کونسی جنس خریدوں جس میں بہت نفع ھو ”




ایک بار جناب بہلول کسی نخلستان میں تشریف رکھتے تھے - ایک تاجر کا وھاں سے گذر ھوا --- وہ آپ کے پاس آیا اور سلام کر کے مودب سامنے بیٹھ گیا اور انتہائی ادب سے گذارش کی.. " حضور ! تجارت کی کونسی ایسی جنس خریدوں جس میں بہت نفع ھو.. "
جناب بہلول نےفرمایا.. " کالا کپڑا لے لو.. "
تاجر نے شکریہ ادا کیا اور الٹے قدموں چلتا واپس چلاگیا.. جا کر اس نے علاقے میں دستیاب تمام سیاہ کپڑا خرید لیا..
کچھ دنوں بعد شہر کا بہت بڑا آدمی انتقال کر گیا.. ماتمی لباس کے لئے سارا شہر سیاہ کپڑے کی تلاش میں نکل کھڑا ھوا.. اب کپڑا سارا اس تاجر کے پاس ذخیرہ تھا.. اس نے مونہہ مانگے داموں فروخت کیا اور اتنا نفع کمایا جتنا ساری زندگی نہ کمایا تھا اور بہت ھی امیر کبیر ھو گیا..
کچھ عرصے بعد وہ گھوڑے پر سوار کہیں سے گذرا.. جناب بہلول وھاں تشریف رکھتے تھے.. وہ وہیں گھوڑے پر بیٹھے بولا.. " او دیوانے ! اب کی بار کیا لوں.. ؟"
بہلول نے فرمایا.. " تربوز لے لو.. "
وہ بھاگا بھاگا گیا اور ساری دولت سے پورے ملک سے تربوز خرید لئے.. ایک ہی ہفتے میں سب خراب ہو گئے اور وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گیا..
اسی خستہ حالی میں گھومتے پھرتے اس کی ملاقات جناب بہلول سے ھوگئی تو اس نے کہا.. " یہ آپ نے میرے ساتھ کیا کِیا..? "
جناب بہلول نے فرمایا.. " میں نے نہیں ' تیرے لہجوں اور الفاظ نے سب کیا.. جب تونے ادب سے پوچھا تو مالا مال ہوگیا.. اور جب گستاخی کی تو کنگال ہو گیا.. "
اس کو کہتے ہیں...
باادب با نصیب.. بے ادب بے نصیب..!!
(حضرت سجن سائیں کے فیس بک وال سے)

سندھ میں ’’طاقت کا سرچشمہ ‘‘کون ؟


اثر چوہان
بزرگ قائم علی شاہ سبکدوش ہوگئے اور نوجوان مراد علی شاہ آگئے۔ شاعر نے تو بہت پہلے ہی کہہ دِیا تھا کہ؎
’’ یونہی آباد ،رہے گی دُنیا
ہم نہ ہونگے ، کوئی ہم سا ہوگا‘‘
لیکن قائم علی شاہ کے جانے اور مُراد علی شاہ کے آنے کا مطلب ہے کہ ؎
’’ اپنی خوشی سے آئے ، نہ اپنی خوشی چلے‘‘
29 جولائی کو مَیں نے مختلف نیوز چینلوں پر سندھ اسمبلی کے ایوان میں قائم علی شاہ کو خَر خَر خراٹے لیتے اور نوجوان مُراد علی شاہ کو فَر فَر ۔ رٹا رٹایا سبق سُناتے دیکھا اور سُنا تو مجھے پنجابی زبان کا یہ اکھان یاد آیا کہ ۔ ’’ بٹیرے نئیں ، استاداں دے ہتّھ لڑ دے نیں‘‘ اور اُن اُستادوں کے ہاتھ تو بہت ہی لمبے ہوتے ہیں جو سمندر پار بیٹھ کر بھی اپنے بٹیروں کو لڑاتے ہیں ۔ جنابِ ذوالفقار علی بھٹو اور اُن کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو پارٹی اور حکومت چلانے کے معاملات میں ’’لا شریک ‘‘تھیں لیکن حالات نے جنابِ آصف زرداری، بلاول بھٹو اور محترمہ فریال تالپور کی "Trinity" بنا کر اُن کا دائرہ اختیار بہت ہی مختصر اورمحدود کردِیا۔
ایوان میں نویں نویلے نوجوان وزیراعلیٰ مُراد علی شاہ کی "Performance" کو دیکھ کر مجھے 1953ء میں پنجابی فلم ’’ شہری بابو ‘‘ یاد آگئی۔ بمبئی اور لاہور کی فلموں میں ہِیرو کا کردار انجام دینے والے ادھیڑ عُمر ہدایت کار اور فلمساز نذیر کے چہرے پر جب بہت سے ’’ چِب‘‘ پڑ گئے تو وہ اپنی ادھیڑ عُمر بیوی سؤرن لتا کو ہیروئن بنا کر نو خیز "Choclate Hero" سنتوش کمار کو مقابلے پر لے آئے۔ فلم ’’ شہری بابو‘‘ باکس آفس پر ہِٹ ہوگئی تھی لیکن نئے وزیراعلیٰ مُراد علی شاہ ’’مقابلہ سخت اور وقت کم ہے ‘‘ کی پوزیشن میں ہیں ۔ اب کیا کِیا جائے کہ اُن کے اقتدار کی مدّت صِرف 22 ماہ ہے ۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان تِیر ہے لیکن اِس مُدّت میں مُراد علی شاہ کون سا تِیر مار لیں گے ؟۔ جناب فیض احمد فیضؔ نے شاید اُن کے لئے ہی کہا تھا کہ ؎
’’ اِک فرصتِ گُناہ مِلی، وہ بھی چار دِن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے، پروردگار کے‘‘
بہرحال مُراد علی شاہ خُوش قِسمت ہیں کہ اُنہیں پارٹی کی "Trinity" کی شفقت حاصل ہے اور اُن کا نامِ نامی اور اسمِ گرامی بھی تاریخ سندھ میں کسی نہ کسی رنگ کے حروف سے ضرور لِکھا جائے گا ۔ اُستاد رشکؔ نے کہا تھا ؎
’’ بہار کے لئے بُلبل کا حوصلہ دیکھو!
ہزار رنگ کے ، گُل کھائے ، چار دِن کے لئے‘‘
تصّوف میں ترقی کے لئے مُرید ہر وقت اپنے مُرشد کے دھیان میں رہے تو اُسے ’’ فنا فی الشیخ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ بعض سیاسی خواتین و حضرات بھی اپنے قائدین کے دھیان میں رہتے ہیں اور اُن کے بعد اُن کی اولاد کے بھی ۔6 جنوری 2015ء کو پارلیمنٹ نے دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے آئین میں 21 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دئیے گئے ۔ اُس روز پیپلز پارٹی کے سینیٹر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ ’’50 سال تک فوجی عدالتوں کی مخالفت کرنے والا اعتزاز احسن آج فوت ہوگیا ہے‘‘۔ پیپلز پارٹی کے ایک اور سینئر راہنما میاں رضا ربانی نے آبدیدہ ہو کر کہا تھا کہ ’’ میرا ووٹ میری پارٹی ( دراصل جنابِ زرداری ، بلاول بھٹو اور محترمہ فریال تالپور) کی امانت تھی لیکن مَیں نے اپنے ضمیر کے خلاف ووٹ دے دِیا‘‘۔ بہت ہی مشکل کام تھا میاں رضا ربانی کا اپنے ضمیر کے خلاف ووٹ دینا ۔ میاں صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ مَیں آج اتنا شرمندہ ہُوں کہ پہلے کبھی نہیں ہُوا‘‘۔
بیرسٹر اعتزاز احسن تو خیر عہدوں کے پیچھے نہیں بھاگتے اور نہ ہی جنابِ زرداری اُنہیں بھگاتے ہیں لیکن میاں رضا ربانی نے اپنے ضمیر کے خلاف ووٹ دِیا تو جنابِ زرداری نے اُنہیں سینٹ کی چیئرمین شِپ عطاء کردی پھر صدرِ مملکت کی ملک سے غیر حاضری میں میاں صاحب قائمقام صدر مملکت بھی بنے رہے ۔ قائم علی شاہ بھی ؎
’’ جُھکنے والوں نے رفعتیں پائیں!‘‘
کے فلسفے پر عمل کرتے ہُوئے 9 سال تک بالائے بام ہی رہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کے جنابِ زرداری کی وزرائے اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور مُراد علی شاہ اور پنجاب میں بھٹو دَور میں پیپلز پارٹی کے دو سابق وزرائے اعلیٰ محمد حنیف رامے اور نواب محمد صادق قریشی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں لیکن 15 جولائی 1975ء کو جب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے متوسط طبقے کے ، ادیب ، دانشور اور پیپلز پارٹی کے بانی رُکن وزیراعلیٰ جناب محمد حنیف رامے کو ہٹا کر اُن کی جگہ ملتان کے جاگیردار نواب صادق حسین قریشی کو وزیراعلیٰ مقرر کِیا تو اُن کے بعد پنجاب میں پیپلز پارٹی کو اپنا وزیراعلیٰ لانا نصیب نہیں ہُوا۔لاہور میں جنابِ زرداری کا بم پروف ’’بلاول ہائوس ‘‘بنانے کے بعد بھی۔
مُراد علی شاہ کِتنی مُدّت تک وزیراعلیٰ سندھ کی حیثیت سے "Perform" کریں گے ۔ اِس کاانحصار صِرف جنابِ آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور محترمہ فریال تالپور کی "Sweet Will" پر نہیں نہ جانے دستِ قُدرت یا کوئی اور دست کسی اور کے دائیں ہاتھ پر وزارتِ عُلیّہ کی لکیر کھینچ کر اُسے با مُراد بنا دے؟۔
جنابِ بھٹو نے 30 نومبر 1967ء کو چیئرمین شِپ میں لاہور میں پیپلز پارٹی بنائی تو اُس کا ایک رہنما اصول تھا کہ ’’ طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں ‘‘۔ مَیں دوسرے حکمرانوں کے دَور کی بات نہیں کرتا لیکن جنابِ بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو اور جنابِ زرداری کے ادوار میں عوام کو طاقت کا سرچشمہ نہیں سمجھا گیا اور نہ ہی بننے دِیا گیا ہے ۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ اپنے اِس ’’ راہنما اصول‘‘ سے منحرف ہونے پر جنابِ بھٹو، بے نظیر بھٹو اور اُن کے دونوں بھائیوں شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کو غیر فطری موت کا سامنا کرنا پڑا۔
جب تک کوئی معجزہ نہ ہو جائے جنابِ زرداری وطن واپس آنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ’’ بھٹو ازم‘‘ کوشکست ہو چکی ہے۔ سندھ میں دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز، اغواء کاروں اوربھتہ خوروںکو صرف رینجرز ہی نکیل ڈال سکتے ہیں۔ اگر صِرف سندھ پولیس ہی جرائم پیشہ لوگوں اور اُن کے سہولت کاروں کا قلع قمع کرسکتی تو کیا ہی بات تھی۔ ایم کیو ایم نے مُراد علی شاہ کے مقابلے میں اپنا امیدوار کھڑا کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف خیال کِیا۔ کیا کروڑوں لوگوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی ’’ پاکستان بنانے والوں کی اولاد ‘‘ کو اب صِرف لندن میں خاموش بیٹھے اپنے قائد اورکراچی میں زیرِ حراست/ زیر تفتیش قائدین کے لئے ہمدرانہ بول بولنے کے سِوا کوئی اور کام نہیں؟۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار جناب خرم شیر زمان ؎
’’ مُقابلہ تو دِل ناتواں نے خُوب کِیا؟‘‘
کی تفسیر بن گئے۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان ایم کیو ایم کے کوٹے میں گورنر سندھ بنائے گئے تھے ۔ وہ اب کِس کے کوٹے میں لاٹ صاحب بنے ہُوئے ہیں؟ ایسے حالات میں سندھ اور خاص طور پر کراچی کے دہشت زدہ لوگ اور مسائل زدہ عوام کِس کا دروازہ کھٹکھٹائیں؟۔ کون ہے طاقت کا وہ سر چشمہ جو کمزور ، بے سہارا اورمفلوک اُلحال لوگوں کی فریاد سُنے گا؟۔ کیا مُراد علی شاہ کی لچھے دار تقریر یا ہر رات انہیں ’’ سائیں زرداری دُور کے ‘‘ قِسم کی لوری سُنا کر سلایا جاسکے گا؟۔ کوئی تو بتائے کہ کون ہے سندھ میں طاقت کا سر چشمہ؟۔
(روزنامہ نوائے وقت)