ہفتہ، 30 جولائی، 2016

زندہ تحریریں : مرد


پدر سری معاشروں میں مرد ایک مظلوم جانور کا نام ہے۔ معاشرہ اس کی کچھ ایسی تربیت اور کردار سازی کرتا ہے، اس کے اوپر کنکریٹ کا کچھ ایسا لیپ کرتا ہے کہ وہ دُور سے "مردِ آہن" اور "سنگ دل" نظر آتا ہے۔ اپنے معاشرتی کردار سے مجبور ہو کر وہ مروّجہ رسوم و رواج کی پیروی کرتا ہے، صنفِ مخالف کو دباتا ہے، طرح طرح سے اپنی بڑائی اور طاقت کا اظہار کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں اسی معاشرے کے ترقی پسند لبرل حلقوں کی جانب سے بھی گالیاں کھاتا ہے۔

مرد کے مروجہ معاشرتی کردار کو عطاء کردہ ایک صفت "مرد روتا نہیں ہے"، "کیا عورتوں کی طرح ٹسوے بہا رہے ہو"، "مرد بنو مرد"، "تم اب بچے نہیں ہو" جیسے جملوں کی صورت میں زبان میں ظاہر ہوتی ہے۔ آنسو بہانا انسان کے بنیادی خصائل میں سے ایک ہے۔ انسان جب جذبات سے اوور لوڈ ہو جاتا ہے، جب دل و دماغ میں اُبال آتا ہے تو پانی آنکھوں کے راستے چھلک پڑتا ہے۔ یہ اُبال کبھی خوشی کی وجہ سے ہوتا ہے، اور کبھی غم کی وجہ سے۔ پدرسری معاشروں میں مرد کو عطاء کردہ معاشرتی کردار یا سماجی سانچے میں آنسو بہانے والا مرد فِٹ نہیں بیٹھتا۔ نتیجتاً ایسے مردوں کے سماجی کردار یا ان کی "مردانگی" پر سوال اُٹھایا جاتا ہے۔

فیس بک پر ایک تحریر پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ انسان آج کے دور میں اتنی مواصلاتی سہولیات کے باوجود تنہا ہے، تو اس میں مرد ذات کی تنہائی عورت ذات کی نسبت زیادہ ہے۔ ایک پدر سری معاشرے کا پروردہ مرد جسے اوور لوڈ ہو کر اپنا جذباتی بوجھ ڈمپ کرنے کی اجازت نہیں ہے، جو انتہائی خوشی اور انتہائی غمی کے موقع پر عزم و ہمت کا پیکر نظر آنے کی توقعات تلے پِسا چلا جاتا ہے، جسے پنجابی کلچر کا وڈّا بن کر دکھانا ہوتا ہے؛ اس مظلوم مخلوق سے بڑھ کر تنہائی اور کس کے نصیب میں ہو گی۔ اوپر سے طاقتور، مطمئن، اور پُر سکون نظر آنے والا مرد اندر سے کتنا ناتواں، برانگیختہ اور بے چین ہوتا ہے، یہ پہلو وہ کم ہی کسی کو دکھا سکتا ہے۔

ایسے میں اگر پالنہار سے اس کا رابطہ نہ ہو تو یہ کیفیات شاید ڈپریشن، بلڈ پریشر اور سرطان جیسی بیماریوں کا باعث ہی بنتی ہوں گی۔ باہر سے ٹھنڈا اور اندر سے گرم نظر آنے کی یہ کیفیت پنجابی والا تتّا ٹھنڈا کر دیتی ہے تو چڑھنے والا بخار کسی بند دروازے کے پیچھے نیم ملگجے اندھیرے کمرے کے ایک کونے میں بچھے جائے نماز پر پالنے والے کے سامنے سجدہ ریزے ہونے سے ہی اتر سکتا ہے۔ اس کے سامنے سارے حجاب اُٹھ جاتے ہیں۔ وہ جو شہ رگ سے بھی قریب ہے، اسے سب معلوم ہے۔ اسے اندر باہر چلنے والے ٹھنڈی اور گرم ہر دو طرح کیفیات کا علم ہے۔ اس کے سامنے آ کر معاشرتی کردار، سماجی سانچہ اور اپنے جیسے دو پیروں پر چلنے والوں کی توقعات بھری گڑی نظریں سب کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ "تعلیم" اور "تربیت" کا لبادہ اتار کر جب مخلوق خالق کے سامنے ایک ننگ دھڑنگ، بے چین اور بے قرار، کُرلاتا ہوا بچہ بن کر پیش ہوتی ہے تو پھر کائنات میں صرف دو ہی کردار باقی بچتے ہیں: مخلوق اور خالق۔ اور اس رشتے کے ناتے مخلوق اپنے خالق سے سب کچھ کہہ ڈالتی ہے۔ پہلے پہل الفاظ ساتھ دیتے ہیں، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ لفظوں کے پر جلنے لگتے ہیں، جذبات کے سمندر میں لفظ چھوٹی چھوٹی بے معنی کشتیاں بن کر ڈوبنے لگتے ہیں اور پیچھے صرف آنسوؤں کا جوار بھاٹا رہ جاتا ہے۔ جیسے چودھویں کی رات سمندر بے قرار ہو ہو کر ساحل سے سر پٹکتا ہے، ایسے ہی جذبات بے قرار ہو ہو کر دل و دماغ سے آنکھوں کے ساحل تک پہنچتے ہیں، چھلکتے ہیں، بہہ نکلتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب خالق اور مخلوق کا کنکشن مضبوط ترین ہوتا ہے، سگنل فُل ہوتے ہیں اور تصویر بالکل ٹھیک آ رہی ہوتی ہے۔ مخلوق کا ریسیور اور انٹینا دھل کر صاف ہو جانے سے خالق کے ہونے کا احساس اور اسے حال بتانے کی صلاحیت، ہر دو کیفیات حاصل کر لیتے ہیں۔ تب ان کہی بھی کہی بن جاتی ہے، تب شکوے شکایتیں، اور گِلے بیان ہوتے ہیں۔ تب خالق کی رحمت کا احساس بھی بدر کی طرح اپنی روشنی سے منوّر کر دیتا ہے۔ تب دعائیں، مناجاتیں اور حاجتیں پیش اور قبول ہوتی ہیں۔

اس کیفیت کا طاری ہو جانا بھی اس کی عطاء ہے۔ اور جس پر اس کی عطاء ہوتی ہے وہ کبھی نامراد نہیں رہتا۔ دعا ہے کہ آپ اور مجھے رب العالمین اپنے سامنے ایسے پیش ہونے کی توفیق دیتا رہے۔ آمین
(

آوازِ دوست سے)

طنز و مزاح : "باسی کھانہ "


اماں کو باسی کھانے، پرانے ساگ،اترے ہوئے اچار اور ادھ کھائی روٹیاں بہت پسند تھیں. دراصل وہ رزق کی قدردان تھیں، شاہی دستر خوان کی بھوکی نہیں تھیں
میری چھوٹی آپا کئی مرتبہ خوف زدہ ہو کر اونچی آواز میں چیخا کرتیں!۔ ۔ ۔

" اماں حلیم نہ کھاؤ، پھول گیا ہے. بلبلے اٹھ رہے ہیں"

"یہ ٹکڑا پھینک دیں اماں، سارا جلا ہوا ہے."

" اس سالن کو مت کھائیں، کھٹی بو آرہی ہے"

"یہ امرود ہم نے پھینک دئے تھے، ان میں سے کیڑا نکلا تھا."

" لقمہ زمین سے نہ اٹھائیں، اس سے جراثیم چمٹ گئے ہیں"

" اس کٹورے میں نہ پیئیں ، یہ باہر بھجوایا تھا"

لیکن اماں چھوٹی آپا کی خوف ناک للکاریوں کی پرواہ کئے بغیر مزے سے کھاتی چلی جاتیں. چونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں اس لئے جراثیموں سے نہیں ڈرتی تھیں، صرف خدا سے ڈرتی تھیں ! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

از اشفاق احمد ، صبحانے فسانے ،عنوان اماں سردار بیگم ،

شاعری کی زباں: شبِ ہجراں تھی جو بسَر نہ ہوئی​ (عدیم ہاشمی)


شبِ ہجراں تھی جو بسَر نہ ہوئی
ورنہ کِس رات کی سحر نہ ہوئی
ایسا کیا جرم ہو گیا ہم سے
کیوں ملاقات عُمر بھر نہ ہوئی
اشک پلکوں پہ مُستقل چمکے
کبھی ٹہنی یہ بے ثمر نہ ہوئی
تیری قُربت کی روشنی کی قسم
صُبح آئی مگر سحر نہ ہوئی
ہم نے کیا کیا نہ کر کے دیکھ لیا
کوئی تدبیر کار گر نہ ہوئی
کتنے سُورج نِکل کے ڈُوب گئے
شامِ ہجراں ! تری سحر نہ ہوئی
اُن سے محفل رہی ہے روز و شب
دوستی اُن سے عُمر بھر نہ ہوئی
یہ رہِ روزگار بھی کیا ہے
ایسے بچھڑے کہ پھر خبر نہ ہوئی
اِس قدر دُھوپ تھی جُدائی کی
یاد بھی سایۂ شجر نہ ہوئی
شبِ ہجراں ہی کٹ سکی نہ عدیم
ورنہ کِس رات کی سحر نہ ہوئی
عدیم ہاشمی    
    
                                 
 

شاہ لطیف کی شاعری ؛ سوجھ سمجھ سمندرکی، ہے غواصوں کے پاس،


ايء گت غواصن، جو  سمنڊ سوجهيائون،
پيهي منجهه پاتار جي، ماڻڪ ميڙيائون،
آڻي ڏنائون،  هيرو    لال     هٿن       سين.
سوجھ سمجھ          سمندرکی،   ہے     غواصوں کے   پاس،
جو جاکے اندر پاتال میں،کریں موتیوں کی تلاش،
ہیرے                      ہیں               جو                                  خاص،                         وہ   ہاتھ لگے                     ان               کے۔

گھریلو چٹکلے اور مشورے : صحت نعمت: پوری نیند


عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہماری نیند کی مقدار بھی بدلتی جاتی ہے۔‏ نوزائیدہ بچے دن میں 16 سے 18 گھنٹے سوتے ہیں؛‏ ایک سے تین سال کا بچہ 14 گھنٹے سوتا ہے اور تین یا چار سال کا بچہ 11 یا 12 گھنٹے سوتا ہے۔‏ سکول جانے والے بچوں کو کم‌ازکم 10 گھنٹے،‏ نوجوانوں کو تقریباً 9 یا 10 گھنٹے اور بالغوں کو 7 سے 8 گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔‏
ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم جتنے بھی گھنٹے سوئیں،‏ اُس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔‏ ماہرین کے مطابق بھرپور نیند سونا .‏ .‏ .‏
  • بچوں اور نوجوانوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔‏
  • نئی باتیں سیکھنے اور یاد رکھنے کے لیے ضروری ہے۔‏
  • ہارمونز کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے جو ہمارے وزن اور جسم میں خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے کے عمل پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔‏
  • دل کی صحت کے لیے ضروری ہے۔‏
  • بیماریوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔‏
نیند کا پورا نہ ہونا موٹاپے،‏ ڈیپریشن،‏ دل کی بیماری،‏ شوگر اور جان‌لیوا حادثوں کا باعث بنتا ہے۔‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھرپور نیند سونا کتنا اہم ہے۔‏
لہٰذا اگر آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی نیند پوری نہیں ہوتی تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏
  • ہر روز سونے اور جاگنے کا ایک وقت طے کریں۔‏
  • سوتے وقت اپنے کمرے میں خاموشی اور اندھیرا رکھیں۔‏ کمرا زیادہ ٹھنڈا یا زیادہ گرم نہ ہو۔‏
  • بستر پر لیٹنے کے بعد ٹی‌وی نہ دیکھیں یا موبائل فون وغیرہ اِستعمال نہ کریں۔‏
  • بستر کو آرام‌دہ بنائیں۔‏
  • سونے سے پہلے زیادہ کھانا نہ کھائیں اور چائے،‏ کافی یا شراب نہ پئیں۔‏
  • اگر اِن تمام تجاویز پر عمل کرنے کے بعد بھی آپ کو رات میں اچھی نیند نہیں آتی یا دن کے دوران بہت زیادہ نیند آتی ہے یا پھر نیند کے دوران سانس اُکھڑنے کی وجہ سے آپ اُٹھ بیٹھتے ہیں تو کسی ڈاکٹر سے رُجوع کریں

دل کی کتاب ” مسئلے پہ قابو پانا “


اگر آپ کسی مسئلے پہ قابو پانا چاہتے ہیں تو اس پر بات کرنا بند کردیں۔آپ کی زبان آپکے ذہن اور آپ کا ذہن آپکی زبان کو متاثر کرتاہے!!!

سبق آموز باتیں : پانچ دینار جرمانہ ہوگا۔۔!





ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:

" تمھاری عمر کتنی ہے؟
تاجر نے کہا "20 سال
" تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ "
تا جرنے کہا 70 ہزار دینار
بادشاہ نے پوچھا تمھارے بچے کتنے ہیں؟
تاجر نے جواب دیا: "ایک"
واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔
بادشاہ نے وزیر سے کہا:
"اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس کے پانچ لڑکے ہیں۔"
تاجر نے کہا: زندگی کے 20 سال ہی نیکی اور ایمان داری سے گزرے ہیں، اسی کو میں اپنی عمر سمجھتا ہوں اور زندگی میں 70 ہزار دینار میں نے ایک مسجد کی تعمیر میں خرچ کیے ہیں، اس کو اپنی دولت سمجھتا ہوں اور چار بچے نالائق اور بد اخلاق ہیں، ایک بچہ اچھا ہے، اسی کو میں اپنا بچہ سمجھتا ہوں۔ "
یہ سُن کر بادشاہ نے جرمانے کا حکم واپس لے لیا اور تاجر سے کہا:
"ہم تمھارے جواب سے خوش ہوئے ہیں، وقت وہی شمار کرنے کے لائق ہے، جو نیک کاموں میں گزر جائے، دولت وہی قابلِ اعتبار ہے جو راہِ خدا میں خرچ ہو اور اولاد وہی ہے جس کی عادتیں نیک ہوں.


‏ابن_شسسسسسسسسسسسریف‬: عشق حقیقی عشق مجازی فیس بک وال سے