بدھ، 22 جنوری، 2020

عمران خان کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟



حبیب اکرم
دو ہزار آٹھ میں شہباز شریف دوسری بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے چند ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو مشورے کے لیے بلایا۔ اس مجلس میں شامل تمام لوگ ایسے تھے جو حکومتی کاروبار سے اچھی طرح واقف تھے‘ اس لیے ان کے دیے ہوئے مشورے بیش قیمت تھے اور قابل عمل بھی۔ مجلس میں موجود لوگوں میں سے کسی نے سڑکوں کی تعمیر کی طرف توجہ دلائی، کوئی بجلی کے معاملات پر بولا تو کسی نے صحت و تعلیم میں بہتری کا کہا۔ وزارت خارجہ سے تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ افسر خاموش بیٹھے تھے۔ شہباز شریف نے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ ان صاحب کو حکمرانوں کی توجہ کے قلیل دورانیے اور ذہنی سطح کا خوب اندازہ تھا۔ انہوں نے چند الفاظ میں ملک میں گورننس کی صورتحال کا تجزیہ کرکے بتا دیا کہ کہنے کو انیس سو نوے کی دہائی گزرے صرف آٹھ برس ہوئے ہیں‘ لیکن دنیا اس عرصے میں کئی دہائیاں آگے نکل گئی ہے‘ اس لیے حکومت کو نیا انداز اختیار کرنا ہو گا۔ شہباز شریف نے پوچھا: وہ کیسے؟ جواب ملا، اصلاحات۔ اصلاحات کا لفظ ابھی بولنے والے کے لبوں سے نکل کر کمرے میں موجود لوگوں کی سماعت تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ شہباز شریف نے بیک وقت سر اور دایاں ہاتھ انکار میں ہلا دیے۔ زبان سے کئی بار نہ نہ کی تکرار کی اور بولنے والے کو تنبیہ کی کہ آئندہ اصلاحات کی بات ان کے روبرو نہ کی جائے۔ تھوڑی دیر بعد مشاورت کا یہ سلسلہ ختم ہوگیا اور شہباز شریف اپنی توانا شخصیت کے ساتھ پنجاب میں کام پر جُت گئے۔ صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناتے انہوں نے ایک انتظامی آمریت قائم کرڈالی۔ صوبے میں رائج ایک بہترین بلدیاتی نظام کو تباہ کر ڈالا، بیوروکریسی میں گریڈ اور تجربے کا فرق مٹا کر صرف ایسے لوگوں کو اپنے قریب رکھا جو کام نکالنا جانتے تھے۔ چند ماہ میں ہی نوبت یہ آگئی کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں کوئی بڑے سے بڑا سرکاری افسر ایسا نہ رہا جو شہباز شریف کا حکم ٹال سکے۔ اپنے اسی انداز میں انہوں نے صوبہ چلایا، اپنی پارٹی کو دوہزار تیرہ کا الیکشن جتوایا‘ اس کے بعد اپنے اندازِ حکومت میں مزید راسخ ہوگئے اورمزید پانچ سال یوں حکومت کی کہ ملک بھر میں ان کی حکومت ہی کارکردگی کا پیمانہ بن گئی۔ ان کی کارکردگی کے سیاسی نتائج بلاشبہ مثبت رہے لیکن انتظامی حوالے سے پنجاب سینکڑوں سال پیچھے چلا گیا۔ انہوں نے اپنی غیرمعمولی توانا شخصیت کے پیچھے بیوروکریسی کی نااہلی، سرکاری ضابطوں کی فرسودگی اور ریاستی مشین کی روایتی سستی کو یوں چھپا لیا تھا کہ سوائے حکومت کی کارکردگی کے کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ وفاق میں تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف نے کیا۔ انہوں نے نظام میں کوئی اصلاح کرنے کے بجائے اپنے اہداف پر کام کیا اور ان اہداف کے حصول کے راستے میں جو آیا اسے ہٹنا پڑا۔ انہوں نے بھی گریڈ کو نظرانداز کرکے صرف ایسے افسر اپنے اردگرد رکھے جو اپنے ذمے لگنے والے کام پورے کرنے کے لیے دن رات میں کوئی فرق ہی نہیں رکھتے تھے۔ ان کا اندازِ حکومت بھی عوام میں پذیرائی پا گیا اور 'ستارے‘ دشمن نہ ہوجاتے تو شاید آج بھی وہ پاکستان کے وزیراعظم ہوتے۔
نواز شریف اور شہباز شریف کے اپوزیشن میں جانے کے بعد عمران خان وزیراعظم بنے تو وہی نظام جو پہلے ٹھیک ٹھاک چلتا دکھائی دے رہا تھا، یکایک رُک گیا۔ مسلم لیگ ن کے مقابلے میں تحریک انصاف کی گرفت حکومتی معاملات پر اتنی کمزور ہے کہ وزیراعظم کے احکامات تک پر عملدرآمد نہیں ہو پارہا۔ کاروباری تنظیموں کے لوگ ٹی وی پر آکر بتا چکے ہیں کہ وزیراعظم ان سے جو بات کرتے ہیں بعد میں پوری نہیں ہوتی۔ ایک موقع یہ بھی آیا کہ کاروباری لوگوں کا حکومت پر اعتماد بحال کرنے کے لیے خود چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو میدان میں آنا پڑا۔ سولہ مہینے گزرجانے کے باوجود تحریک انصاف کوئی ایک ایسا کام نہیں کر پائی جسے دکھا کر وہ عوام کو مزید اچھے دنوں کی امید دلا سکے۔ لگتا ہے‘ حکمران اور حکومت لطیفہ بن چکے ہیں۔ نااہلی، نالائقی اور غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کبھی افسروں کے ردوبدل میں نظر آتا ہے تو کبھی گندم کے بحران میں۔ ان سے بجلی چوری پر قابو پایا جاتا ہے نہ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت پر۔ اس حکومت کے اتحادی اس کی کارکردگی سے خوش ہیں نہ اس کے اپنے اراکین اسمبلی میں اپنے حلقوں کا رُخ کرنے کی ہمت باقی رہی ہے۔ تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کو چلانا ہے تو مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی کو حکومت دینا ہو گی۔ ان کے علاوہ اگر کوئی چلا سکتا ہے تو فوج ہے۔ ہرگزرتا دن تحریک انصاف کی وفاقی اور دو صوبائی حکومتوں کو غیر متعلق کیے جاتا ہے اور حالت یہاں تک آ گئی ہے کہ حکومت اگر گر بھی جائے تو اس پر آنسو بہانے والا کوئی نہ ہوگا۔ دنوں میں تحریک انصاف کا نام ونشان بھی تاریخ کے کوڑے دان میں چلا جائے گا۔ 
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی نظام کیوں چلا سکتی ہیں اور تحریک انصاف کیوں نہیں؟ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ پہلی دونوں جماعتوں میں کوئی غیر معمولی صلاحیت کے لوگ نہیں ہیں لیکن اس معاملے میں تحریک انصاف تو ایک بازیچۂ اطفال کے سوا کچھ بھی نہیں۔ مختلف پارٹیوں کے منتخب نالائق جس طرح اس جماعت میں جمع ہوئے ہیں ان کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، لیکن نالائقی کا یہ طوفان تصویر کا ایک رخ ہے۔ فرض کریں دو ہزار آٹھ میں شہباز شریف کو اصلاحات کا جو مشورہ دیا گیا تھا وہ مان لیا جاتا۔ ملک کی بیوروکریسی کو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ افسروں پر چھوڑنے کی بجائے پیشہ ورانہ بیوروکریسی کی بھرتی اور ترقی کا سلسلہ شروع ہو جاتا‘ پنجاب پولیس لندن اور نیویارک کی پولیس کی طرح منظم کردی جاتی۔ دوہزار ایک کے بلدیاتی نظام کے تحت اب تک تین الیکشن ہوچکے ہوتے تو کیا ہوتا؟ ہوتا یہ کہ آج بیشتر صوبائی محکموں کے سیکرٹری متعلقہ شعبے کے ماہرین ہوتے۔ پولیس لوگوں کو مارنے کی بجائے ان کی معاون و محافظ بن چکی ہوتی۔ جو اراکین صوبائی و قومی اسمبلی آج عمران خان کو ترقیاتی فنڈز کے لیے بلیک میل کر رہے ہیں وہ یاتو سلیقے سے قانون سازی کرتے یا واپس اپنے ضلعوں میں جا کر بلدیاتی سیاست کرتے۔ ملک کے ہر ضلعے میں ایسی قیادت پیدا ہو چکی ہوتی جو نہ صرف عثمان بزدار بلکہ عمران خان، نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کا متبادل ہوتی۔ اگر اس صورتحال میں تحریک انصاف جیسی جماعت کو حکومت مل بھی جاتی تو اس کے نیچے نظام اتنا مستحکم ہوتا کہ اس کی نالائقی سے نظام کو کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ اگر عمران خان واقعی وہ کرنا چاہتے جو کہہ کر انہوں نے الیکشن جیتاتھا تو اوپر سے نیچے تک انہیں ایسی تجربہ کار ٹیم میسر ہوتی جو ان کے خواب پورے کر دکھاتی۔ 
کبھی کبھی لگتا ہے کہ عمران خان صاحب کو الیکشن سے پہلے اپنی پارٹی اور ساتھیوں کے کھوکھلے پن کا اندازہ تھا، اسی لیے وہ طاقتور بلدیاتی نظام، پولیس اصلاحات اور پیشہ ورانہ بیوروکریسی کی بات کیا کرتے تھے۔ وہ آتے ہی یہ تین کام کر گزرتے تو اب تک انہیں ایسی ٹیم مل چکی ہوتی جس کے بل پر وہ اگلے تین سالوں میں پاکستان میں اصلی تبدیلی لے آتے۔ لیکن انہوں نے نواز شریف اور شہباز شریف کے بچھائے ہوئے جال میں قدم رکھا دیا۔ انہوں نے اسی ازکارِ رفتہ بلکہ مردہ نظام سے کام لینے کی کوشش کی جس کو تھوڑا بہت چلانے کا منتر صرف مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی کے پاس ہے۔ جیسے ہی یہ لوگ اپوزیشن میں گئے پورا نظام ہی بیٹھ گیا۔ عمران خان صاحب اگر وہ اصلاحات کرڈالتے جو وہ کہتے رہے ہیں تو پاکستان میں یاد رہ جانے والے لیڈر بن جاتے مگر انہوں نے کچھ لوگوںپر بھروسہ کیا تو تباہ ہوگئے۔ خان صاحب نے اصلاحات کے جہاز کا پائلٹ بننے کی بجائے اسی کھٹارہ رکشے کا ڈرائیور بننے کو ترجیح دی جسے صرف شہباز شریف اور نواز شریف چلا سکتے ہیں۔ اس میں وہ اتنی بری طرح ناکام ہوئے کہ مذاق بن کر رہ گئے۔ انہیں یہ بھی کوئی نہیں سمجھا پا رہا کہ انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو یہ مذاق بھی زیادہ دیر نہیں چلے گا۔
(روزنامہ دنیا 22 جنوری 2020ع)

منگل، 21 جنوری، 2020

سبق آموز باتیں : گورنر کامحاسبہ، سینہ چیر دینے والا واقعہ



گورنر کامحاسبہ سینہ چیر دینے والا واقعہ
حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک علاقے کے گورنر تھے اسوقت امیر المومنین شہر کی جامعہ مسجد میں جاتے اور عام لوگوں سے گورنر کی بابت پوچھتے کے لوگوں تمھیں گورنر سے کوئ شکایت تو نہیں
جب حضرت عمر فاروق نے حضرت سعید بن عامر کی بابت لوگوں سے پوچھا کہ گورنر سے کوئ شکایت تو نہیں تو لوگوں نے جواب دیا چار شکایتیں ھیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے گورنر کو بلایا اور فرمایا چار شکایتیں ھیں لوگوں کو آپ سے پہلی یہ کہ آپ لوگوں سے فجر کے وقت نہیں ملتے اشراق کے وقت ملتے ھیں
حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میری بیوی جسنے تیس سال میری خدمت کی اب بیماری کی وجہ سے معزور ھو گئی ھے میں صبح نماز پڑھ کر اپنی بیوی کو ناشتہ بنا کر دیتا ھوں اسکے کپڑے رھوتا ھوں اسکا پاخانہ صاف کرتا ھوں اسلیے دیر ھو جاتی ھے لوگوں سے ملنے میں ابھی جب لوگوں نے پہلی شکایت کا جواب سنا تو انکے رونگٹے کھڑے ھوگۓ
دوسری شکایت یہ ھے کہ آپ ھفتے میں ایک دن ملتے نہیں لوگوں سے
سعید بن عامر بولے میں اسکا جواب ہرگز نہ دیتا اگر پوچھنے والے آپ نہ ھوتے بہرحال بتا ریتا ھوں میں گورنر ضرور ھوں لیکن بہت غریب ھوں میرے پاس یہی ایک جوڑا کپڑوں کا ھے جسے میں ھفتے میں ایک دن دھوتا ھوں پھر سوکھنے تک میں اپنی بیوی کے کپڑے پہنتا ھوں اسلیے لوگوں کے سامنے نہیں آتا اس دن یہ سنکر عمر فاروق رونے لگے اور سعید بن عامر کے بھی آنسو جاری ھوڑی گے
تیسری شکایت یہ کہ آپ رات کو ملتے نہیں
سعید بن عامر رضی اللہ عنہ بولے دن سارا مخلوق کی خدمت کرتا ھوں میری داڑھی سفید ھو چکی ھے مطلب کہ کسی وقت بھی مالک کا بلاوا آسکتا ھے اسلیے پوری رات اس رب زوالجلال کی عبادت کرتا ھوں کہیں دن حشر کو رسوا نہ ھو جاؤں
چھوتی شکایت ان لوگوں کی یہ ھے کہ آپ بے ھوش کیوں ھو جاتے ھیں
سعید بن عامر رضی اللہ عنہ بولے میں چالیس سال کی عمر میں مسلمان ھوا ان چالیس سالوں کے گناہ یاد کر کے روتا ھوں کیا پتا میرے مالک مجھے بخشے گا بھی یا نہیں بس خشیت الہی سے میں بے ھوش ھو جاتا ھوں اے عمر رضی اللہ عنہ ان شکایتوں کے نتیجے میں جو میری سزا بنتی ھے دے دو
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ھاتھ اٹھے اور رب سے التجا کی یا اللہ اسطرح کے کچھ اور گورنر مجھے عطا کیے جائیں مجھے ان پر فخر ھے,.

وسیم اکرم پلس یا مائنس



صابر شاکر
تحریکِ انصاف کی حکومت کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ سے کیسے فارغ کیاجائے؟عثمان بزدار کو گھر کیسے بھیجا جائے؟اِن ہاؤس تبدیلی یا نئے انتخابات؟وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شہباز شریف‘شاہد خاقان عباسی ‘ خواجہ آصف‘ شاہ محمود قریشی ‘محمد میاں سومرو یا پھر کسی چھوٹے صوبے سے کوئی بے ضرر سا وزیراعظم؟پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے چوہدری پرویز الٰہی ہاٹ فیورٹ ‘ پوراملک انہی افواہوں کی لپیٹ میں ہے۔جونہی کوئی سیاسی تحرک پیدا ہوتاہے یا غیرسیاسی تجارتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ ہو‘ اتحادی ناراض ہوں یا اپنے ہی وزرا ناخوش‘سب کا نتیجہ ایک ہی نکالا جاتا ہے کہ حکومت کے جانے کا وقت آچکا ہے اور آج گئی یا کل‘لیکن پھر کہیں سے کوئی آکسیجن ملتی ہے اورکچھ ملاقاتیں ہوتی ہیں ‘کچھ باتیں مان لی جاتی ہیں‘ کچھ کا وعدہ کیا جاتا ہے اور کچھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فی الحال ان کو رہنے دیں‘ ان کو میں ہینڈل کر لوں گا اور معاملات کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوتا ہے۔
سروسز ایکٹ میں ترامیم کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان قدرے بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہوگئی تھی اور متعدد امور پر قانون سازی کرنے پر اتفاق ہوگیا۔ الیکشن کمیشن کے ارکان اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر مثبت پیش رفت جاری ہے۔اتحادی جماعتوں کے ناز نخرے تو فطری ردعمل ہے‘ اپوزیشن کا حکومت کے خلاف چارج شیٹ بھی اس کا اصل ہدف تصور کیا جاتا ہے‘ لیکن اگر وزیراعظم عمران خان کی اپنی کابینہ کے وزرا وزیرعظم کی حکومت کو اوروزیراعلیٰ عثمان بزدار کی کابینہ کے وزرا انہیں چارج شیٹ کرنا شروع کردیں تو کوئی بھی ذی شعور شخص یہ اندازہ باآسانی لگا سکتا ہے کہ اس بغاوت اور سرکشی کی دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں‘ پہلی یہ کہ ان باغیوں کو وزیراعظم سے بھی طاقتوروں کی پشت پناہی حاصل ہے ‘دوسری وجہ یہ کہ سیاسی وانتظامی بدنظمی انتہا درجے کو پہنچ چکی ہے اور وزیراعظم عمران خان کی اپنی ہی حکومت میں اپنے ہی وزرا اور ارکان پر گرفت کمزور پڑ چکی ہے۔دونوں ہی صورتوں پر اگر قابو نہ پایا گیا تو نقصان وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو ہی ہوگا۔
فیصل واوڈا کے اپوزیشن کو بوٹ چاٹنے کے طعنے نے صورتحال کو کافی بگاڑ دیا تھا۔فواد چوہدری جو وزیراعظم عمران خان کے بہت قریب ہیں اور کابینہ کے اہم رکن ہیں‘ لیکن انہوں نے وزیراعظم سے براہ راست بات کرنے کے بجائے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف ایک خط لکھا اور پھر وہ خط سوشل میڈیا پر بھی یکایک پھیل گیا‘ جو حکومت کیلئے کافی سبکی کا باعث بنااور پھر پنجاب کے صوبائی وزرا وفاقی وزیر کے خلاف پریس کانفرنسز کرتے ہوئے نظر آئے۔گویا اب پی ٹی آئی کو باہر سے اپوزیشن کی ضرورت نہیں رہی‘ یہ کردار بھی پی ٹی آئی کے وزرا اور ارکان نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔فواد چوہدری کے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں ایک تیر سے دو شکار ہدف معلوم ہوتے ہیں؛پہلا عثمان بزدار اور دوسرا ‘جو زیادہ خطرناک لگتا ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو یہ کہنا کہ امورِ مملکت آئین اور قانون کے مطابق نہیں چلائے جارہے ‘انتہائی خطرناک اور باریک سیاسی واردات ہے۔
ماضی بعید میں جھانکیں تو صدر غلام اسحاق خان کی نوازشریف سے ان بن شروع ہوئی تو حکومت کے چل چلاؤ کی خبریں آنا شروع ہوگئیں۔تب نوازشریف کابینہ کے رکن وزیرمملکت حامد ناصر چٹھہ نے ایک روز استعفیٰ دے دیا اور صدر غلام اسحاق خان کو ایک خط بھی لکھ دیا۔جب صدر غلام اسحاق خان نے نواز حکومت برطرف کی تو حامد ناصر چٹھہ کے اس خط کو صدر نے نوازشریف کے خلاف ایک ریفرنس کے طور پر استعمال کیا تھا‘پھر جب سپریم کورٹ میں صدر غلام اسحاق خان کے اقدام کو چیلنج کیاگیا تواٹارنی جنرل نے صدر کے اقدام کے حق میں اسی نوعیت کے خطوط‘مختلف انٹرویوز‘ تجزیے اوراخبارات کی خبریں سپریم کورٹ میں پیش کی تھیں۔ 12 اکتوبر 1999ء کے اقدام کو بھی جب سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو اس میں جو دلائل دیے گئے تھے‘ ان میں ملکی معیشت کی بدتر صورتحال کو خاص طور پر نوازشریف حکومت کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کیاگیا تھااور شائع شدہ بہت سی خبریں ‘کالم‘ تجزیے عدالت میں پیش کیے گئے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ آج جو کچھ وقوع پذیر ہو رہا ہے‘ اسے تحریری طور پر ریکارڈ پر لایا جارہا ہے‘ تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آوے۔
آٹے کے حالیہ بحران سے بھی ایک واقعہ ذہن میں آگیا کہ2007ء میں مسلم لیگ (ق )کی حکومت پانچ سال پورے کرکے عام انتخابات کی طرف جارہی تھی‘ اس دوران پرویز مشرف سے این آر او کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو اور نوازشریف وطن واپس آچکے تھے۔ صدر پرویز مشرف کو سو فیصد یقین تھا کہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ق) ہی کامیاب ہوگی اور اگلی حکومت بھی ان کی ہوگی۔ وہ اس بارے میں بہت زیادہ پُراعتماد تھے‘ انہیں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سے کوئی خوف نہیں تھا۔ان دنوں پاکستان ٹیلی ویژن صدر پرویز مشرف کا ہفتہ وار پروگرام ایوان صدر میں ریکارڈ کرتا تھا‘ جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق لوگوں کو بلایا جاتا تھا‘ جو براہِ راست صدر مشرف سے سوالات پوچھتے تھے۔کافی کھلا ڈُلا ماحول ہوتا تھا۔پروگرام کے میزبان برادر کامران شاہد ہوتے تھے۔27 دسمبر 2007ء کو بھی ایوان صدر میں پروگرام کی ریکارڈنگ تھی‘ صحافیوں میں سے مْجھے اور محترم حافظ طاہر خلیل کو مدعو کیاگیا تھا۔پروگرام کی ریکارڈنگ سے پہلے صدر مشرف سے چائے کی میز پر بڑی بے تکلفانہ گپ شپ ہوئی۔ریکارڈنگ کے دوران سوالوں کے جواب میں صدر مشرف نے محترمہ بینظیر بھٹو کے پری پول رگنگ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ شوکت عزیز اور پرویز الٰہی نے پانچ سالوں میںبے پناہ ترقیاتی کام کئے ہیں‘ جس کی بنیاد پر وہ الیکشن جیتیں گے‘ تمام سروے ان کے حق میں آرہے ہیں اوربے نظیر کو اپنی شکست نظر آرہی ہے اس لیے وہ' کرائنگ بے بی‘ بنی ہوئی ہیں اورچیخ چلا رہی ہیں۔ہم ایوان صدرسے نکلے تو ٹی وی چینلز پر نوازشریف کی گاڑی پر فائرنگ کی خبریں نشر ہورہی تھیں ‘تاہم نواز شریف خوش قسمتی سے محفوظ رہے اور پھر اسی شام محترمہ بے نظیر کو قتل کردیا گیا اور انتخابات ملتوی ہوگئے‘تاہم جب دوبارہ الیکشن کا شیڈول آیا تو تو پاور پلیئر زتبدیل ہوچکے تھے۔صدر پرویز مشرف کی گرفت کمزور پڑچکی تھی اور ڈرائیونگ سیٹ پر جنرل اشفاق پرویز کیانی آچکے تھے‘ جنہوں نے پی پی پی پر دستِ شفقت رکھا اور عین انتخابات سے چند روز پہلے پنجاب میں آٹے کا سنگین بحران پیدا ہو گیا۔ مارکیٹ سے آٹا غائب کردیا گیا اور قیمتیں بھی بڑھا دی گئیں‘ جس کا مسلم لیگ( ن) نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور( ق) لیگ الیکشن ہار گئی۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب مسئلہ سیدھی انگلی سے حل نہ ہورہا ہو تو پھر ٹیڑھی انگلی کا استعمال کیا جاتا ہے۔باقی رہا پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کا وزیراعلیٰ بننے کے امکانات کا معاملہ تو یہ واقعہ پہلے بھی پنجاب میں وقوع پذیر ہوچکا ہے۔وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں اورسپیکر میاں منظوراحمد وٹو تھے۔بغاوت ہوئی اور چند ووٹوں کے حامل میاں منظور وٹو پی پی پی کے اکثریتی ووٹوں سے وزیراعلیٰ بن گئے‘ پھر منظور وٹو فارغ ہوئے تو سردار عارف نکئی وزیراعلیٰ بنے‘ جس کے بعد شریف فیملی نے پنجاب کسی اور کے حوالے نہیں کیا۔موجودہ نمبرز گیم بھی وہی ہے‘ سپیکر میاں منظور وٹو اورسپیکر چوہدری پرویز الٰہی میں نمبر گیمز کے ساتھ ساتھ کافی مماثلت پائی جاتی ہے اور خاص طور پر جب پی ٹی آئی کے ناراض ارکان پنجاب اسمبلی بھی اپنے الگ اجلاس شروع کردیں۔وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ہٹانے کیلئے شاید ٹیڑھی انگلی کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دیکھتے ہیں کپتان وسیم اکرم کو مائنس ہونے سے بچا پائیں گے یا نہیں؟ 
(روزنامہ دنیا 21 جنوری 2020ع)

"نیک نام فردوس اعوان"



وقار نسیم وامق
دنیا آئینہ حیرت ہے جس قدر دیکھتے جائیں حیرت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، نامور امریکی مصنفہ اور سیاسی سماجی کارکن ہیلن کیلر کو یہ دنیا بہت خوبصورت لگی گو کہ وہ سماعت و بصارت کی نعمت سے محروم تھی لیکن اس دنیا کے آئینے نے اسے بھی ورطہء حیرت میں مبتلا رکھا اور اس نے اپنے محسوسات کو اپنے قلم کے ذریعے اس دنیا تک پہنچایا کئی کتابیں لکھیں، سیاست اور عوامی خدمت میں اپنا نام کمایا، آج بھی دنیا میں ان کی نیک نامی ہے. ہیلن کا تذکرہ تو بہرحال درمیان میں آگیا اصل بات یہ ہے کہ دنیا والے اکثر حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں اور اس حیرت میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے جب دنیا والوں کے ساتھ شہرت کے حصول کی خاطر کوئی ڈھونگ کیا جاتا ہے. 
ایسی ہی ایک واردات نظر سے گزری جس میں وطنِ عزیز پاکستان کی معروف سیاستدان معاونِ خصوصی برائے وزارتِ اطلاعات و نشریات محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان خون کا عطیہ محض تشہیر کی خاطر دیتی دکھائی دیں، ویڈیو کلپ میں پیغام واضح تھا کہ لوگ موصوفہ کو دیکھ کر خدمتِ خلق کے اس عمل کی جانب راغب ہونگے لیکن ویڈیو کلپ کے وائرل ہونے سے لینے کے دینے پڑ گئے اور ڈھونگ بے نقاب ہوگیا. 
محترمہ فردوس عاشق اعوان کے ناقدین اور حامیوں کی کمی نہیں، عام انتخابات میں انہیں اپنے حلقہء انتخاب سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور ووٹرز کی ایک بڑی تعداد نے ان کے حریف امیدوار کو ان سے بہتر جانا لیکن اس دیوی پر قسمت کا دیوتا مہربان ہوا اور الیکشن میں شکست کے باوجود تقریباً ایک برس میں ہی انہیں وفاقی کابینہ میں شمولیت کا پروانہ مل گیا. 
خدمتِ خلق پر مبنی اس ویڈیو کے وائرل ہونے سے یہ تو پتہ چل گیا کہ وہ خون کا عطیہ دینے سے گریزاں تھیں اور یہ محض ایک فوٹو سیشن تھا جس سے براہ راست خود عوامی توجہ حاصل کرنا اور عوام کو اس خدمت کی جانب مبذول کروانا بھی مقصود تھا، تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ منو بھائی کی دوسری برسی کے موقع پر تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کے لئے قائم کئے گئے ادارے سندس فاؤنڈیشن لاہور میں پیش آیا.
قارئینِ کرام، دنیا میں مستقل نیک نامی ڈھونگ رچانے سے نہیں بلکہ سچے اور بہتر عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے، محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ایک عوامی خاتون ہیں، گزشتہ ادوار میں بھی وزارت کے اہم منصب پر فائز رہ چکی ہیں، اپنے حلقے میں عوامی فلاح و بہبود کے بیشتر منصوبے کامیابی سے مکمل کر چکی ہیں، اب بھی وزارتِ اطلاعات و نشریات کا اہم منصب ان کے پاس ہے، انہیں ہرگز ایسا ڈھونگ رچانا زیب نہیں دیتا، ان کے لئے دعاء اور ان سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کچھ ایسا کر جائیں جو ان کی نیک نامی کا باعث بن جائے. 
(روزنامہ پاکستان 21 جنوری 2020عہ)

جمعہ، 27 دسمبر، 2019

اپنی بند مٹھی کھولیں!


رئوف کلاسرا
قصور کے قریب ایک گائوں میں ایک عالی شان عمارت کے لان میں سینیٹر طارق چوہدری‘ میاں خالد اور مشتاق بھائی کے ساتھ بیٹھے ہوئے خیال آیا کہ پاکستان میں بہت سے لوگ نیک کام کرتے رہتے ہیں مگر مجال ہے ان کے کارناموں کا کسی کو پتہ ہو۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تصور پایا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی کی مدد ایک ہاتھ سے کریں تو دوسرے کو پتہ نہیں چلنا چاہیے۔ کچھ لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جب مدد کریں تو جس کی مدد کی جارہی ہو وہ شرمندہ نہ ہو‘ لہٰذا بہتر ہے چھپ کر ہی مدد کی جائے۔ دوسرا‘ کچھ لوگ اس حوالے سے اسلامی حوالے بھی دیتے ہیں کہ مدد کرو تو چھپ کر کرو۔ 
2014ء میں امریکہ میں ڈاکٹر عاصم صہبائی کے پاس چھ ماہ ٹھہرا تھا تو ان دنوں ان کے پاس قرآن پاک کی ایک کاپی تھی‘ شاندار انگریزی ترجمہ تھا۔ برسوں پہلے مودودی صاحب کا ترجمہ اور تفسیر پڑھی تھی‘ سوچا پھر سے پڑھا جائے۔ یہ نیا ترجمہ بھارت سے چھپا تھا اور یقین کریں بہت ہی شاندار۔ مزہ آگیا پڑھ کر ۔ قرآن پاک کا ترجمہ پڑھ کر بہت سی غلط فہمیا ں دور ہوگئیں۔ مثلاً پہلی بات یہ کہ قرآن کہتا ہے چیرٹی کرو‘ غریبوں کی مددکرو اور یہ سمجھو کہ تم یہ مجھے اُدھار دے رہے ہو۔ ایک بات جس نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا وہ یہ تھی کہ خدا کہتا ہے تم لوگ چھپ کر چیرٹی کرو یا لوگوں کو دکھا کر‘ خدا کو اس سے فرق نہیں پڑتا۔یہ آپ پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ کیسے مد دکرنی ہے‘ شاید اسی لیے کہا گیا ہے کہ نیکی کے کام بتایا کرو اور برائی کو چھپایا کرو۔ اسی طرح میں سمجھتا تھا شاید یہ حدیث ہے کہ کسی کے گھر جائو تو تین دفعہ دروازے پر دستک دو اور جواب نہ ملے تو لوٹ جائو اور ناراض بھی نہ ہو۔ مجھے پتہ چلا یہ خدا کا حکم ہے اور قرآن میں ہے۔ اس سے زیادہ پرائیویسی کا تصور کہاں مل سکتا ہے۔ بہرکیف اب میں اپنے دوستوں کو کہتا ہوں کہ تم لوگ جب چیرٹی کرتے ہو تو بتایا کرو تاکہ دوسروں کو بھی حوصلہ ہو کہ ہم بھی اچھے کا م اور غریبوں کی مدد کریں‘ ہاں دوسروں کے عیب چھپایا کرو۔ 
جب اخوت کے ڈاکٹر امجد ثاقب اپنی اس غیرمعمولی یونیورسٹی کے بارے میں شرکا کو بریف کررہے تھے تو میں یہی سوچ رہا تھا کہ اس خاندان یا ان تین بھائیوں نے کمزور‘ غریب اور پس ماندہ بچوں کے لیے کیسے اپنی جیبوں کو کھول دیاہے۔ یہ تین بھائی‘ سینیٹر طارق چوہدری‘ میاں خالد اور مشتاق بھائی آپ کو اکٹھے ملیں گے‘ اکٹھے ٹریول کریں گے۔ مشتاق بھائی کا دل بہت بڑا ہے۔ ایک دن میں نے کہا: مشتاق بھائی مجھ سے اگر کسی انسان کی کامیاب زندگی کی تعریف پوچھی جائے تو پتہ ہے میرے ذہن میں کس کا خیال آتا ہے ؟ آپ کا ۔ اگر آپ کی زندگی میں آپ کے بچے سیٹل ہوگئے ہیں ‘ وہ ماں باپ کے فرمانبردار ہیں‘ وہ اچھے انسان ہیں‘ بہترین نوکریاں کررہے ہیں اور آپ اپنے نواسوں اور پوتوں سے شام کو کھیلتے ہیں تو یقین کریں اس سے خوبصورت لائف نہیں ہوسکتی۔ میں نے کہا: مشتاق بھائی آپ کے خاندان نے زندگی بھر جو لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں‘ اس کا صلہ خدا نے آپ کو بیٹوں کی شکل میں دیا ہے جو امریکہ میں رہتے ہیں اور محنت سے اپنا وہاں ایک بڑا کاروبار چلاتے ہیں۔ ان اربوں روپوں کی دولت کا کیا فائدہ اگر آپ کے بچے بھٹک جائیں اور آپ اسی پریشانی میں دنیا سے رخصت ہوں۔ لائق بیٹے کے لیے بچانے کی ضرورت نہیں کہ وہ خود کما لے گا‘ نالائق کے لیے بچت نہ کریں کہ اس نے سب کچھ ضائع کر دینا ہے۔ امجد ثاقب بتا رہے تھے کہ انہوں نے پاکستان کے غریب علاقوں کے بچوں کے لیے یونیورسٹی شروع کی تو یہ منصوبہ بنا کہ اس کی اینٹیں برائے فروخت پیش کی جائیں گی۔ مطلب یہ تھا کہ جو مدد کرنا چاہتے ہیں وہ اس عمارت کی اینٹیں خریدیں گے جو اس یونیورسٹی کو تعمیر میں کام آئیں گی۔ امجد ثاقب بتانے لگے کہ وہ گنتی بھول گئے ہیں‘ مشتاق بھائی نے جتنی اینٹیں خریدی ہیں اور جتنی امداد کی ہے۔ اسی طرح خالد بھائی ہیں ۔ ان امریکن پاکستانیوں کا بھی شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے وہاں چندے اکٹھے کر کے امجد ثاقب کے اس منصوبے میں مدد کی۔ مجھے یاد آیا ‘ایک دن ہم پرانے دوست ارشد شریف‘ خاور گھمن‘ ضمیر حیدر‘ عدیل راجہ اورعلی رات گئے اکٹھے تھے اور پنجاب حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے 'اخوت‘ پر کچھ سوالات اٹھائے تو میں نے کہا: ہماری بدقسمتی ہے‘ نہ ہم اچھے کام خود کرسکتے ہیں اور نہ ہی کسی اور کو کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ امجد ثاقب نے سب کچھ چھوڑا اور اتنے بڑے بڑے منصوبے بنا کر لوگوں سے ایک ایک پائی اکٹھی کر کے کتنے لوگوں کی مدد کی ہے۔ وہ بتانے لگے: ایک وزیر صاحب ناراض ہیں‘ میں نے کہا: اس پی ٹی آئی کے وزیر کو سمجھائیں کہ گند نہ گھولیں۔ وہ صاحب خود بتانے لگے: اخوت کا ریکوری ریٹ ننانونے فیصد ہے۔ میں نے کہا : حکومتوں کو تو شکر گزار ہونا چاہیے کہ امجد ثاقب جیسے بے لوث لوگ موجود ہیں جو دیہاتوں میں غریبوں کو پائوں پر کھڑا کررہے ہیں اور قرضے کا ریکوری ریٹ ننانوے فیصد ہے۔ خیر‘ اچھا ہوا‘ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ نے پانچ ارب روپے کا منصوبہ امجد ثاقب کے ساتھ سائن کیا ہے۔ 
مجھے خود یاد آیا کہ میرے جاننے والے خاندان کے ایک پاکستانی بچے کو امریکہ کی بڑی یونیورسٹی میں میڈیکل میں داخلہ ملا۔ بہت قابل بچہ ہے۔ اچانک اس خاندان کے حالات بگڑ گئے‘ فیس کا مسئلہ ہوگیا ۔ مجھے سمجھ نہ آئے کہ خاندان کی کیسے مدد کروں۔ ذہن میں جو تین لوگ آئے ان میں ورجینیا میں اکبر چوہدری‘ اٹلانٹا میں اعجاز بھائی‘ ڈاکٹر احتشام قریشی‘ زبیر بھائی‘ نیویارک میں عارف سونی اور مشتاق بھائی اور خالد بھائی تھے‘ جن سے میں ذاتی درخواست کرسکتا تھا۔ اکبر بھائی کا بہت شکریہ‘ ان کی بدولت ان کے چند دوستوں نے مدد کی اور ایک بہت ذہین طالب علم کا مستقبل بچ گیا۔ اکبر بھائی کے اوکاڑہ کے دوست ارشد چوہدری اور امریکہ کے شاہد جمیل کا بھی شکریہ جنہوں نے ایک ذہین طالبعلم کا مستقبل بچایا ۔ 
مجھے علم ہے یہ سب اچھے لوگ کبھی نہیں چاہیں گے ان کے نام بتائوں‘ لیکن جب سے قرآن پاک میں یہ پڑھا ہے کہ نیک کام بتایا کرو تو مجھے اچھا لگتا ہے لوگ کسی کی مدد کرتے ہیں تو معاشرے کو علم ہونا چاہیے۔ لاہور میں ایک خاتون ہیں جن کا نام شاہدہ نعمانی ہے‘ وہ ایک تنظیم چلاتی ہیں۔ ان کا تعارف دو تین دفعہ صحافی دوست سعدیہ کیانی نے باتوں باتوں میں کرایا تھا۔ میں نے پہلے تو سنجیدگی سے بات نہیں سنی ‘ لیکن دھیرے دھیرے جب میں نے ان کی فیس بک پوسٹ اور ٹویٹر کو فالو کرنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ جو کام وہ کررہی ہیں وہ بہترین ہے۔ وہ ہر ضرورت مند کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے میں یقین رکھتی ہیں۔ وہ ہر ضرورت مند کو چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرادیتی ہیں ۔ کچھ گھرانوں کی کفالت کے نام پر مدد کراتی ہیں۔ اس خاتون کی ہمت کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ شاہدہ نعمانی بھی ان سب کرداروں میں سے ہیں جو اس دنیا میں آسانیاں بانٹنے کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ اپنے بچوں کے لیے تو ہم سب کرتے ہیں‘ اصل بات تو یہ ہے ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اجنبی لوگوں کا درد محسوس کریں اور اپنی زندگی کے کچھ لمحات نکال کر ان کی مدد پر تل جائیں۔ خدا قرآن میں فرماتا ہے ‘ جو غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھتے ہیں اور چیرٹی کرتے ہیں یقین رکھیں میں ہی انہیں صلہ دوں گا‘ ایسے سمجھ لیں وہ مجھے قرض دے رہے ہیں(مفہوم)۔ 
ایک دفعہ گوتم بدھ جنگل میں بیٹھا تھا۔ خزاں کا موسم تھا ہر طرف جنگل میں زرد پتے گر رہے تھے۔ اچانک گوتم نے برگد کے بوڑھے درخت کے نیچے بیٹھے بیٹھے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر ہتھیلی میں پتوں کو بھر کر اپنے چیلے آنند سے پوچھا۔ آنند میری مٹھی میں جنگل کے سارے پتے سما گئے ہیں؟ آنندجھجک کر بولا: گرو اتنا بڑا جنگل اور اتنے پتے بھلا کیسے ایک مٹھی میں سما سکتے ہیں؟ گوتم بولا بالکل درست۔ یہی بات دنیا کی سچائیوں کی ہے۔ دنیا میں سچائیاں جنگل کے ان پتوں کی طرح بے تحاشا ہیں ‘لیکن میری مٹھی میں جتنی آئیں میں نے ان 
کا پرچار کیا ۔اس لیے اپنے اپنے حصے کی نیکیاں کرتے رہیں۔ اپنی بند مٹھی کھولیں۔ 
ََ(روزنامہ دنیا  27 دسمبر 2019ع)

جمعہ، 25 مئی، 2018

کس نواز شریف پر اعتبار کریں؟


 رئوف کلاسرا

میرے دوست ارشد شریف نے ٹوئٹر پر گیارہ برس پرانی تصویر شیئر کی ہے جب ارشد شریف لندن میں رپورٹنگ کرتے تھے۔ اس تصویر میں نواز شریف اور ارشد شریف ہاتھ ملا رہے ہیں۔ ارشد شریف نے اس تصویر پر طنزیہ سرخی جمائی ہے '' جب نواز شریف ایک انقلابی ہوتے تھے!‘‘۔ ارشد نے یہ نہیں لکھا کہ اس وقت یہ انقلابی لیڈر ان کی پلیٹ میں سالن بھی ڈال کر دیتے تھے۔ آج وہ ارشد شریف کا نام بھی سننا پسند نہیںکرتے ۔
سوال یہ ہے کہ قصور کس کا ہے؟ نواز شریف کا یاپھر ارشد شریف کا؟ 
ارشد شریف کو یقینا یہ شکایت لگتی ہے‘ جس نواز شریف کو وہ جانتے ہیں یا جس نواز شریف پر وہ بھروسہ کر بیٹھے تھے‘ وہ تو یہ نہیں ہے۔ جس نواز شریف سے ان کی لندن میں ملاقات نادر چوہدری نے کرائی تھی‘ وہ بہت بدل چکا ہے۔ شاہین صہبائی ہوں ، ارشد شریف ہوں، عامر متین یا میں، ہم اس سکول آف تھاٹ سے تعلق رکھتے ہیں ‘جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ صحافی ہمیشہ حکومت وقت کا مخالف اور اپوزیشن کیمپ میں رہتا ہے۔ بلکہ ہمارے جیسے صحافی کا قریبی دوست اگر وزیر بھی بن جائے‘ تو ہم جان بوجھ کر اس سے بگاڑ لیتے ہیں۔ ہمارے وزیر دوست بھی ہماری اس چال کو نہیں سمجھتے۔ وہ پہلے دن ہی ہوائوں میں اڑ رہے ہوتے ہیں ‘لہٰذا وہ بھی اپنی اکڑ میں آجاتے ہیں اور ہمارا کام آسان کردیتے ہیں۔ عامر متین اور میں سیاستدانوں سے اس لیے بھی دور رہتے ہیں کہ کہیں آنکھ کا حیا ہی نہ کرنا پڑے اور ان کے گند کو نظرانداز کرنا پڑے کہ چھوڑو یار کل رات تو کافی اکٹھے پی تھی یا پھر کھانا کھایا تھا ‘ تاہم اس معاملے میں شاہین صہبائی سب سے آگے رہے ہیں ۔ شاہین صہبائی نے وزیروں یا سیاسی دوستوں سے پوری رات گپ شپ ماری، کمپنی کی، اور اگلی صبح ٹھوک کر اس پر لکھا کہ وہ وزیر بھونچکا رہ گیا کہ یہ کیا ہوگیا ۔ شاہین صہبائی کے قلم نے کسی کو نہیں معاف کیا ۔ اس کے بعد میرا خیال ہے ارشد شریف نے ہمیشہ انصاف کیا ہے۔
ارشد شریف جب نواز شریف سے ملا تھا اور ان کی انقلابی باتیں سنی تھیں ‘تو وہ یقین لے آیا تھا کہ جو نواز شریف کہہ رہا ہے وہ درست کہہ رہا ہے۔ ارشد شریف اور میرے جیسوں کے پاس اور کوئی آپشن بھی نہیں تھا ‘جس کی حکومت وقت کے خلاف حمایت کی جاتی۔ بینظیر بھٹو جنرل مشرف سے خفیہ مذاکرات کر کے پاور کا حصہ بننے جارہی تھی۔ میں اور ارشد شریف اب جنرل مشرف حکومت کی سپورٹ کرنے سے تو رہے۔ لہٰذا بچ بچا کے نواز شریف انقلابی ہی ہمیں مل گئے تھے۔ ویسے ہم اس وقت واقعی نواز شریف کی باتوں پر ایمان لے آئے تھے۔ وہ جتنی سنجیدگی اور آواز میں رقت پیدا کر کے آج اپنے دکھڑے سناتے ہیں، ماتم کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہوا اور وہ اب انقلاب کے لیے جان لڑا دیں گے، لندن میں بھی ان کا اداکاری کا یہی انداز تھا ۔ ہم ٹھہرے ہمیشہ کے بیوقوف اور یہ سیاستدان ‘سدا کے اداکار۔ ان کے لیے آواز میں رقت پیدا کرنا ‘ چہرے پر دکھ اور اذیت کے تاثرات اور باڈی لینگویج میں ایسا انداز پیدا کرنا کہ اگلے کو فوراً ترس آنا شروع ہوجائے،معمولی سی بات ہے‘ تاہم پاکستان لوٹ کر جس طرح انقلاب اور انقلابی بھائیوں نے کرتب دکھائے اور ان کی کرپشن اور شاہانہ انداز حکومت کے کارنامے سامنے آنا شروع ہوئے، تو ارشد شریف اور میرے جیسے صحافی بہت مایوس ہوئے۔ شاہین صہبائی اور عامر متین جیسے صحافی دوسری طرف بینظیر بھٹو سے مایوس ہوئے تھے۔ ہمارے اپنے اپنے رومانس تھے‘ جو ان دونوں سے ختم ہوئے۔ ارشد شریف اور میں نے خیر ایک کام کیا ۔ اپنی غلطی مانی لیکن بات وہی کہ ہمارے پاس کیا آپشن تھا؟ کیا ہم ایک فوجی آمر کی حمایت کرتے جو ممکن ہی نہیں تھا۔ یوں ہم دونوں نے ان دونوں بھائیوں کا پردہ اٹھتے ہی خود کو ان سے دورکرلیا ۔ اتنی دیر میں وطن واپسی پر ان کی حکومت پنجاب میں آچکی تھی‘ لہٰذا ہم نے ان کی گورننس پر خبریں دینا شروع کردیں اور یوں ارشد شریف ہوں، میں ہم دونوں نواز شریف اور شہباز شریف کیمپ کے لیے برے صحافیوں کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ اس لیے ارشد شریف نے یہ تصویر ٹوئٹ کی : شکر ہے! جواباً میں نے نواز شریف کا وہ خط ٹوئٹ نہیں کردیا‘ جس میں انہوں نے میری عظمت کے گن گائے تھے کہ میں کتنا بڑا صحافی ہوں ۔ 
دوسری طرف دیکھتے ہیں‘ نواز شریف ہم دونوں سے کیوں مایوس ہوئے؟ 
ان کا بھی کوئی قصور نہیں ہے۔ الٹا وہ حیران ہوتے ہوں گے‘ یار! میں نے کون سی ایسی بات یا حرکت کی ہے یا میرا کیا قصور ہے؟ان کا تو روز کا یہ کام ہے۔ ان کا سیاست تو کاروبار ہے‘ پیشہ ہے۔ انہیں تو روزانہ اپنے پیشے میں یہ اداکاری کرنی پڑتی ہے۔ جب اپوزیشن میں ہوں تو کیسے رو دھو کر اور اپنی مظلومیت کی کہانیاں سنا کر لوگوں اور صحافیوں کی ہمدردیاں سمیٹنی ہیں‘ جب تک حکومت نہیں ملتی ‘یہ کام جاری رکھنا ہوتا ہے۔ میڈیا کو سب سے زیادہ استعمال کرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی سیاسی تربیت کا حصہ ہوتا ہے‘ اپوزیشن کے دنوں میں صحافیوں کو ان کے نام سے بلانا ہے۔ قریب کی نشست پر بٹھانا ہے۔ ان کی پلیٹ میں کھانا بھی ڈالنا ہے۔ یہ سب کام اس لیے کیے جاتے ہیں کہ صحافی کو اس کی اہمیت کا احساس ہوکہ وہ کتنا اہم ہے اور اس کی کیا جگہ بنتی ہے۔ یوں صحافیوں کو اس طرح بانس پر چڑھا کر ان سے وہ کام لیے جاتے ہیں‘ جو انہوں نے اقتدار میں آکر نہیں کرنے ہوتے۔ نواز شریف کے پاس ہر طرح کے پیکیج ہوتے ہیں‘ ایسے صحافیوں کے لیے جب وہ اقتدار میں آتے ہیں‘ لیکن وہ بھی سمجھدار ہوتے ہیں‘ کون کتنا مؤدب ہے اور کس نے کتنی خدمات سر انجام دی ہیں‘ لہٰذا دیکھ بھال کر ان درباریوں میں کسی کو ایم ڈی ‘پی ٹی وی تو کسی کو پیمرا کا سربراہ لگایا جاتا ہے ‘تو کسی کو لاہور میں کسی اتھارٹی کا عہدہ دے دیا جاتا ہے۔ صحافیوں کو کرپٹ کرنے کے لیے بیرون ملک منسٹر پریس لگانے کے لیے بھی آسامیاں نکالی جاتی ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں صحافی اپلائی کرتے ہیں اور یوں ہر کوئی لابنگ میں پڑ جاتا ہے اور روزانہ کسی ایم این اے وزیر یا وزیراعظم کے درباریوں کی سفارش کراتا رہتا ہے۔ 
نواز شریف چار سال اقتدار میں رہے‘ کسی صحافی یا اینکر کو انٹرویو نہیں دیا ۔ چند درباریوں کے علاوہ کسی کو قریب نہیں آنے دیا۔ آج کل ان کا سارا وقت صحافیوں کے درمیان گزرتا ہے اور وہی کہانی دہرائی جارہی ہے ‘جو لندن میں ہم روزانہ دربار میں سنتے تھے۔ اس وقت بھی ان کی مظلومیت کی کہانیاں ختم نہیں ہوتی تھیں‘ اب تو مزید ان کہانیوں میں مصالحہ ڈالنے کو مل گیا ہے۔
اگر آپ نے نواز شریف کو سمجھنا ہے‘ تو یہ ذہن میں رکھیں‘ جو نواز شریف وزیراعظم ہوتا ہے‘ وہ صحافیوں سے نہیں ملتا ، کسی اینکر کو انٹرویو نہیں دیتا ، وہ پارلیمنٹ نہیں جاتا ، وہ ایک سو سے زائد ملکوں کے دورے کرتا ہے، کابینہ کا اجلاس چھ چھ ماہ نہیں بلاتا، اسحاق ڈار کو چوراسی کمیٹیوں کا سربراہ بنا دیتا ہے اور پاکستان سے تین سو دن بیرون ملک رہتا ہے۔ وہ ہر ہفتے لندن جاتا ہے۔ اپنے بیٹے حسین نواز سے سوا ارب روپے نقد تحفہ لیتا ہے، اس میں سے اپنی بیٹی مریم کو پچاس کروڑ روپے دے دیتا ہے۔ وہ نواز شریف وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی دبئی میں ملازمت کرتا ہے۔ اس کے بچوں راتوں رات ارب پتی بن جاتے ہیں۔ وہ کارگل پر کمیشن نہیں بناتا بلکہ الٹا جنرل مشرف کے تمام ساتھیوں کو وزیر بنا دیتا ہے۔ وہ شہباز شریف اور چوہدری نثار کو جنرل کیانی سے خفیہ ملاقاتوں کے لیے بھیجتا ہے۔ وہ آرمی چیف کی تعیناتی سے پہلے جرنیلوں سے خفیہ ملاقاتیں کرتا ہے اور اپنے تئیں قابل بھروسہ جنرل چنتا ہے‘ جس سے کچھ دن بعد اس سے خود لڑ بھی پڑتا ہے۔ 
لیکن جب وہی نواز شریف اقتدار سے باہر ہوتا ہے‘ تو وہ مظلوم بن جاتا ہے‘ وہ انقلابی بن جاتا ہے‘وہ ماتم کرتا ہے‘ وہ مکے لہراتا ہے‘ جو وہ اقتدار میں ان جرنیلوں اور سیاستدانوں کو مارنا بھول گیا تھا ‘جو اس کے دشمن تھے۔ وہ نئے نئے وعدے کرتا ہے‘ وہ لوٹوں کے خلاف تحریک چلاتا ہے‘ وہی لوٹے جنہیں بعد میں وہ وزیر بناتا ہے۔ وہ وعدے کرتا ہے ‘جو اس نے اقتدار میں جا کر بھول جانے ہوتے ہیں۔ وہ کارگل پر کمیشن بنانے کا وعدہ کرتا ہے‘ وہ فوجیوں کا ٹرائل کرنے کی بڑھکیں مارتا اور روتی آواز میں پوچھتا ہے'' مجھے کیوں نکالا؟‘‘ وہ جرنیلوں کے راز کھولنے کی دھمکیاں دیتا ہے اور وہ انقلاب لانے کے دعوے کرتا ہے‘ جو وہ تین دفعہ وزیراعظم بن کر نہ لاسکا تھا ۔ 
اب آپ ہی بتائیں ‘ہم کس نواز شریف پر اعتبار کریں‘ وزیراعظم نواز شریف پر یا اپوزیشن لیڈر والے نواز شریف پر؟
 (روزنامہ دنیا 25 مئی 2018ع)

منگل، 22 مئی، 2018

گرمیوں میں بچوں کا خیال


حریہ خان
قدرت کی ان گنت نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت بچے ہوتے ہیں۔ بچے قدرت کا وہ بیش قیمت اور انمول تحفہ ہیں جن کے دم سے ہماری زندگیاں مسکراتی ہیں۔ بچے پھولوں کی مانند ہوتے ہیں۔ جس طرح پھولوں کی صحیح طریقے سے نشوونما نہ کی جائے تو وہ مرجھانے لگتے ہیں اسی طرح بچے بھی صحیح نگہداشت اور توجہ کے طالب ہوتے ہیں۔ بچے سب ہی اچھے لگتے ہیں لیکن اپنے بچے والدین کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں جس طرح والدین اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں کوئی اور نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما آتے ہی جہاں مائیں اپنے لیے ملبوسات اور دیگر چیزوں کا موسم کے لحاظ سے انتخاب کرتی ہیں وہیں وہ اپنے بچوں کو گرم موسم کی شدت سے بچانے کے لیے مناسب ملبوسات اور ٹھنڈک پہنچانے والے پاؤڈر اور دیگر ضروری چیزوں کا انتظام کرتی ہیں۔ گرمیوں میں بچوں کو تقریباً روزانہ نہلانا چاہیے۔ اگر بچے کو گرمی دانے نکل آئیں تو پھر نہلانا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ گرمیوں میں دانے خاص طور پر تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ بچے ایسی صورت حال میں بہت گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ ان دانوں میں شدید خارش ہوتی ہے۔ گرمی دانے اس وقت زیادہ نکلتے ہیں جب موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بھی بڑھ جائے۔ یہ بات ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہمیں گرمی لگے تو ہمارا جسم ہمیں ٹھنڈک پہنچانے کی غرض سے پسینہ خارج کرتا ہے پسینے کے غدود ہماری جلد کے نیچے واقع ہوتے ہیں۔ ان غدود سے پسینہ تنگ نالیوں کے ذریعے ہماری جلد تک پہنچتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ نالیاں بند ہو جائیں تو پسینے کے غدود سے پسینہ بہہ کر جلد تک نہیں پہنچ پاتا اور راستے میں اٹکا رہ جاتا ہے جس کا نتیجہ گرمی دانوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ اگر پسینہ جلد کے بالکل نیچے رک جائے تو جلد پر ایسے چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہو جاتے ہیں گویا شبنم کے قطرے ہوں۔ اگر پسینہ جلد کے نیچے قدرے گہرائی میں رکا رہ جائے تو جلد پر لاتعداد سرخ دانے نکل آتے ہیں جن میں شدید خارش ہوتی ہے۔ بچوں کو ان گرمی دانوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے جہاں تک ممکن ہو شدید گرمی سے انہیں بچائیں۔ دھوپ میں براہ راست انہیں لے جانے سے گریز کریں اور اگر انہیں لے کر ہی جانا پڑے تو دھوپ سے بچاؤ کا سامان مثلاً سن سکرین یعنی دھوپ سے نقصان پہنچانے والے لوشن یا چھتری کا اہتمام کریں۔ اگر بچوں کو دانے ہوں تو انہیں روزانہ نہلا کر گرمی دانوں کا پاؤڈر لگائیں اور جہاں تک ممکن ہو انہیں ہوا دار جگہ پر رہنے دیں۔ گرمیوں میں پسینہ آنا ایک فطری بات ہے، پسینے کی حالت میں بھی بچے کو نہ نہلائیں اور نہ ہی نہلانے کے فوری بعد گیلی حالت میں پنکھے کے نیچے بٹھائیں۔ پسینہ کسی نرم کپڑے یا تولیے سے خشک کریں اور پھر بچے کو نہلائیں۔ نہانے کے بعد پنکھے کی ہوا بچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے لہٰذا پنکھے کی مصنوعی ہوا سے بچے کو بچائیں اور قدرتی ہوا کا معقول انتظام کریں جیسے کھڑکی وغیرہ کھول لیں۔ گرمیوں میں بچے کو وقفے وقفے سے پانی پلائیں تاکہ اس کے جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے پائے جو کہ پسینے کی صورت میں خارج ہونے سے ہوتی ہے۔ بچے کے لباس کی خریداری میں عموماً مائیں ظاہر کو دیکھ کر ایک نہایت اہم عنصر کو فراموش کر دیتی ہیں اور وہ ہے آرام دہ لباس۔ ماؤں کو آرام دہ لباس اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے کوئی بھی لباس جو جلد پر رگڑ اور بے آرامی کا باعث بنتا ہو، نہ پہنائیں۔ مصنوعی دھاگوں سے بنے ہوئے لباس جلد میں الرجی پیدا کر سکتے ہیں۔ خصوصاً گرمیوں کے دنوں میں ٹھنڈے سوتی لباس بچے کے بیرونی درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھتے ہیں۔ ہلکے اور کھلی ہوئی تراش کے لباس نہایت مناسب ہوتے ہیں اور بچے کو گھنٹوں مطمئن اور خوش و خرم رکھتے ہیں۔ بچوں کو ہلکے ہوا دار کپڑے پہنائیں جن سے ہوا آسانی سے گزر سکے اور وہ پسینہ جذب کرتے ہوں۔بچے زیادہ تر ہوادار کمرے میں کھیلیں۔ گرمیوں میں ہلکے کاٹن کی فراک اور ٹی شرٹ بہتر رہتی ہے۔جب بھی لباس کا انتخاب کریں تو اس کو یقینی بنائیں کہ ڈوری یا زپ وغیرہ سوتے میں بچے کو تنگ نہ کریں۔ اگر گرمیوں میں موزے پہنانے ہوں تو وہ ہلکے ہونے چاہئیں۔ گرمیوں میں سوتی لباس پہنانا چاہیے۔ بچے اس میں زیادہ آسانی اور راحت محسوس کرتے ہیں۔ گرمیوں میں کچھ والدین بچوں کے سر سے بالوں کا صفایا کرا دیتے ہیں یعنی ان کی ٹنڈ کرا دیتے ہیں۔ جن کی ٹنڈ ہوجائے وہ پیارے بھی لگتے ہیں اور ان کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔ اس لیے بچے اسے پسند نہیں کرتے۔ بظاہر یہ مفید ہوتا ہے لیکن اگر بچے اصرار کریں تو زبردستی ٹنڈ نہیں کرنی چاہیے۔ بالوں کو چھوٹا بھی کرایا جا سکتا ہے۔بعض بچے گرمیوں میں پانی میں کھیلنا پسند کرتے ہیں۔ اگر انہیں نیکر پہنا کر کسی ٹب وغیرہ میں پانی ڈال کر بٹھا دیا جائے تو بہت دیر اس میں کھیلتے رہتے ہیں۔ پانی سے کھیلنا اچھا ہے لیکن یہ حد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے ورنہ بچے بیمار پڑ سکتے ہیں۔ پانی میں کھیلنے والے چھوٹے بچوں پر نظر ضرور رکھنی چاہیے۔ بچوں کی سانس کی نالی میں پانی جانے اور ان کے ڈوبنے کا خطرہ رہتا ہے۔ گرمیوں میں زود ہضم غذائیں کھلانا بہتر ہوتا ہے۔ اسی طرح بچوں میں پانی 
کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ گرمیوں میں سونے کے لیے گرم کی جگہ ہلکا پھلکا بستر ہونا چاہیے۔
(روزنامہ دنیا 22 مئی 2018ع)

روزہ: فضیلت اور احکام


حافظ محمد ادریس
ماہِ رمضان ہم پر سایہ فگن ہو چکاہے۔ الحمد للہ زندگی میں ایک بار پھر یہ عظیم مہمان ہمارے نصیب میں لکھا 
گیا ہے۔ مہمان، جو دیتا بہت کچھ ہے، ہم سے لیتا کچھ بھی نہیں۔ یہ ماہِ مبارک از اول تا آخر خیر ہی خیر ہے۔اس کا پہلا عشرہ رحمت،دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ دوزخ کی آگ سے خلاصی کی نوید لے کر آتا ہے۔حضورنبی اکرمؐ ماہِ رجب اور شعبان ہی میں استقبال رمضان کے لیے کمرہمت باندھ لیا کرتے تھے۔ آپؐ کی مشہور دعا ہے ''اللھم بارک لنافی رجب و شعبان و بلغنا رمضان‘‘ (اے اللہ ہمیں رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچنے کی توفیق عطا فرما۔) آپ ؐ عام دنوں میں بھی نیکی کے کاموں میں مشغول رہتے‘ مگر رمضان میں بہت زیادہ عبادت الٰہی کا اہتمام فرماتے۔ہمیں بھی ماہِ شعبان کے آتے ہی اپنے تمام امور و معاملات کو اس نقطۂ نظر سے منضبط کر لینا چاہیے کہ رمضان المبارک کی ایک ایک گھڑی ہمارے لیے مفید اور با برکت ثابت ہو۔
٭روزے کی فرضیت:روزے کی فرضیت کا حکم ہجرت کے ڈیڑھ سال بعد مدینہ منورہ میں وحی کے ذریعے آنحضور ؐ پر نازل ہوا۔''اے لوگو!جو ایمان لائے ہو،تم پر روزے فرض کر دیے گئے،جس طرح تم سے پہلے انبیاکے پیروکاروں پر فرض کیے گئے تھے۔ توقع ہے کہ ان سے تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔چند مقررہ دنوں کے روزے ہیں۔اگرتم میں سے کوئی بیمارہویا سفرپر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں)تو وہ فدیہ دے دیں۔ایک روزے کا فدیہ‘ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے‘تو یہ اُسی کے لیے بہترہے‘لیکن اگر تم سمجھو تو تمھارے حق میں اچھا یہی ہے کہ تم روزے رکھو‘‘۔(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر183،184)
یہ حکم 2ہجری کا ہے۔ اس سے اگلی آیت نمبر185 میں، جو ایک سال بعد نازل ہوئی، حکم دے دیا گیا کہ روزے میں چھوٹ محض معذور ودائمی مریض لوگوں کے لیے ہے۔ تندرست وتوانا لوگوں کو روزہ ہی رکھنا ہوگا۔''رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ‘جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ‘جو راہِ راست دکھانے والی اور حق وباطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لاز م ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمھارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمھیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمھیں سرفراز کیاہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار واعتراف کرو اور شکر گزار بنو‘‘۔(سورۃ البقرۃ،آیت نمبر185)
٭تقویٰ کا معیار:روزہ،دین اسلام کا چوتھا رکن ہے۔عربی زبان میں روزے کو صوم کہا جاتا ہے،جس کی جمع صیام ہے۔ مندرجہ بالا آیات کے مطابق روزے کی فرضیت کی اصلی غایت اہل ایمان کے دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔بلاشبہ روزہ اس کا بہترین ذریعہ ہے۔نبی رحمتؐ کی حدیث کے مطابق ''تقویٰ کا منبع دل ہے‘‘اور روزے کی حالت میں واقعتاً دل کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ شدید بھوک اور پیاس کے باوجود مکمل تنہائی میں بھی کوئی روزہ دار کسی مشروب کا ایک قطرہ یا کسی غذا کا ایک ذرہ بھی اپنے حلق سے نیچے نہیں جانے دیتا۔یہی تصور بندے اور رب کے درمیان وہ تعلق قائم کرتاہے ،جسے تقویٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔روزے کو حدیث میں ڈھال بھی قرار دیا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ ڈھال دشمن کے مقابلے میں اپنے دفاع کے لیے استعمال ہوتی ہے۔نفس امارہ،فسق و فجور سے بھرا ہوا ماحول اور شیطان لعین ہر وقت انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ان سب کا مقابلہ کرنے کے لیے ماہِ رمضان کے روزے مسلسل تربیت کا موثر کورس ہیں۔اس تربیت کے اثرات اگر باقی گیارہ مہینوںمیں نظر آئیں تو سمجھ لیجیے کہ روزہ اللہ کے ہاں مقبول ہو گیا ہے اور روزہ دار سرخرو ہے۔خدانخواستہ اگر ایسا نہ ہو تو روزہ محض بھوک پیاس بن کر رہ جاتا ہے۔ایسے روزے سے روزہ دار کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
٭نیکیوں کاموسم بہار:ماہِ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے اور خوش قسمت ہیں‘ وہ لوگ جو اپنا دامن خیروبرکت سے بھرلیں۔ ماہِ رمضان کی آمد کے باوجود جن لوگوں کو نیکی کی جانب قدم بڑھانے کی توفیق نہیں ملتی،ان کی بدنصیبی اس سے عیاں ہے کہ جبریل امین ؑنے ان کے حق میں تباہی و بربادی کی دعا فرمائی اور اللہ کے رسولؐ نے اس پر آمین کہا۔اس مہینے کے فضائل بے شمار ہیں۔حدیث میں فرمایا گیاکہ اس مہینے میں نفل عبادات کااجر فرض کے برابر اور فرض کا اجر ستر گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ رمضان کو صبر کا مہینہ قرار دیاگیا ہے اور صبر کا بدلہ جنت بتایا گیا ہے۔روزہ محض معدے کا نہیں ہوتا بلکہ پورے اعضا ؛آنکھ،کان،ناک،زبان،ہاتھ، پائوں ،دل و دماغ،فکروسوچ،غرض ہرچیز پر محیط ہوتا ہے۔
٭روزہ اور جہاد:ماہِ رمضان ہر سال آتا ہے اور ایک پیغام دے کر چلا جاتا ہے۔ماہِ رمضان کے دوران جہاد اور مجاہدین سے مکمل وابستگی،ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے‘جس سال روزے فرض ہوئے ،اس سال ماہِ رمضان ہی میں کفرواسلام کا پہلا معرکہ بدر کے میدان میں برپا ہوا،جسے قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے۔آنحضورؐ کو فیصلہ کن فتح 8ہجری میں رمضان ہی میں نصیب ہوئی، جب مکہ سرنگوں ہوا اور جزیرۂ نمائے عرب سے کفر کا خاتمہ ہوگیا۔ ہمیں پاکستان کی نعمت بھی اسی مہینے میں عطا کی گئی، جس کی قدر ہم نہ کرسکے۔ آج بھی اپنا جائزہ لینے اور محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ اسلام جہاد اور شہادت سے مزّین ہے۔ پہلی شہادت تومکہ میں ایک صحابیہ سیّدہ سمیّہؓ کے حصے میں آئی۔ پھر اس فہرست میں ایک ہی روز یعنی یوم بدر(17؍رمضان المبارک2ھ) کو چودہ عظیم المرتبت شہدا کا اضافہ ہوا۔ وہ دن اور آج کا دن اس فہرست میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ جہاد جاری ہے اورقیامت کے دن تک جاری رہے گا۔ جہاد کے خلاف آج داخلی وخارجی ہر محاذ پر انتہائی گھناؤنی سازشوں کا جال بچھا دیا گیا ہے‘ مگر ہمیں بطور مسلمان اللہ اور اس کے رسول کا یہ حکم ہے کہ ہم ان سازشوں کا مقابلہ کریں اور جہاد میں حصہ لیں۔ جو شخص خود عملاً جہاد میں شریک نہ ہوسکے وہ کسی مجاہد کو زادِجہاد فراہم کردے یا اس کے پیچھے اس کے اہلِ وعیال کی خبر گیری میں لگ جائے یا شہدا کے خاندانوں کا کفیل بن جائے‘ تو وہ بھی عملاً جہاد میں شریک شمار ہوتا ہے۔ ایسے شخص کا اجر حدیث پاک میں مجاہدین کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
٭رویتِ ہلال:ماہِ رمضان کا چاند دیکھنے کا اہتمام اسلام میں ضروری ہے۔ الحمد للہ اس مرتبہ بھی شعبان کے ایام مکمل ہونے کے بعد رمضان کا چاند نکلا تو اہل ایمان نے مسرت کے ساتھ اس کا استقبال کیا۔ رمضان کی برکات و رحمتیں امتِ مسلمہ کے شامل حال ہوگئیں اور مخلص اہل ایمان ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے۔ بعض لوگوں کے نزدیک خوشی اور مبارک باد محض عید کا چاند دیکھنے پر ضروری ہے، یہ درست نہیں۔ دونوں مواقع بندۂ مومن کے لیے بابرکت ہیں۔ رمضان کا چاند اس لیے کہ وہ رحمت، مغفرت اور دوزخ سے 
خلاصی کے تحائف لے کر آتا ہے اور شوال اس لیے کہ اس میں اللہ مخلص بندوں کو انعام دیتا ہے۔ 
روزامہ دنیا  22 مئی  2018ع

اتوار، 20 مئی، 2018

بڑے شاہی محلات کے چھوٹے مکین



جوں جوں نئی نئی چیزوں کا علم ہوتا ہے تو دل دکھی ہوتا ہے۔
ملائشیا کے مہاتیر محمد نے وزیراعظم بنتے ہی جو احکامات جاری کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ سابق وزیراعظم نجیب رزاق اور ان کا خاندان ملک سے باہر نہیں جاسکتا ۔ دوسرا حکم یہ دیا اس کے گھر پر چھاپہ مارا جائے۔ 
مہاتیر محمد اپنے سابق وزیراعظم نجیب رزاق جسے انہوں نے ہی سیاسی طور پر پالا پوسا اور بڑا کیا اور ملک کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں دے کر ریٹائر ہوگئے تھے‘ اب نو مئی کو ہونے والے انتخابات جیت کر واپس لوٹے ہیں ۔ جب پولیس نے گھر پر چھاپہ مارا تو سابق وزیراعظم کی بیوی کے زیورات برآمد ہوئے جن کی مالیت تین کروڑ ڈالر یا ساڑھے تین ارب روپے بنتی ہے۔ 
جمہوریت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو جتنے اعلیٰ عہدے پر بیٹھتا ہے وہ اتنا ہی جواب دہ ہوتا ہے۔ سیاست میں عموماً عوام ایسے لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں جن کے بارے میں ان کی رائے ہوتی ہے کہ وہ ذہین انسان اور امیر لوگ ہیں۔ اس لیے پاکستان جیسے ملکوں میں آپ دیکھیں گے جس کے پاس بڑی گاڑیاں، بڑا گھر، اور چند نوکر ہیں وہ اگر الیکشن میں کھڑا ہوجائے تو اس کے جیتنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کیونکہ عام انسانوں کو لگتا ہے وہ بندہ ایک کامیاب انسان ہے۔ ایک ایسا انسان جو اپنی قسمت بدل چکا اب وہ اپنی ذہانت سے ان کی زندگیاں بھی بدل دے گا ۔ یہ عام ووٹر کی وہ نفسیات ہوتی ہے جس کی بنا پر وہ اپنے جیسے پھکڑ کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ اپنے سے مالی اور سماجی طور پر بہتر انسان کو چنتے ہیں ۔ 
ایسا انسان جو بڑی گاڑی پر سفر کرتا ہو، بڑے گھر میں رہتا ہو، اور نوکروں کی ایک فوج ہو وہ دراصل عام انسانوں کا ایک رول ماڈل ہوتا ہے۔ ہر کوئی وہی لائف گزارنا چاہتا ہے جو ان کے دروازے پر ووٹ مانگنے کے لیے آیا ہوا ایک امیر انسان گزار رہا ہوتا ہے۔ اس عام ووٹر کو لگتا ہے کہ قسمت کی دیوی اس پر مہربان ہوگئی ہے کہ آج بھگوان ان کے دروازے پر خود ہی چل کر آ گیا ہے ۔ یوں وہ بڑا آدمی اس سوچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ووٹ لیتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے عام ووٹر کے خواب پورے کیوں نہیں ہوتے؟ اس سے دھوکا کون کرتا ہے؟ یا ایسا ووٹر خود اپنی بربادی کا ذمہ دار ہوتاہے؟
اس سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے وہ بڑا آدمی جو سیاستدان کا روپ دھار کر اس کے پاس آتا ہے اس کے پاس تو وہ کچھ ہے جو اس کے حلقے کے لوگ ترستے ہیں۔ پھر وہ کیوں ان کا مال ہی لوٹنے پر لگ جاتا ہے؟
مان لیتے ہیں ہر انسان کو طاقت، اختیار اور دولت چاہیے ہوتا ہے۔ چلیں یہ بھی مان لیتے ہیں اختیار اور طاقت کی کوئی حد نہیں ہوسکتی۔ ہر انسان اپنے مطابق اس کا فیصلہ کرتا ہے اور ہمیشہ زیادہ کا طلب گار رہتا ہے۔ لیکن ایک سوال دولت بارے ضرور بنتا ہے ایک انسان کو کتنی دولت ایک زندگی گزارنے کے لیے چاہیے ہوتی ہے؟ اس سے بڑا سوال یہ ہے وہ کیوں سات نسلوں کی دولت خود کما کر اس دنیا سے جانا چاہتا ہے؟ کالم نگار دوست ہارون الرشید کا ایک خوبصورت جملہ یاد آتا ہے کہ امیر انسان کو غریبوں سے زیادہ دولت چاہیے ہوتی ہے۔ 
لیکن سوال وہی کس قیمت پر؟ 
اب یہی دیکھ لیں جب یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے تو ان کے خاندان پر یہی الزام لگتے تھے۔ ان کے بیوی بچوں بارے یہی کہانیاں مشہور تھیں۔ ترکی کی خاتون اول کے دیئے ہوئے ہیروں کے ہار کا قصہ بھلا کس کو بھول سکتا ہے؟ تو کیا ملا پھر گیلانی کو وہ ایک ہار لے کر؟ کیا آٹھ دس لاکھ روپے کے ہار کی قیمت اور قدر ایک وزیراعظم سے بہت زیادہ تھی لہٰذا اس کے لیے وہ اپنی عزت بھی دائو پر لگا بیٹھے؟ 
اس طرح بینظیر بھٹو پر سوئٹزرلینڈ میں ایک مقدمہ چلا۔ ان پر الزام تھا انہوں نے وزیراعظم ہوتے ہوئے ایک نیکلس خریدا جس کی ادائیگی ایک پارٹی نے کی تھی۔ تو کیا پانچ دس لاکھ روپے کا نیکلس اس قابل تھا کہ ایک ملک کی وزیراعظم اس کے لیے سوئٹزر لینڈ میں مقدمے کا سامنا کرتیں؟ یہ وہی نیکلس ہے جس کے لیے زرداری نے پچھلے سال ایک خط سوئس حکام کو لکھا وہ اس کی مرحومہ بیوی کا تھا اور وہ وصول کر بھی لیا ہے۔ سوال یہ ہے جونیکلس بینظیر بھٹو کے گلے میں ایک پھندا بن گیا تھا وہ اس کے وارثوں کو کوئی خوشی دے سکے گا ؟ 
مجھے یاد ہے میں نے ایک سٹوری کی تھی جس میں جنرل مشرف اور شوکت عزیز کو غیرملکی دوروں میں ملنے والے تحائف کی تفصیلات دی گئی تھیں ۔ جنرل مشرف کی بیگم کو سعودی عرب سے ہیروں کے ہار، سونے کے زیورات اور بھرے ہوئے جیولری باکس ملے تھے جو وہ گھر لے گئی تھیں ۔ میں ان سرکاری دستاویزات کو دیکھ کر پری کی کہانی کی طرح ہنسا بھی تھا اور رویا بھی۔ ہنس اس لیے پڑا تھا کہ بینظیر بھٹو مرتے دم تک دس لاکھ روپے مالیت کے ایک نیکلس کا مقدمہ سوئٹزر لینڈ میں بھگتتی رہیں جب کہ جنرل مشرف کی بیگم نے ایک ہی ہلے میں سعودی عرب سے ایک کروڑ روپے مالیت کے قریب ہیرے جواہرات اور زیوارت چپکے سے لے لیے تھے۔ 
بعد میں اسی جنرل مشرف نے سعودی بادشاہ سے ایک ارب روپے کیش تحفہ بھی قبول کر لیا۔ شوکت عزیز کی بیگم صاحبہ کو بھی اسی طرح سونے کے زیورات اور ہیرے جواہرات تحفے میں ملے تھے۔ شوکت عزیز نے تو تحفے میں ملنے والی مفت بنیان، نکر، انڈروئیر تک نہیں چھوڑے تھے اور قیمتی تحائف کا ایک پورا کنٹینر بھر کر پاکستان سے باہر لے گئے تھے۔ نواز شریف کو بھی اس طرح تحائف ملتے رہے ہیں لیکن وہ اس کی تفصیل بتانے کو تیار نہیں تھے۔ قومی اسمبلی میں کہا گیا نواز شریف کو ان چار سالوں میں ملنے والے تحائف کی تفصیل دی جائے تو کابینہ ڈویژن کے زکوٹا جنوں نے جواب دیا کہ نواز شریف کو ملنے والے سب تحائف کی تفصیل ایک ایسا قومی راز ہے جو قوم کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاسکتا ۔
مریم نواز کے تحائف کی تفصیل ہم سب جانتے ہیں۔ پہلے انہوں نے کہا ان کی لندن چھوڑیں پاکستان تک میں کوئی جائیداد نہیں ۔ جب پاناما سکینڈل سامنے آیا تو پتہ چلا نہ صرف ان کی پاکستان میں بہت بڑی جائیداد ہے بلکہ لندن میں بھی ہے۔ اس پر ہمیں بتایا گیا انہیں ان کے والد نے کروڑوں روپے تحفہ کے طور پر دیے تھے۔ نواز شریف سے پوچھا گیا آپ کے پاس کروڑوں روپے کہاں سے آئے تھے تو انہوں نے جواب دیا میرا بیٹا لندن دبئی میں بزنس کرتا ہے اور اس نے مجھے سو ارب روپے نقد تحفہ دیا ہے جس میں سے میں نے پچاس کروڑ روپے کے قریب اپنی بیٹی کو تحفہ دے دیا۔ بیٹی سے پوچھا گیا کہ یہ سچ ہے؟ وہ بولیں جی سچ ہے لیکن میں نے وہ اب نقد تحفہ باپ کو واپس کردیا ہے۔ بیٹے حسین نواز سے پوچھا گیا جناب آپ کے پاس اربوں ڈالرز کہاں سے آئے تو وہ بولے آپ مجھ سے میرے ذرائع نہیں پوچھ سکتے کیونکہ میں برطانوی شہری ہوں۔
ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب کی بیوی سے پولیس چھاپے میں برآمد ہونے والے ساڑھے تین ارب روپے کے ہیرے جواہرات اور زیورات کی تفصیل پڑھتے ہوئے حیران ہو رہا ہوں انسان کی لالچ اور حرص کی سرحد کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے؟ کیا ایک عورت ساڑھے تین ارب روپے کے زیورات اپنی پوری عمر میں پہن سکتی ہے؟ وزیراعظم نجیب جس کی تنخواہ دس لاکھ روپے کے قریب ہو کیا اس کی بیوی ساڑھے تین ارب روپے کے زیورات افورڈ کرسکتی ہے جب تک اس کا خاوند کوئی بڑا ڈاکا نہ مارے اور اپنی پوزیشن کا غلط استعمال نہ کرے؟ 
اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ایک مرد کو اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لے اس حد تک جانا چاہیے؟ چلیں عام انسان چھوڑیں کیا ایک وزیراعظم کی بیوی کو یہ کام کرنا چاہیے جس پر کروڑوں لوگوں نے اپنی زندگیاں بہتر کرنے کا بھروسہ کررکھا ہو؟
اپنا ایک قریبی دوست یاد آیا۔ ایک دن اس کی بہن اپنے میاں کا گھر چھوڑ کر آگئی ۔ اپنا بیٹا بھی ساتھ لے آئی۔ وجہ پوچھی تو بولی میرا خاوند رشوت لیتا ہے۔ میں حرام کی کمائی سے اپنے بیٹے کو کھانا نہیں کھلائوں گی ۔ وہ اس وقت گھر واپس گئی جب اس کے خاوند نے اپنے چھوٹے بچے کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ آئندہ وہ رشوت نہیں لے گا ۔ 
حیران ہوتا ہوں شاہی محل کے مکینوں ، دنیا کے پانچ ملکوں میں جائیدادوں کے مالک ، منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والے بادشاہوں کے بیوی بچوں میں اتنی سی بھی خودی ، ایمانداری، عزت نفس اور حرام کی دولت سے نفرت نہیں جو میرے دوست کی ایک عام سی بہن نے دکھائی تھی ؟ 
(رئوف کلاسرا)
(روزنامہ دنیا 20 مئی 2018ع)

جمعہ، 18 مئی، 2018

نواز شریف : شاہ جہاں یا اورنگزیب...؟


رئوف کلاسرا
نواز شریف کے مسلسل بیانات اور دھمکیاں سن اور پڑھ کر شیکسپیئر یاد آتا ہے ۔ جب دیوتا کسی کو سزا دینے پر تل جاتے ہیں، تو وہ سب سے پہلے اس بندے کا دماغ خراب کردیتے ہیں ۔ دماغ خراب کرنے کے بعد اسے کسی سزا کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ انسان سب سزائیں خود کو دیتا رہتا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک ۔
نواز شریف اور ان کے حواریوں نے شیکسپیئر ین ٹریجڈی ڈرامے پڑھے ہوتے تو انہیں پتہ ہوتا ،ہر بادشاہ کا ایک Tragic flaw ہوتا ہے ،جو اس کے زوال کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ایک ایسی کمزوری جو اس بادشاہ کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ وہ بادشاہ فرسٹریشن یا غصے یا اپنی مجروح انا کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایسا نیچے گرتا ہے کہ وہ جنگلوں کی خاک چھانتا پھرتا ہے۔ رات محل میں سویا تھا، تو اگلا دن وہ جنگل میں بھوکا پڑا تھا۔ بادشاہ ایک مرحلے پر خود کو دیوتا سمجھ لیتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ان کے بغیر نہ ریاست چلے گی اور نہ ہی انسان زندہ رہیں گے۔ ہر وقت کا پروٹوکول اور ان کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات پوری ہونے کی ایسی عادت پڑ جاتی ہے کہ انسان اس میں ڈھل جاتا ہے۔ ہر طرف سے داد و تحسین کے ڈونگرے، بادشاہ کے جلالی قصے کہانیاں، دربار میں درباریوں کے کورنش اور مسخروں کی جگت بازی بادشاہ کے لیے اہم ہوتے ہیں ۔ دربار میں وفادار ہی بیٹھ سکتا ہے،جو جتنا بڑا قصیدہ لکھ سکتا ہے، جو خوشامدی شاعری کر سکتا ہے، بادشاہ کے آبائو و اجداد کی شان و شوکت کے قصے سنا سکتا ہے، وہی بادشاہ کی رحمتوں کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ ایسے بادشاہوں کو یہ یقین درباری دلاتے ہیں کہ وہ اس دنیا میں اپنے جیسے لوگوں پر راج کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ ان پر کبھی زوال نہیں آئے گا۔ ان کے اندر کچھ خاص ہے، جو باقی ریاست کی رعایا میں نہیں ہے۔ خدا نے صرف اسے کیوں بادشاہ چنا۔۔۔آخرکچھ تو اس میں خاص بات ہوگی۔۔۔!
یوں دھیرے دھیرے ایسے انسان کی نفسیات میں یہ بات بیٹھنا شروع ہوجاتی ہے کہ وہ عام انسان نہیں ہے۔ وہ زمین پر خدا کا نائب ہے اور اسے ہر حق حاصل ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور اس کی کبھی کوئی باز پرس نہیں کرسکتا ۔ بادشاہ کوئی غلطی نہیں کرسکتا اور یوں بادشاہ کے اندر اپنی ذات سے اتنی محبت بھر جاتی ہے کہ وہ ابنارمل انسان بن جاتا ہے، جسے ہر وقت اقتدار میں رہنا ہے، چاہیے اس کی کوئی قیمت ادا کرنی پڑے ۔ انسانوں پر حکومت کرنے کا اپنا ایک نشہ ہے، جو دنیا کے سب نشوں پر بھاری ہے۔ پرانے زمانوں کو چھوڑ دیں ۔ اگر آپ جدید دور کی بھی بات کریں، تو بھی آپ کو نظر آئے گا، آج بھی بادشاہ یہی کچھ کرتے ہیں ۔ بادشاہ یہ مان ہی نہیں سکتاکہ اب ان کا زوال شروع ہو چکا۔ لیبیا کے کرنل قذافی کو دیکھ لیں۔ دیوار پر لکھا تھا کہ بغاوت ہوچکی یا کرائی جا چکی۔ وہ عوام کے ہاتھوں ایک پل کے نیچے زندہ مارے گئے، لیکن وہ ایک سائیڈ پر نہیں ہوئے۔ صدام حسین ایک بل سے پکڑے گئے، لیکن انہوںنے یہ ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ اب عراق کے صدر نہیں رہے۔ حسنی مبارک کے ساتھ یہی کچھ ہوا ۔ایک رات محل میں سوئے اگلی صبح جیل سے اسٹریچر پر ڈال کر عدالت میں ایک پنجرے میں قید تھے۔بہت سارے لوگ کہیں گے وہ بہادر لیڈر تھے، جو اپنے ملک سے بھاگے نہیں۔ ایسی بات نہیں تھی۔ صدام جس حالت میں ملے کہیں سے نہیں لگتا تھا، وہ مزاحمت کررہے تھے۔ وہ اس معاملے کو بہتر انداز میں حل کرسکتے تھے اور لاکھوں عراقیوں کی زندگیاں بچا سکتے تھے۔ وہ آخر دم تک اس حقیقت کو نہ مان سکے کہ آسمان ان کا دشمن ہوچکا تھا ۔ قذافی کا بھی یہی خیال تھا کہ ان کی آنکھیں کھلیں گی ،تو وہ دوبارہ صحرا میں اپنے شاہی خیمے میںاپنی خوبصورت خواتین گارڈز کے جھرمٹ میں ہوں گے۔ 
یہی خیال اب نواز شریف کا ہے۔ وہ اس حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں کہ ان کا دشمن آسمان ہوچکا، لہٰذا وہ ایک کے بعد دوسری غلطی کرتے جارہے ہیں۔ وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ وہ ایک ٹوٹی ہوئی پتنگ کے دھاگے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ شاید ڈور دوبارہ ہاتھ میں آجائے۔ اقتدار ایک ایسی ڈور ہے ،جو ایک دفعہ ہاتھ سے پھسل جائے، دوبارہ ہاتھ نہیں آتی۔ ممکن ہے کہ لوگ کہیں تین دفعہ تو اقتدار نواز شریف کو ملا۔۔۔اب چوتھی دفعہ بھی مل جائے گا۔ اگر یہ بات ہوتی، تو آج قذافی ، صدام اور حسنی مبارک بھی اپنے تخت پر بیٹھے ہوتے۔ وقت سب کو روند کر نکل جاتا ہے۔ نواز شریف کے ہاتھ سے بھی وقت نکل چکا ۔ لاکھ ان کے حواری ان کو یقین دلاتے رہیں کہ ماضی کی طرح وہ دوبارہ کم بیک کرسکتے ہیں ، بات نہیں بنے گی۔ یہ نواز شریف کو بھی پتہ ہے کھیل ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ اس لیے وہ سب کشتیاں جلا رہے ہیں ۔ رہی سہی کسر وہ ممبئی حملوں پر بیانات دے کر پوری کرچکے ہیں، جس سے ان کی اپنی پارٹی ڈر گئی ہے اور اب پارٹی کا ٹکٹ لینے کے لیے کم لوگ ہی تیار ہے ۔ اب پانچ دن کی تاریخ مزید بڑھائی گئی ہے۔ نواز شریف تو اپنی سب کشتیاں جلا چکے ہیں،لیکن ان کے ساتھی خوفزدہ ہیں۔ وہ اس سب بغاوت کے لیے تیا رنہیں ہیں۔
اب پارٹی کے اندر بھی لڑائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ ''دنیا ‘‘اخبار کے شاندار رپورٹر طارق عزیز جو اندر کی سیاسی خبریں لانے میں کمال رکھتے ہیں کی خبر ہے کہ پچھلے اجلاس میں نواز شریف کی موجودگی میں سعد رفیق کو آصف کرمانی کے ہاتھوں ذلیل کروایا گیا ۔ یہ نواز شریف کا پرانا طریقہ واردات ہے۔ ماضی میں بھی جاوید ہاشمی کو نواز شریف پارٹی لیڈروںکے ہاتھوں ذلیل کروا کے مزے لیتے تھے۔ جاوید ہاشمی کو ذلیل کروا کے نواز شریف کو دلی سکون ملتا تھا ، پھر یہ کام چوہدری نثار علی خان کے ساتھ ہونا شروع ہوا۔چوہدری نثار کو پہلے چوہدری اعتزاز احسن کے ہاتھوں قومی اسمبلی میں ذلیل کرایا گیا ، پھر پرویز رشید کو استعمال کیا گیا۔ چوہدری نثار کو دیگر وزراء کے ساتھ ایک کرسیوں کی قطار میں تیسرے چوتھے نمبر پر بٹھایا جاتا تھا جبکہ عرفان صدیقی، نواز شریف کے ساتھ برابر کرسی پر بیٹھتے تھے۔ نواز شریف کو علم تھا کہ چوہدری نثار پر اگر ذہنی تشدد کرنا ہو تو انہیں نظرانداز کرو یا پروٹوکول نہ دو۔ یہ حربہ کامیاب رہا اور چوہدری نثار کو آرام سے ایک سائیڈ پر کر دیا گیا۔ اب یہی حربہ کرمانی کے ذریعے خواجہ سعد رفیق پر آزمایا گیا ہے۔ 
یوں اگر دیکھا جائے ،تو نواز شریف ہر اس انسان سے خوفزدہ ہیں، جو ان کے سامنے بات کرنے کی جرأت رکھتا ہو یا تھوڑی سی خودی اس میں باقی ہو۔ جاوید ہاشمی کو دیکھ کر انہیں احساس جرم ہوتا تھا کہ وہ پانچ سال جیل میں رہا جبکہ وہ جنرل مشرف سے ڈیل کر کے جدہ نکل گئے تھے۔ لہٰذا جب جاوید ہاشمی کی ان کی موجودگی میں بے عزتی ہوتی تھی، تو وہ مزے لیتے تھے۔ ان کا احساس جرم کم ہوتا تھا ۔ 
سیانے کہتے تھے جب برا وقت چل رہا ہو تو اس وقت خاموشی سے ایک طرف ہو جانا چاہیے۔گاڑی کا ٹائر پھٹ جائے تو سمجھدار اسے آہستہ کرنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں ،نہ کہ اچانک ریس پر پائوں ڈال دیتے ہیں ۔ یہاں الٹ ہورہا ہے، اگر نواز شریف کا کلیہ ایک عالمی حقیقت ہوتا تو پھر ہندوستان کا بادشاہ شاہ جہاں اپنے تین بیٹوں سمیت اورنگزیب کے ہاتھوں شکست خوردہ نہ ہوتا۔ دلی کی راجدھانی تو شاہ جہاں کے پاس تھی اور اورنگزیب دلی سے سینکڑوں کلو میٹر دور بیٹھا تھا ۔ جب آسمان ہی ہندوستان کے شہنشاہ شاہ جہاں کا دشمن ہوگیا تھا ،تو پھر سب تدبیریں الٹی ہوگئیں ۔ شاہ جہاں قید ہوا تو اس کے تین بیٹے اور خوبصورت پوتے اورنگزیب کے ہاتھوں ذبح ہوئے۔ شاہ جہاں کی شہزادی بیٹی اپنے باپ اور بھائیوں کے جھگڑے نمٹانے کے لیے کتنے ترلے منتیں کرتی ۔ کبھی باپ کے پائوں پکڑتی تو کبھی اپنے بھائی اورنگزیب کو بہن کی محبت کا واسطہ دے کر خط لکھتی کہ تم آجائو سب کچھ بیٹھ کر طے کر لیں گے۔ اورنگزیب کو خطرہ تھا کہ اس کا باپ اور بھائی اس کی پیاری بہن کو استعمال کر کے اسے بلا کر مار ڈالیں گے۔
یہ کچھ ہوتا ہے جب اقتدار کی جنگ شروع ہوتی ہے، تو پہلے اپنے خون کے رشتوں سے اعتبار ختم ہوتا ہے ۔ نواز شریف اورنگزیب ہیں اور نہ ہی داراشکوہ ۔ ہاں! نوازشریف ہندوستان کے ایک غمزدہ بادشاہ شاہ جہاں کی پوزیشن میں ضرور ہیں، جن سے اقتدار چھن چکا یا پھر ایک تنہا ، غمزدہ اور کنگ لیئر جوگلہ پھاڑ کر جنگلی طوفان میں تقدیر سے پوچھتا پھرتا تھا کہ اس کا کیا قصور تھا ، اسے کیوں ریاست سے دربدر کر دیا گیا ؟ نواز شریف اب شاہ جہاں کی طرح وہ شہنشاہ ہے، جو شاہی قلعے کی فلک بوس فصیلوں کے اندر قید تو ہوسکتا ہے، لیکن دلی کی راجدھانی پر دوبارہ سنہری تاج پہن کر تخت نشین نہیں ہوسکتا ۔ قدرت اور ہزاروں برس پرانی انسانی تاریخ نواز شریف کے لیے اپنے ابدی اصول اور تکلیف دہ سبق تو بدلنے سے رہی۔۔۔!


بدھ، 16 مئی، 2018

یہ جگر کی آگ کیسے ٹھنڈ ی ہوگی ؟


 ایاز امیر
ذوالفقار علی بھٹو تختہ ِ دار پر چڑھ گئے ، جنرل ضیاء الحق کو برا بھلا کہا، لیکن بطور ادارہ فوج کے خلاف کوئی بات نہ کی ۔ سینے میں دَبے ایٹمی راز کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہ کہا ۔ قومی مفاد کے خلاف کچھ نہ بولے ۔ نوازشریف کیسے رہنما ہیںکہ نااہلی کی وجہ سے سینے میں سُلگتے اَنگاروں کو تسکین دینے کیلئے قومی مفاد کو داؤ پہ لگا رہے ہیں ۔ ممبئی حملوں کے بارے میں وہ کچھ کہہ گئے کہ ہندوستانیوں کو سمجھ نہیں آرہا کہ کوئی پاکستانی رہنما ہندوستان کی بولی اس طرح سے بولے گا۔ ہندوستانی میڈیا کی حیرانگی اورخوشی تھمنے کو نہیں آرہی ۔ 
بجائے شرمندگی یا نظر ثانی کے نوازشریف اس خطرناک بیان پہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ مقصد اُن کا صاف ظاہر ہے ۔ سزا اگر احتساب عدالت سے ہوتی ہے تو دنیا کو باور کرانا چاہیں گے کہ سزا اُنہیں دراصل اُن کی دہشت گردی پہ مؤقف کی بناء پہ ملی ہے ۔ مزید کہتے ہیں کہ حق بات کرتا رہوں گا چاہے کچھ بھی سہنا پڑے ۔ یہ وہ شخص کہہ رہاہے ،جس نے پانامہ کیس کے معاملے میں دروغ گوئی کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ۔ ایک لفظ بھی صداقت پہ مبنی لبوں سے ادا نہیں ہوسکا۔خاندان کے ہر فرد کا مؤقف ایک دوسرے سے جدا ہے ۔یہ ہیں ہمارے حق بات کے چیمپئن۔
عدلیہ اورفوج تو کیا اُنہوں نے براہ راست حملہ ریاست پہ کیاہے۔ ریاست پاکستان کا مؤقف ممبئی حملوں پہ کچھ اور ہے، لیکن نوازشریف اُس سے بالکل اُلٹ کہانی بیان کررہے ہیں ۔ اس طریقے سے وہ ریاست ِ پاکستان کو اقوام عالم میں جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے کی شاید ہی کوئی نظیر ملتی ہو ، جو اُونچے عہدوں پہ رہے ہوں وہ اپنے ملک کے خلاف بات نہیں کرتے، چاہے کسی مسئلے پہ اُن کے تحفظات کچھ بھی ہوں ۔ امریکہ میں عراق پہ حملہ وسیع حلقوں میں امریکی پالیسی کا بہت بڑا بلنڈر سمجھا جاتاہے، لیکن امریکی سیاستدان یا سابقہ صدور اِس بلنڈر کا ڈھنڈورا دنیا میں نہیں پیٹتے ۔
نوازشریف کا کمال ہے کہ پاکستان کے دُشمنوں کی ترجمانی کی ہے۔ صرف اس لئے کہ امریکی ہمدردیاں حاصل کرسکیں شاید اِس اُمید پہ کہ اُن کی داخلی مصیبتوں میں اُنہیں کچھ ریلیف مل سکے ۔ باالفاظ دیگر ،ملک اوراُس کا مفاد جائیں بھاڑ میں، بس نوازشریف اورخاندان کیلئے آسانیاں پیدا ہوں۔پاکستان کا خیال تو نہ آیا کچھ اپنی جماعت کا سُوچ لیتے ۔نوازشریف کابیان نون لیگ پہ بجلی کی مانند گراہے ۔اُس کے دیگر لیڈران کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا کہیں۔شہبازشریف ہر لحاظ سے بڑے بھائی کے بیان سے مکمل منحرف ہوگئے ہیں ۔کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف ایسی بات کرہی نہیں سکتے اوریہ کہ اُن کی باتیں سیاق وسباق سے ہٹ کے پیش کی گئی ہیں ۔ یہ بھی عجیب مؤقف ہے ۔ نوازشریف کا انٹرویو کسی غیر ملکی اخبار میں شائع نہیں ہوا۔ خود نوازشریف اپنی بات پہ قائم ہیں۔وزیراعظم البتہ اپنے قائد کا دفاع کررہے ہیں اوراس طریقے سے کہ اپنے آپ کو جوکر بنا کے رکھ دیاہے۔ نہ اپنے عہدے کا خیال ہے نہ ملک کی عزت کا ۔ 
جو باتیں نوازشریف نے کی ہیں ،وہ کوئی سندھی یا پیپلز پارٹی کا کوئی رکن کرتا تو پنجاب میں ایسا طوفان آتا کہ تھمنے کا نام نہ لیتا ۔ ایساکہنے والے کو زندہ چبا لیا جاتا۔ رونا یہ ہے کہ نوازشریف پنجاب کے لیڈر ہیں اورپنجاب آبادی اوروسائل کے اعتبار سے ملک کا سب سے طاقتور صوبہ ہے۔ 1947ء سے لے کر اب تک حُب الوطنی کا ٹھیکہ اسی صوبے نے لے رکھاہے ۔ اسی صوبے کا لیڈر اب ہندوستان کی بولی بول رہا ہے ۔ 
نوازشریف کے بنیادی مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اُنہیں سیاسی لیڈر فوج اورایجنسیوں نے بنایا ۔ لیکن جب لیڈر بن گئے تو اُنہی ہاتھوں کو برداشت نہ کرسکے جو اُن کے بنانے میں پیش پیش تھے ۔ اسی لئے یہ عجیب منظر دیکھنے کو آیا کہ تین مرتبہ بننے والے وزیراعظم کی کسی ایک آرمی چیف سے نہ بن سکی ۔ ہر ایک سے اُن کے پرابلم کھڑے ہوگئے ۔ کس کس کا نام لیا جائے ۔اسلم بیگ کو نہ برداشت کرسکے ۔ آصف جنجوعہ سے باقاعدہ جنگ چھڑ گئی ۔ وحید کاکڑ نے اِنہیں گھر بھیجا ۔ جہانگیر کرامت سے زیادہ شریف النفس آرمی چیف ہو نہیں سکتاتھا ۔ اُن سے بھی اِن کی اَن بَن ہوگئی ۔ مشرف کور کمانڈر منگلا تھے ۔وہاں سے اُن کی کھوج لگا کر اُن کو آرمی چیف بنایاگیا اس خیال سے کہ اُردو سپیکنگ ہیں اورفوج میں اُن کا زیادہ حلقہ ِ اَثر نہ ہوگا۔ یہ ایک بیوقوف آدمی کی ہی سوچ ہوسکتی تھی ۔ پاکستان آرمی کا جو بھی کمانڈر ہو ۔۔۔مہاجر ، پختون ، پنجابی یا فارسی نژاد یحییٰ خان ۔۔۔حکم اُسی کا چلتاہے۔ یہ کوئی نسلی یا لسانی فوج نہیں ہے ۔ چاہے کسی کو اچھا لگے یا نہیں ،یہ قومی فوج ہے اوراسی کے وجود سے ریاست قائم ہے ۔ بعد میں جو مشرف اورنوازشریف کے درمیان ہوا وہ ہم جانتے ہیں۔ 
مشرف کو نکالنا تھا تو معرکہ کارگل کے موقع پہ نکالتے ۔ مشرف نے بغیر اجازت کارگل کا محاذ کھولا اورہمارے زیرک وزیراعظم کی سمجھ میں بات نہ آئی کہ اس محاذ آرائی کے مضمرات کیا ہوسکتے ہیں۔بجائے سوال پوچھنے کے جنگی جنون کا حصہ بن گئے اورپھر جب معاملہ گمبھیر ہوا تو واشنگٹن کے اچانک دورے پہ نکلے ۔ آگ کے شعلو ں میں سے پاکستان کا بچاؤ امریکی مدد سے کیاگیا۔ لیکن اُس وقت مشرف کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی اورمہینوں بعد اکتوبر 1999ء میں جس کارروائی کی کوشش کی گئی اُس کا جواز نہ تھا۔ فوجی کمان نے بغاوت کردی اورہمیں پتہ ہے کہ اُس ساری صورتحال کا نتیجہ کیا نکلا۔ 
جنرل راحیل شریف سے تعلقات ٹھیک نہ رہ سکے اوراگر جنرل راحیل کے بارے میں کہا جائے کہ وہ آگے قدم رکھنے والے انسان تھے تو دھیمے مزاج کے جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی نوازشریف کے تعلقات زیادہ دیر ٹھیک نہ رہ سکے ۔ تو سوال اُٹھتاہے کہ نوازشریف چاہتے کیا ہیں ۔اُن کا فوج سے مسئلہ کیاہے؟مسئلہ یہی ہے کہ ذہنی برابری کی سطح پہ فوجی جرنیلوں سے بات کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اسی لئے دل میں خواہش رکھتے ہیں کہ فوجی جرنیل بھی وہ خوشامد اورتابعداری دکھائیں جو پنجاب کی سول انتظامیہ کے افسران دکھاتے ہیں۔ نوازشریف سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاک فوج کا سربراہ آئی جی یا چیف سیکرٹری پنجاب کی طرح تابعداری نہیں دِکھا سکتا ۔ یہ اُن کو ناگوار گزرتی ہے اورجلد بگاڑ پیدا ہوجاتاہے ۔ اس صورتحال کاکوئی حل نہیں ۔ نہ نوازشریف کی ذہنی سطح بلند ہوسکتی ہے نہ فوج کا کمانڈر انچیف اتنا نیچے آسکتاہے ۔ 
اَب کی بار معاملہ اورنازک ہوگیاہے ۔نوازشریف اقتدار سے معزول ہوچکے ہیں اوراگر ہم شواہد اورآثارپہ جائیں تو نیب عدالت سے سزا زیادہ دورنہیں۔ اس لئے تمام احتیاط کو ایک طرف پھینک کے وہ خطرناک جواء کھیلنے پہ تیار ہوگئے ہیں ۔ حملہ اُنہوں نے پاکستان اوراُس کی سکیورٹی پالیسیوں پہ کر ڈالاہے ۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ چیلنج دے رہے ہیں کہ میں نے یہ کردیاہے، آپ نے جو کرناہے کریں ۔ 
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ بھی لمبی تاویلوں میں پڑ گیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے حوالے سے یہ کچھ کیا اورہندوستان نے فلاں فلاں چیز نہیں کی۔ ایسی تاویلوں کی چنداں ضرورت نہ تھی ۔ اعلامیہ مختصر ہوتا اورصاف کہتا کہ سابقہ وزیراعظم نہایت غیر ذمہ دارانہ رویے کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اس سے زیادہ کی ضرورت نہ تھی ۔ البتہ اس پہ غور کیا جاسکتاتھا کہ آیا سابقہ وزیراعظم کو یہ کھلی چھٹی ملنی چاہیے کہ جو جی میں آئے وہ کہیں اورذرائع ابلاغ اُن کے خیالات کی بھر پور تشہیر کریں۔ 
مصیبت یہ ہے کہ حکومت بھی اِ ن کی اورحزب اختلاف کا کردار بھی یہ ادا کررہے ہیں ۔ باقی اس حکومت کی زندگی پندرہ روز رہ گئی ہے اورقوم کو یہ صورتحال اس عرصے کیلئے برداشت کرنی پڑے گی ۔ اُس کے بعد شاید حالات میں بہتری آئے ،لیکن نوازشریف نے جو حملہ ملک پہ کرنا تھا، وہ کردیا۔ 

(روزنامھ دنیا 16 مئی 2018ع)

منگل، 15 مئی، 2018

پونے دو مشیر، بیانیہ کی کمبختی اور بلیدان کا امکان


 خالد مسعود خان
پونے دو مشیروں نے میاں نواز شریف کو پوری طرح ڈبونے کا اہتمام کر رکھا ہے۔ نام لینا ضروری نہیں، سب کو پتا ہے کہ وہ کون کون ہیں۔ ایک تو پورا مشیر ہے۔ ایک آدھا اور ایک چوتھائی۔ یہ کل مل کر پونے دو بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ مشاورت کا دروازہ بند ہے۔ سو چوہدری نثار علی خان جیسے لوگ اس دروازے کے باہر کھڑے ہیں اور میاں صاحب کی آہستہ آہستہ ڈوبتی ہوئی سیاسی کشتی کو افسوس اور ملال کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
میاں صاحب کی اس ساری سیاسی بربادی کا آغاز بھی ڈان میں چھپنے والے سرل المیڈا کے کالم سے ہوا تھا اور گمان ہے کہ انجام بھی اسی اخبار اور اسی اخبار نویس کے ہاتھوں ہو گا۔ میاں صاحب کو دھکے سے بہادر بنانے کی اس مہم کا سارا نقصان صرف اور صرف میاں نواز شریف کو ہو گا اور رہ گئی بات ووٹ کو عزت دینے کی تو بات ووٹ کو عزت دینے سے نہیں ووٹر کو عزت دینے سے بنے گی اور میاں صاحبان (چھوٹے اور بڑے دونوں سمیت) ووٹر تو رہ گئے ایک طرف ووٹوں سے (جن کی عزت کا وہ راگ آج کل الاپ رہے ہیں) منتخب ہو کر آنے والے عوامی نمائندوں کی رتی برابر عزت نہیں کرتے۔ ووٹوں کے نتیجے میں وجود میں آنے والی پارلیمنٹ کے ساتھ وہ جو سلوک کرتے رہے ہیں، وہ سب کے سامنے ہے۔ میاں صاحبان نے سارے اہم سیاسی فیصلے پارلیمنٹ یا کابینہ سے مشورہ گھر بیٹھ کر کیے ہیں۔ خاص طور پر میاں نواز شریف کی ساری سیاسی مشاورت جاتی امراء تک محدود تھی۔ وہ پارلیمنٹ میں کم گئے اور برطانیہ زیادہ گئے۔ ان کے غیر ملکی دوروں کی تعداد ان کی پارلیمنٹ میں حاضری سے دس گنا سے بھی زیادہ ہے۔ پارلیمنٹ ان کے نزدیک صرف ان کو منتخب کرنے والے ایک فورم کا نام تھا جس کا کام ان کو منتخب کرنے کے بعد ختم ہو گیا تھا۔ کیونکہ وہ ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے تھے۔ اس لئے ان کے نزدیک ساری اہمیت صرف ووٹ کی ہے اس لئے وہ ووٹ کی عزت کا نعرہ لگا رہے ہیں اور آپ کو تو علم بھی ہو گا کہ ووٹ کی ساری اہمیت صرف اس وقت تک ہے جب تک اس کی گنتی نہ کی جائے اس کے بعد تو وہ بوریوں میں بند کر دیئے جاتے ہیں اور عدالتی اصرار کے باوجود ان کو دوبارہ پیش کرنے میں اس لئے ٹال مٹول بھی کیا جاتا ہے کہ ووٹ کی حرمت کے ساتھ جو سلوک ہوا ہوتا ہے وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ عدالت میں پیش کیا جا سکے۔ کہیں مہر نہیں لگی ہوتی۔ کہیں گنتی کے متعلقہ فارم موجود نہیں ہوتے۔ کہیں ریٹرننگ افسر کے دستخط نہیں ہیں اور کہیں ووٹر کا انگوٹھا ہی سرے سے موجود نہیں اور کہیں کہیں تو ووٹ کی عزت کا یہ عالم ہے کہ ایک ایک شخص نے بیس بیس لوگوں کی جگہ اپنا انگوٹھا لگا کر ثابت کیا ہے کہ یہ لوگ ووٹ کی عزت کے لئے کیا کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن فی الحال میاں نواز شریف کے تازہ بیان پر بات ہو رہی تھی۔
میاں نواز شریف فی الحال (اس کالم کے لگنے تک) صرف انٹرویو دے کر خود خاموش ہیں۔ باقی ساری جنگ ان کے گھر والے اور طبلچی برگیڈ لڑ رہی ہے۔ خاندانی کیمپ بھی واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے ایک کی قیادت مریم نواز شریف کر رہی ہیں اور وہ ''ون مین آرمی‘‘ ہیں۔ خود ہی کمانڈر ہیں اور خود ہی اس کمانڈر کی قیادت میں لڑنے والا جنگجو دستہ۔ دوسری طرف میاں شہباز شریف ہیں اور ان کے ساتھ حمزہ شہباز شریف ہیں۔ یہ دستہ دو نفری ہے لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ اس دستے کو بھی ''یک نفری‘‘ ہی سمجھا جائے کہ حمزہ شہباز شریف کی حیثیت ایک طفیلی سپاہی سے زیادہ نہیں ہے اس کے ساتھ اگر ''شہباز شریف‘‘ کا لاحقہ لگا ہو تو اس کی اہمیت کچھ بھی نہیں۔ بلکہ اگر سچ پوچھیں تو حمزہ شہباز شریف اپنے والد گرامی کے لئے ایک ''Liability‘‘ سے زیادہ نہیں کیونکہ شہباز شریف حکومت کی کرپشن کی بات ہو تو اس کا آغاز بھی حمزہ شہباز کے نام سے ہوتا ہے اور اختتام بھی حمزہ کے نام پر ہوتا ہے۔ ملتان میٹرو کے بارے میں بہت سی کہانیوں میں سب سے زور دار کہانی یہ تھی کہ اس پراجیکٹ کے تمام بڑے بڑے ذمہ داران کا رابطہ براہ راست حمزہ شہباز شریف سے بتایا جاتا تھا۔
نواز شریف اور شہباز شریف کیمپ کا ''بیانیہ‘‘ مختلف ہے۔ ویسے یہ لفظ ''بیانیہ‘‘ جتنا بے عزت اور بے وقعت پاکستان میں اب ہوا ہے اس کی مثال اردو تاریخ میں پہلے کہیں نہیں ملتی۔ ہم کسی ایک لفظ کو پکڑ لیتے ہیں اور اسے اتنا بے توقیر کر دیتے ہیں کہ وہ لفظ اللہ سے پناہ مانگنے پر آ جاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ہم لوگوں نے کئی الفاظ کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے۔ ایک لفظ ''تزویراتی گہرائی‘‘ یعنی Stratagic Depth کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا حتیٰ کہ یہ لفظ اپنی ہی کھودی ہوئی ''تزویراتی گہرائی‘‘ میں کہیں دفن ہو گیا۔ اب یہ 'بیانیہ‘‘ ہماری روزمرہ کی زندگی میں اس طرح داخل ہوا ہے کہ اللہ کی پناہ، خاص طور پر میاں نواز شریف کا تو ہر بیان ہی ''بیانیہ‘‘ بن کر رہ گیا ہے۔ خواہ وہ انتہائی احمقانہ ہی کیوں نہ ہو۔
ویسے تو میاں نواز شریف کا ہر دوسرا بیان ہی احمقانہ ہوتا ہے مگر کیونکہ وہ بیان نہیں ''بیانیہ‘‘ ہوتا ہے اس لئے وہ احمقانہ نہیں سمجھا جاتا۔ ویسے بھی جہاں آپ کے سیاسی ورکر دراصل سیاسی ورکر کے بجائے پیروکار، تابع فرمان، مقلد، مرید، معتقد، بلکہ غلام بن چکے ہوں ،وہاں کوئی بیان احمقانہ نہیں ہوتا اور ایسا ہر بیان دراصل ''بیانیہ‘‘ بن جاتا ہے۔ ان سیاسی غلام زادوں کی بات چھوڑیں، ہماری نوجوانی کے وہ لکھنے والے جن کو ہم آئیڈیل سمجھا کرتے تھے اور انہوں نے حق لکھنے کا ایک ایسا معیار بنا دیا تھا کہ اس معیار پر پورا اترنا بھی صرف انہی کا کام تھا ان میں سے بچے ہوئے ایک آدھ قلم کے مجاہد نے بھی اپنا قلم اور زور زبان میاں نواز شریف کے قدموں میں رکھ دیا ہے۔ کئی ایسے شاندار لکھنے والے جن کا سارا ماضی ان کے دائیں بازو کے ہونے کا گواہ ہے۔ انہوں نے بھی اپنی ساری صلاحیتیں اس میاں نواز شریف کیلئے وقف کر دی ہیں، جس کا اب دائیں بازو سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان میں دائیں بازو کو میاں نواز شریف نے اور بائیں بازو کو ذوالفقار علی بھٹو نے کس طرح اغوا کیا؟ یہ ایک بڑی مزیدار کہانی ہے جو کبھی پھر سہی۔ تاہم یہ دونوں اغوا کی کہانیاں اس اغوا کی کہانی سے قطعاً مختلف ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کے پورے دیو بندی مکتب فکر کو کس طرح اغوا کیا۔ لیکن افسوس ان دائیں بازو کے لکھنے والوں پر ہوتا ہے۔ 
اب میاں نواز شریف خود کو لبرل کے طور پر سامنے لا رہے ہیں اور اس ساری نظریاتی (اگر واقعتاً وہ نظریاتی تھے بھی) تبدیلی کے پیچھے بھی ان کی صاحبزادی کا ہاتھ ہے۔ اس سارے کھیل میں جس کی ابتدا ''ڈان لیکس‘‘ سے ہوئی تھی۔ میاں نواز شریف نا اہلی سے ہوتے ہوئے تا عمر نا اہل تک آ گئے ہیں اور اب وہ خلائی مخلوق سے جنگ لڑتے لڑتے ممبئی حملہ تک آ گئے ہیں۔ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ''میاں صاحب نے جو کہا، ملک کے بہترین مفاد میں کہا۔ ملک کو کیا بیماری کھوکھلا کر رہی ہے؟ میاں صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا، وہ علاج بھی بتا رہے ہیں‘‘۔ یعنی مریم نواز شریف ،میاں نواز شریف کے بیان کی تائید کر رہی ہیں۔ خرم دستگیر اور میاں شہباز شریف اس بیان کی توجیہات، تشریحات اور تاویلات دے رہے ہیں۔ لیکن اب معاملہ قومی سلامتی کونسل کے پاس ہے۔ سو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ لیکن اس سارے معاملے میں نواز شریف کا ''بلیدان‘‘ نہ ہو جائے۔ جس کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ اگر یہ ہوا تو اس کے ذمہ دار خود نواز شریف ہونگے جو پونے دو مشیروں کے نرغے میں ایک عرصے سے یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ ایک مشیر ان کے گھر کا ہے۔ آدھا مشیر میرا ایک دوست ہے اور چوتھائی بھی ایسا ہی سمجھ لیں۔
ملک خالد نے صبح فون پر پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے؟ میاں صاحب نے ایسا بیان کیسے دے دیا؟ میں نے کہا اللہ کا وعدہ ہے کہ کوئی شخص اس دنیا سے ایسے رخصت نہ ہو گا کہ اس کا اصل لوگوں کے سا منے نہ آ جائے۔ کالم چھپنے سے پہلے کئی باتیں سامنے آ چکی ہونگی مگر اب کی بار میاں صاحب اکیلے نہیں، بمعہ مشیران وغیرہ من جملہ ڈوبیں گے۔
 (روزنامہ دنیا)