منگل، 22 مئی، 2018

گرمیوں میں بچوں کا خیال


حریہ خان
قدرت کی ان گنت نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت بچے ہوتے ہیں۔ بچے قدرت کا وہ بیش قیمت اور انمول تحفہ ہیں جن کے دم سے ہماری زندگیاں مسکراتی ہیں۔ بچے پھولوں کی مانند ہوتے ہیں۔ جس طرح پھولوں کی صحیح طریقے سے نشوونما نہ کی جائے تو وہ مرجھانے لگتے ہیں اسی طرح بچے بھی صحیح نگہداشت اور توجہ کے طالب ہوتے ہیں۔ بچے سب ہی اچھے لگتے ہیں لیکن اپنے بچے والدین کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں جس طرح والدین اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں کوئی اور نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما آتے ہی جہاں مائیں اپنے لیے ملبوسات اور دیگر چیزوں کا موسم کے لحاظ سے انتخاب کرتی ہیں وہیں وہ اپنے بچوں کو گرم موسم کی شدت سے بچانے کے لیے مناسب ملبوسات اور ٹھنڈک پہنچانے والے پاؤڈر اور دیگر ضروری چیزوں کا انتظام کرتی ہیں۔ گرمیوں میں بچوں کو تقریباً روزانہ نہلانا چاہیے۔ اگر بچے کو گرمی دانے نکل آئیں تو پھر نہلانا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ گرمیوں میں دانے خاص طور پر تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ بچے ایسی صورت حال میں بہت گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ ان دانوں میں شدید خارش ہوتی ہے۔ گرمی دانے اس وقت زیادہ نکلتے ہیں جب موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بھی بڑھ جائے۔ یہ بات ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہمیں گرمی لگے تو ہمارا جسم ہمیں ٹھنڈک پہنچانے کی غرض سے پسینہ خارج کرتا ہے پسینے کے غدود ہماری جلد کے نیچے واقع ہوتے ہیں۔ ان غدود سے پسینہ تنگ نالیوں کے ذریعے ہماری جلد تک پہنچتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ نالیاں بند ہو جائیں تو پسینے کے غدود سے پسینہ بہہ کر جلد تک نہیں پہنچ پاتا اور راستے میں اٹکا رہ جاتا ہے جس کا نتیجہ گرمی دانوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ اگر پسینہ جلد کے بالکل نیچے رک جائے تو جلد پر ایسے چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہو جاتے ہیں گویا شبنم کے قطرے ہوں۔ اگر پسینہ جلد کے نیچے قدرے گہرائی میں رکا رہ جائے تو جلد پر لاتعداد سرخ دانے نکل آتے ہیں جن میں شدید خارش ہوتی ہے۔ بچوں کو ان گرمی دانوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے جہاں تک ممکن ہو شدید گرمی سے انہیں بچائیں۔ دھوپ میں براہ راست انہیں لے جانے سے گریز کریں اور اگر انہیں لے کر ہی جانا پڑے تو دھوپ سے بچاؤ کا سامان مثلاً سن سکرین یعنی دھوپ سے نقصان پہنچانے والے لوشن یا چھتری کا اہتمام کریں۔ اگر بچوں کو دانے ہوں تو انہیں روزانہ نہلا کر گرمی دانوں کا پاؤڈر لگائیں اور جہاں تک ممکن ہو انہیں ہوا دار جگہ پر رہنے دیں۔ گرمیوں میں پسینہ آنا ایک فطری بات ہے، پسینے کی حالت میں بھی بچے کو نہ نہلائیں اور نہ ہی نہلانے کے فوری بعد گیلی حالت میں پنکھے کے نیچے بٹھائیں۔ پسینہ کسی نرم کپڑے یا تولیے سے خشک کریں اور پھر بچے کو نہلائیں۔ نہانے کے بعد پنکھے کی ہوا بچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے لہٰذا پنکھے کی مصنوعی ہوا سے بچے کو بچائیں اور قدرتی ہوا کا معقول انتظام کریں جیسے کھڑکی وغیرہ کھول لیں۔ گرمیوں میں بچے کو وقفے وقفے سے پانی پلائیں تاکہ اس کے جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے پائے جو کہ پسینے کی صورت میں خارج ہونے سے ہوتی ہے۔ بچے کے لباس کی خریداری میں عموماً مائیں ظاہر کو دیکھ کر ایک نہایت اہم عنصر کو فراموش کر دیتی ہیں اور وہ ہے آرام دہ لباس۔ ماؤں کو آرام دہ لباس اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے کوئی بھی لباس جو جلد پر رگڑ اور بے آرامی کا باعث بنتا ہو، نہ پہنائیں۔ مصنوعی دھاگوں سے بنے ہوئے لباس جلد میں الرجی پیدا کر سکتے ہیں۔ خصوصاً گرمیوں کے دنوں میں ٹھنڈے سوتی لباس بچے کے بیرونی درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھتے ہیں۔ ہلکے اور کھلی ہوئی تراش کے لباس نہایت مناسب ہوتے ہیں اور بچے کو گھنٹوں مطمئن اور خوش و خرم رکھتے ہیں۔ بچوں کو ہلکے ہوا دار کپڑے پہنائیں جن سے ہوا آسانی سے گزر سکے اور وہ پسینہ جذب کرتے ہوں۔بچے زیادہ تر ہوادار کمرے میں کھیلیں۔ گرمیوں میں ہلکے کاٹن کی فراک اور ٹی شرٹ بہتر رہتی ہے۔جب بھی لباس کا انتخاب کریں تو اس کو یقینی بنائیں کہ ڈوری یا زپ وغیرہ سوتے میں بچے کو تنگ نہ کریں۔ اگر گرمیوں میں موزے پہنانے ہوں تو وہ ہلکے ہونے چاہئیں۔ گرمیوں میں سوتی لباس پہنانا چاہیے۔ بچے اس میں زیادہ آسانی اور راحت محسوس کرتے ہیں۔ گرمیوں میں کچھ والدین بچوں کے سر سے بالوں کا صفایا کرا دیتے ہیں یعنی ان کی ٹنڈ کرا دیتے ہیں۔ جن کی ٹنڈ ہوجائے وہ پیارے بھی لگتے ہیں اور ان کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔ اس لیے بچے اسے پسند نہیں کرتے۔ بظاہر یہ مفید ہوتا ہے لیکن اگر بچے اصرار کریں تو زبردستی ٹنڈ نہیں کرنی چاہیے۔ بالوں کو چھوٹا بھی کرایا جا سکتا ہے۔بعض بچے گرمیوں میں پانی میں کھیلنا پسند کرتے ہیں۔ اگر انہیں نیکر پہنا کر کسی ٹب وغیرہ میں پانی ڈال کر بٹھا دیا جائے تو بہت دیر اس میں کھیلتے رہتے ہیں۔ پانی سے کھیلنا اچھا ہے لیکن یہ حد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے ورنہ بچے بیمار پڑ سکتے ہیں۔ پانی میں کھیلنے والے چھوٹے بچوں پر نظر ضرور رکھنی چاہیے۔ بچوں کی سانس کی نالی میں پانی جانے اور ان کے ڈوبنے کا خطرہ رہتا ہے۔ گرمیوں میں زود ہضم غذائیں کھلانا بہتر ہوتا ہے۔ اسی طرح بچوں میں پانی 
کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ گرمیوں میں سونے کے لیے گرم کی جگہ ہلکا پھلکا بستر ہونا چاہیے۔
(روزنامہ دنیا 22 مئی 2018ع)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں