جمعہ، 27 دسمبر، 2019

اپنی بند مٹھی کھولیں!


رئوف کلاسرا
قصور کے قریب ایک گائوں میں ایک عالی شان عمارت کے لان میں سینیٹر طارق چوہدری‘ میاں خالد اور مشتاق بھائی کے ساتھ بیٹھے ہوئے خیال آیا کہ پاکستان میں بہت سے لوگ نیک کام کرتے رہتے ہیں مگر مجال ہے ان کے کارناموں کا کسی کو پتہ ہو۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تصور پایا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی کی مدد ایک ہاتھ سے کریں تو دوسرے کو پتہ نہیں چلنا چاہیے۔ کچھ لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جب مدد کریں تو جس کی مدد کی جارہی ہو وہ شرمندہ نہ ہو‘ لہٰذا بہتر ہے چھپ کر ہی مدد کی جائے۔ دوسرا‘ کچھ لوگ اس حوالے سے اسلامی حوالے بھی دیتے ہیں کہ مدد کرو تو چھپ کر کرو۔ 
2014ء میں امریکہ میں ڈاکٹر عاصم صہبائی کے پاس چھ ماہ ٹھہرا تھا تو ان دنوں ان کے پاس قرآن پاک کی ایک کاپی تھی‘ شاندار انگریزی ترجمہ تھا۔ برسوں پہلے مودودی صاحب کا ترجمہ اور تفسیر پڑھی تھی‘ سوچا پھر سے پڑھا جائے۔ یہ نیا ترجمہ بھارت سے چھپا تھا اور یقین کریں بہت ہی شاندار۔ مزہ آگیا پڑھ کر ۔ قرآن پاک کا ترجمہ پڑھ کر بہت سی غلط فہمیا ں دور ہوگئیں۔ مثلاً پہلی بات یہ کہ قرآن کہتا ہے چیرٹی کرو‘ غریبوں کی مددکرو اور یہ سمجھو کہ تم یہ مجھے اُدھار دے رہے ہو۔ ایک بات جس نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا وہ یہ تھی کہ خدا کہتا ہے تم لوگ چھپ کر چیرٹی کرو یا لوگوں کو دکھا کر‘ خدا کو اس سے فرق نہیں پڑتا۔یہ آپ پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ کیسے مد دکرنی ہے‘ شاید اسی لیے کہا گیا ہے کہ نیکی کے کام بتایا کرو اور برائی کو چھپایا کرو۔ اسی طرح میں سمجھتا تھا شاید یہ حدیث ہے کہ کسی کے گھر جائو تو تین دفعہ دروازے پر دستک دو اور جواب نہ ملے تو لوٹ جائو اور ناراض بھی نہ ہو۔ مجھے پتہ چلا یہ خدا کا حکم ہے اور قرآن میں ہے۔ اس سے زیادہ پرائیویسی کا تصور کہاں مل سکتا ہے۔ بہرکیف اب میں اپنے دوستوں کو کہتا ہوں کہ تم لوگ جب چیرٹی کرتے ہو تو بتایا کرو تاکہ دوسروں کو بھی حوصلہ ہو کہ ہم بھی اچھے کا م اور غریبوں کی مدد کریں‘ ہاں دوسروں کے عیب چھپایا کرو۔ 
جب اخوت کے ڈاکٹر امجد ثاقب اپنی اس غیرمعمولی یونیورسٹی کے بارے میں شرکا کو بریف کررہے تھے تو میں یہی سوچ رہا تھا کہ اس خاندان یا ان تین بھائیوں نے کمزور‘ غریب اور پس ماندہ بچوں کے لیے کیسے اپنی جیبوں کو کھول دیاہے۔ یہ تین بھائی‘ سینیٹر طارق چوہدری‘ میاں خالد اور مشتاق بھائی آپ کو اکٹھے ملیں گے‘ اکٹھے ٹریول کریں گے۔ مشتاق بھائی کا دل بہت بڑا ہے۔ ایک دن میں نے کہا: مشتاق بھائی مجھ سے اگر کسی انسان کی کامیاب زندگی کی تعریف پوچھی جائے تو پتہ ہے میرے ذہن میں کس کا خیال آتا ہے ؟ آپ کا ۔ اگر آپ کی زندگی میں آپ کے بچے سیٹل ہوگئے ہیں ‘ وہ ماں باپ کے فرمانبردار ہیں‘ وہ اچھے انسان ہیں‘ بہترین نوکریاں کررہے ہیں اور آپ اپنے نواسوں اور پوتوں سے شام کو کھیلتے ہیں تو یقین کریں اس سے خوبصورت لائف نہیں ہوسکتی۔ میں نے کہا: مشتاق بھائی آپ کے خاندان نے زندگی بھر جو لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں‘ اس کا صلہ خدا نے آپ کو بیٹوں کی شکل میں دیا ہے جو امریکہ میں رہتے ہیں اور محنت سے اپنا وہاں ایک بڑا کاروبار چلاتے ہیں۔ ان اربوں روپوں کی دولت کا کیا فائدہ اگر آپ کے بچے بھٹک جائیں اور آپ اسی پریشانی میں دنیا سے رخصت ہوں۔ لائق بیٹے کے لیے بچانے کی ضرورت نہیں کہ وہ خود کما لے گا‘ نالائق کے لیے بچت نہ کریں کہ اس نے سب کچھ ضائع کر دینا ہے۔ امجد ثاقب بتا رہے تھے کہ انہوں نے پاکستان کے غریب علاقوں کے بچوں کے لیے یونیورسٹی شروع کی تو یہ منصوبہ بنا کہ اس کی اینٹیں برائے فروخت پیش کی جائیں گی۔ مطلب یہ تھا کہ جو مدد کرنا چاہتے ہیں وہ اس عمارت کی اینٹیں خریدیں گے جو اس یونیورسٹی کو تعمیر میں کام آئیں گی۔ امجد ثاقب بتانے لگے کہ وہ گنتی بھول گئے ہیں‘ مشتاق بھائی نے جتنی اینٹیں خریدی ہیں اور جتنی امداد کی ہے۔ اسی طرح خالد بھائی ہیں ۔ ان امریکن پاکستانیوں کا بھی شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے وہاں چندے اکٹھے کر کے امجد ثاقب کے اس منصوبے میں مدد کی۔ مجھے یاد آیا ‘ایک دن ہم پرانے دوست ارشد شریف‘ خاور گھمن‘ ضمیر حیدر‘ عدیل راجہ اورعلی رات گئے اکٹھے تھے اور پنجاب حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے 'اخوت‘ پر کچھ سوالات اٹھائے تو میں نے کہا: ہماری بدقسمتی ہے‘ نہ ہم اچھے کام خود کرسکتے ہیں اور نہ ہی کسی اور کو کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ امجد ثاقب نے سب کچھ چھوڑا اور اتنے بڑے بڑے منصوبے بنا کر لوگوں سے ایک ایک پائی اکٹھی کر کے کتنے لوگوں کی مدد کی ہے۔ وہ بتانے لگے: ایک وزیر صاحب ناراض ہیں‘ میں نے کہا: اس پی ٹی آئی کے وزیر کو سمجھائیں کہ گند نہ گھولیں۔ وہ صاحب خود بتانے لگے: اخوت کا ریکوری ریٹ ننانونے فیصد ہے۔ میں نے کہا : حکومتوں کو تو شکر گزار ہونا چاہیے کہ امجد ثاقب جیسے بے لوث لوگ موجود ہیں جو دیہاتوں میں غریبوں کو پائوں پر کھڑا کررہے ہیں اور قرضے کا ریکوری ریٹ ننانوے فیصد ہے۔ خیر‘ اچھا ہوا‘ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ نے پانچ ارب روپے کا منصوبہ امجد ثاقب کے ساتھ سائن کیا ہے۔ 
مجھے خود یاد آیا کہ میرے جاننے والے خاندان کے ایک پاکستانی بچے کو امریکہ کی بڑی یونیورسٹی میں میڈیکل میں داخلہ ملا۔ بہت قابل بچہ ہے۔ اچانک اس خاندان کے حالات بگڑ گئے‘ فیس کا مسئلہ ہوگیا ۔ مجھے سمجھ نہ آئے کہ خاندان کی کیسے مدد کروں۔ ذہن میں جو تین لوگ آئے ان میں ورجینیا میں اکبر چوہدری‘ اٹلانٹا میں اعجاز بھائی‘ ڈاکٹر احتشام قریشی‘ زبیر بھائی‘ نیویارک میں عارف سونی اور مشتاق بھائی اور خالد بھائی تھے‘ جن سے میں ذاتی درخواست کرسکتا تھا۔ اکبر بھائی کا بہت شکریہ‘ ان کی بدولت ان کے چند دوستوں نے مدد کی اور ایک بہت ذہین طالب علم کا مستقبل بچ گیا۔ اکبر بھائی کے اوکاڑہ کے دوست ارشد چوہدری اور امریکہ کے شاہد جمیل کا بھی شکریہ جنہوں نے ایک ذہین طالبعلم کا مستقبل بچایا ۔ 
مجھے علم ہے یہ سب اچھے لوگ کبھی نہیں چاہیں گے ان کے نام بتائوں‘ لیکن جب سے قرآن پاک میں یہ پڑھا ہے کہ نیک کام بتایا کرو تو مجھے اچھا لگتا ہے لوگ کسی کی مدد کرتے ہیں تو معاشرے کو علم ہونا چاہیے۔ لاہور میں ایک خاتون ہیں جن کا نام شاہدہ نعمانی ہے‘ وہ ایک تنظیم چلاتی ہیں۔ ان کا تعارف دو تین دفعہ صحافی دوست سعدیہ کیانی نے باتوں باتوں میں کرایا تھا۔ میں نے پہلے تو سنجیدگی سے بات نہیں سنی ‘ لیکن دھیرے دھیرے جب میں نے ان کی فیس بک پوسٹ اور ٹویٹر کو فالو کرنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ جو کام وہ کررہی ہیں وہ بہترین ہے۔ وہ ہر ضرورت مند کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے میں یقین رکھتی ہیں۔ وہ ہر ضرورت مند کو چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرادیتی ہیں ۔ کچھ گھرانوں کی کفالت کے نام پر مدد کراتی ہیں۔ اس خاتون کی ہمت کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ شاہدہ نعمانی بھی ان سب کرداروں میں سے ہیں جو اس دنیا میں آسانیاں بانٹنے کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ اپنے بچوں کے لیے تو ہم سب کرتے ہیں‘ اصل بات تو یہ ہے ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اجنبی لوگوں کا درد محسوس کریں اور اپنی زندگی کے کچھ لمحات نکال کر ان کی مدد پر تل جائیں۔ خدا قرآن میں فرماتا ہے ‘ جو غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھتے ہیں اور چیرٹی کرتے ہیں یقین رکھیں میں ہی انہیں صلہ دوں گا‘ ایسے سمجھ لیں وہ مجھے قرض دے رہے ہیں(مفہوم)۔ 
ایک دفعہ گوتم بدھ جنگل میں بیٹھا تھا۔ خزاں کا موسم تھا ہر طرف جنگل میں زرد پتے گر رہے تھے۔ اچانک گوتم نے برگد کے بوڑھے درخت کے نیچے بیٹھے بیٹھے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر ہتھیلی میں پتوں کو بھر کر اپنے چیلے آنند سے پوچھا۔ آنند میری مٹھی میں جنگل کے سارے پتے سما گئے ہیں؟ آنندجھجک کر بولا: گرو اتنا بڑا جنگل اور اتنے پتے بھلا کیسے ایک مٹھی میں سما سکتے ہیں؟ گوتم بولا بالکل درست۔ یہی بات دنیا کی سچائیوں کی ہے۔ دنیا میں سچائیاں جنگل کے ان پتوں کی طرح بے تحاشا ہیں ‘لیکن میری مٹھی میں جتنی آئیں میں نے ان 
کا پرچار کیا ۔اس لیے اپنے اپنے حصے کی نیکیاں کرتے رہیں۔ اپنی بند مٹھی کھولیں۔ 
ََ(روزنامہ دنیا  27 دسمبر 2019ع)

جمعہ، 25 مئی، 2018

کس نواز شریف پر اعتبار کریں؟


 رئوف کلاسرا

میرے دوست ارشد شریف نے ٹوئٹر پر گیارہ برس پرانی تصویر شیئر کی ہے جب ارشد شریف لندن میں رپورٹنگ کرتے تھے۔ اس تصویر میں نواز شریف اور ارشد شریف ہاتھ ملا رہے ہیں۔ ارشد شریف نے اس تصویر پر طنزیہ سرخی جمائی ہے '' جب نواز شریف ایک انقلابی ہوتے تھے!‘‘۔ ارشد نے یہ نہیں لکھا کہ اس وقت یہ انقلابی لیڈر ان کی پلیٹ میں سالن بھی ڈال کر دیتے تھے۔ آج وہ ارشد شریف کا نام بھی سننا پسند نہیںکرتے ۔
سوال یہ ہے کہ قصور کس کا ہے؟ نواز شریف کا یاپھر ارشد شریف کا؟ 
ارشد شریف کو یقینا یہ شکایت لگتی ہے‘ جس نواز شریف کو وہ جانتے ہیں یا جس نواز شریف پر وہ بھروسہ کر بیٹھے تھے‘ وہ تو یہ نہیں ہے۔ جس نواز شریف سے ان کی لندن میں ملاقات نادر چوہدری نے کرائی تھی‘ وہ بہت بدل چکا ہے۔ شاہین صہبائی ہوں ، ارشد شریف ہوں، عامر متین یا میں، ہم اس سکول آف تھاٹ سے تعلق رکھتے ہیں ‘جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ صحافی ہمیشہ حکومت وقت کا مخالف اور اپوزیشن کیمپ میں رہتا ہے۔ بلکہ ہمارے جیسے صحافی کا قریبی دوست اگر وزیر بھی بن جائے‘ تو ہم جان بوجھ کر اس سے بگاڑ لیتے ہیں۔ ہمارے وزیر دوست بھی ہماری اس چال کو نہیں سمجھتے۔ وہ پہلے دن ہی ہوائوں میں اڑ رہے ہوتے ہیں ‘لہٰذا وہ بھی اپنی اکڑ میں آجاتے ہیں اور ہمارا کام آسان کردیتے ہیں۔ عامر متین اور میں سیاستدانوں سے اس لیے بھی دور رہتے ہیں کہ کہیں آنکھ کا حیا ہی نہ کرنا پڑے اور ان کے گند کو نظرانداز کرنا پڑے کہ چھوڑو یار کل رات تو کافی اکٹھے پی تھی یا پھر کھانا کھایا تھا ‘ تاہم اس معاملے میں شاہین صہبائی سب سے آگے رہے ہیں ۔ شاہین صہبائی نے وزیروں یا سیاسی دوستوں سے پوری رات گپ شپ ماری، کمپنی کی، اور اگلی صبح ٹھوک کر اس پر لکھا کہ وہ وزیر بھونچکا رہ گیا کہ یہ کیا ہوگیا ۔ شاہین صہبائی کے قلم نے کسی کو نہیں معاف کیا ۔ اس کے بعد میرا خیال ہے ارشد شریف نے ہمیشہ انصاف کیا ہے۔
ارشد شریف جب نواز شریف سے ملا تھا اور ان کی انقلابی باتیں سنی تھیں ‘تو وہ یقین لے آیا تھا کہ جو نواز شریف کہہ رہا ہے وہ درست کہہ رہا ہے۔ ارشد شریف اور میرے جیسوں کے پاس اور کوئی آپشن بھی نہیں تھا ‘جس کی حکومت وقت کے خلاف حمایت کی جاتی۔ بینظیر بھٹو جنرل مشرف سے خفیہ مذاکرات کر کے پاور کا حصہ بننے جارہی تھی۔ میں اور ارشد شریف اب جنرل مشرف حکومت کی سپورٹ کرنے سے تو رہے۔ لہٰذا بچ بچا کے نواز شریف انقلابی ہی ہمیں مل گئے تھے۔ ویسے ہم اس وقت واقعی نواز شریف کی باتوں پر ایمان لے آئے تھے۔ وہ جتنی سنجیدگی اور آواز میں رقت پیدا کر کے آج اپنے دکھڑے سناتے ہیں، ماتم کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہوا اور وہ اب انقلاب کے لیے جان لڑا دیں گے، لندن میں بھی ان کا اداکاری کا یہی انداز تھا ۔ ہم ٹھہرے ہمیشہ کے بیوقوف اور یہ سیاستدان ‘سدا کے اداکار۔ ان کے لیے آواز میں رقت پیدا کرنا ‘ چہرے پر دکھ اور اذیت کے تاثرات اور باڈی لینگویج میں ایسا انداز پیدا کرنا کہ اگلے کو فوراً ترس آنا شروع ہوجائے،معمولی سی بات ہے‘ تاہم پاکستان لوٹ کر جس طرح انقلاب اور انقلابی بھائیوں نے کرتب دکھائے اور ان کی کرپشن اور شاہانہ انداز حکومت کے کارنامے سامنے آنا شروع ہوئے، تو ارشد شریف اور میرے جیسے صحافی بہت مایوس ہوئے۔ شاہین صہبائی اور عامر متین جیسے صحافی دوسری طرف بینظیر بھٹو سے مایوس ہوئے تھے۔ ہمارے اپنے اپنے رومانس تھے‘ جو ان دونوں سے ختم ہوئے۔ ارشد شریف اور میں نے خیر ایک کام کیا ۔ اپنی غلطی مانی لیکن بات وہی کہ ہمارے پاس کیا آپشن تھا؟ کیا ہم ایک فوجی آمر کی حمایت کرتے جو ممکن ہی نہیں تھا۔ یوں ہم دونوں نے ان دونوں بھائیوں کا پردہ اٹھتے ہی خود کو ان سے دورکرلیا ۔ اتنی دیر میں وطن واپسی پر ان کی حکومت پنجاب میں آچکی تھی‘ لہٰذا ہم نے ان کی گورننس پر خبریں دینا شروع کردیں اور یوں ارشد شریف ہوں، میں ہم دونوں نواز شریف اور شہباز شریف کیمپ کے لیے برے صحافیوں کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ اس لیے ارشد شریف نے یہ تصویر ٹوئٹ کی : شکر ہے! جواباً میں نے نواز شریف کا وہ خط ٹوئٹ نہیں کردیا‘ جس میں انہوں نے میری عظمت کے گن گائے تھے کہ میں کتنا بڑا صحافی ہوں ۔ 
دوسری طرف دیکھتے ہیں‘ نواز شریف ہم دونوں سے کیوں مایوس ہوئے؟ 
ان کا بھی کوئی قصور نہیں ہے۔ الٹا وہ حیران ہوتے ہوں گے‘ یار! میں نے کون سی ایسی بات یا حرکت کی ہے یا میرا کیا قصور ہے؟ان کا تو روز کا یہ کام ہے۔ ان کا سیاست تو کاروبار ہے‘ پیشہ ہے۔ انہیں تو روزانہ اپنے پیشے میں یہ اداکاری کرنی پڑتی ہے۔ جب اپوزیشن میں ہوں تو کیسے رو دھو کر اور اپنی مظلومیت کی کہانیاں سنا کر لوگوں اور صحافیوں کی ہمدردیاں سمیٹنی ہیں‘ جب تک حکومت نہیں ملتی ‘یہ کام جاری رکھنا ہوتا ہے۔ میڈیا کو سب سے زیادہ استعمال کرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی سیاسی تربیت کا حصہ ہوتا ہے‘ اپوزیشن کے دنوں میں صحافیوں کو ان کے نام سے بلانا ہے۔ قریب کی نشست پر بٹھانا ہے۔ ان کی پلیٹ میں کھانا بھی ڈالنا ہے۔ یہ سب کام اس لیے کیے جاتے ہیں کہ صحافی کو اس کی اہمیت کا احساس ہوکہ وہ کتنا اہم ہے اور اس کی کیا جگہ بنتی ہے۔ یوں صحافیوں کو اس طرح بانس پر چڑھا کر ان سے وہ کام لیے جاتے ہیں‘ جو انہوں نے اقتدار میں آکر نہیں کرنے ہوتے۔ نواز شریف کے پاس ہر طرح کے پیکیج ہوتے ہیں‘ ایسے صحافیوں کے لیے جب وہ اقتدار میں آتے ہیں‘ لیکن وہ بھی سمجھدار ہوتے ہیں‘ کون کتنا مؤدب ہے اور کس نے کتنی خدمات سر انجام دی ہیں‘ لہٰذا دیکھ بھال کر ان درباریوں میں کسی کو ایم ڈی ‘پی ٹی وی تو کسی کو پیمرا کا سربراہ لگایا جاتا ہے ‘تو کسی کو لاہور میں کسی اتھارٹی کا عہدہ دے دیا جاتا ہے۔ صحافیوں کو کرپٹ کرنے کے لیے بیرون ملک منسٹر پریس لگانے کے لیے بھی آسامیاں نکالی جاتی ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں صحافی اپلائی کرتے ہیں اور یوں ہر کوئی لابنگ میں پڑ جاتا ہے اور روزانہ کسی ایم این اے وزیر یا وزیراعظم کے درباریوں کی سفارش کراتا رہتا ہے۔ 
نواز شریف چار سال اقتدار میں رہے‘ کسی صحافی یا اینکر کو انٹرویو نہیں دیا ۔ چند درباریوں کے علاوہ کسی کو قریب نہیں آنے دیا۔ آج کل ان کا سارا وقت صحافیوں کے درمیان گزرتا ہے اور وہی کہانی دہرائی جارہی ہے ‘جو لندن میں ہم روزانہ دربار میں سنتے تھے۔ اس وقت بھی ان کی مظلومیت کی کہانیاں ختم نہیں ہوتی تھیں‘ اب تو مزید ان کہانیوں میں مصالحہ ڈالنے کو مل گیا ہے۔
اگر آپ نے نواز شریف کو سمجھنا ہے‘ تو یہ ذہن میں رکھیں‘ جو نواز شریف وزیراعظم ہوتا ہے‘ وہ صحافیوں سے نہیں ملتا ، کسی اینکر کو انٹرویو نہیں دیتا ، وہ پارلیمنٹ نہیں جاتا ، وہ ایک سو سے زائد ملکوں کے دورے کرتا ہے، کابینہ کا اجلاس چھ چھ ماہ نہیں بلاتا، اسحاق ڈار کو چوراسی کمیٹیوں کا سربراہ بنا دیتا ہے اور پاکستان سے تین سو دن بیرون ملک رہتا ہے۔ وہ ہر ہفتے لندن جاتا ہے۔ اپنے بیٹے حسین نواز سے سوا ارب روپے نقد تحفہ لیتا ہے، اس میں سے اپنی بیٹی مریم کو پچاس کروڑ روپے دے دیتا ہے۔ وہ نواز شریف وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی دبئی میں ملازمت کرتا ہے۔ اس کے بچوں راتوں رات ارب پتی بن جاتے ہیں۔ وہ کارگل پر کمیشن نہیں بناتا بلکہ الٹا جنرل مشرف کے تمام ساتھیوں کو وزیر بنا دیتا ہے۔ وہ شہباز شریف اور چوہدری نثار کو جنرل کیانی سے خفیہ ملاقاتوں کے لیے بھیجتا ہے۔ وہ آرمی چیف کی تعیناتی سے پہلے جرنیلوں سے خفیہ ملاقاتیں کرتا ہے اور اپنے تئیں قابل بھروسہ جنرل چنتا ہے‘ جس سے کچھ دن بعد اس سے خود لڑ بھی پڑتا ہے۔ 
لیکن جب وہی نواز شریف اقتدار سے باہر ہوتا ہے‘ تو وہ مظلوم بن جاتا ہے‘ وہ انقلابی بن جاتا ہے‘وہ ماتم کرتا ہے‘ وہ مکے لہراتا ہے‘ جو وہ اقتدار میں ان جرنیلوں اور سیاستدانوں کو مارنا بھول گیا تھا ‘جو اس کے دشمن تھے۔ وہ نئے نئے وعدے کرتا ہے‘ وہ لوٹوں کے خلاف تحریک چلاتا ہے‘ وہی لوٹے جنہیں بعد میں وہ وزیر بناتا ہے۔ وہ وعدے کرتا ہے ‘جو اس نے اقتدار میں جا کر بھول جانے ہوتے ہیں۔ وہ کارگل پر کمیشن بنانے کا وعدہ کرتا ہے‘ وہ فوجیوں کا ٹرائل کرنے کی بڑھکیں مارتا اور روتی آواز میں پوچھتا ہے'' مجھے کیوں نکالا؟‘‘ وہ جرنیلوں کے راز کھولنے کی دھمکیاں دیتا ہے اور وہ انقلاب لانے کے دعوے کرتا ہے‘ جو وہ تین دفعہ وزیراعظم بن کر نہ لاسکا تھا ۔ 
اب آپ ہی بتائیں ‘ہم کس نواز شریف پر اعتبار کریں‘ وزیراعظم نواز شریف پر یا اپوزیشن لیڈر والے نواز شریف پر؟
 (روزنامہ دنیا 25 مئی 2018ع)

منگل، 22 مئی، 2018

گرمیوں میں بچوں کا خیال


حریہ خان
قدرت کی ان گنت نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت بچے ہوتے ہیں۔ بچے قدرت کا وہ بیش قیمت اور انمول تحفہ ہیں جن کے دم سے ہماری زندگیاں مسکراتی ہیں۔ بچے پھولوں کی مانند ہوتے ہیں۔ جس طرح پھولوں کی صحیح طریقے سے نشوونما نہ کی جائے تو وہ مرجھانے لگتے ہیں اسی طرح بچے بھی صحیح نگہداشت اور توجہ کے طالب ہوتے ہیں۔ بچے سب ہی اچھے لگتے ہیں لیکن اپنے بچے والدین کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں جس طرح والدین اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں کوئی اور نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما آتے ہی جہاں مائیں اپنے لیے ملبوسات اور دیگر چیزوں کا موسم کے لحاظ سے انتخاب کرتی ہیں وہیں وہ اپنے بچوں کو گرم موسم کی شدت سے بچانے کے لیے مناسب ملبوسات اور ٹھنڈک پہنچانے والے پاؤڈر اور دیگر ضروری چیزوں کا انتظام کرتی ہیں۔ گرمیوں میں بچوں کو تقریباً روزانہ نہلانا چاہیے۔ اگر بچے کو گرمی دانے نکل آئیں تو پھر نہلانا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ گرمیوں میں دانے خاص طور پر تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ بچے ایسی صورت حال میں بہت گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ ان دانوں میں شدید خارش ہوتی ہے۔ گرمی دانے اس وقت زیادہ نکلتے ہیں جب موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بھی بڑھ جائے۔ یہ بات ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہمیں گرمی لگے تو ہمارا جسم ہمیں ٹھنڈک پہنچانے کی غرض سے پسینہ خارج کرتا ہے پسینے کے غدود ہماری جلد کے نیچے واقع ہوتے ہیں۔ ان غدود سے پسینہ تنگ نالیوں کے ذریعے ہماری جلد تک پہنچتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ نالیاں بند ہو جائیں تو پسینے کے غدود سے پسینہ بہہ کر جلد تک نہیں پہنچ پاتا اور راستے میں اٹکا رہ جاتا ہے جس کا نتیجہ گرمی دانوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ اگر پسینہ جلد کے بالکل نیچے رک جائے تو جلد پر ایسے چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہو جاتے ہیں گویا شبنم کے قطرے ہوں۔ اگر پسینہ جلد کے نیچے قدرے گہرائی میں رکا رہ جائے تو جلد پر لاتعداد سرخ دانے نکل آتے ہیں جن میں شدید خارش ہوتی ہے۔ بچوں کو ان گرمی دانوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے جہاں تک ممکن ہو شدید گرمی سے انہیں بچائیں۔ دھوپ میں براہ راست انہیں لے جانے سے گریز کریں اور اگر انہیں لے کر ہی جانا پڑے تو دھوپ سے بچاؤ کا سامان مثلاً سن سکرین یعنی دھوپ سے نقصان پہنچانے والے لوشن یا چھتری کا اہتمام کریں۔ اگر بچوں کو دانے ہوں تو انہیں روزانہ نہلا کر گرمی دانوں کا پاؤڈر لگائیں اور جہاں تک ممکن ہو انہیں ہوا دار جگہ پر رہنے دیں۔ گرمیوں میں پسینہ آنا ایک فطری بات ہے، پسینے کی حالت میں بھی بچے کو نہ نہلائیں اور نہ ہی نہلانے کے فوری بعد گیلی حالت میں پنکھے کے نیچے بٹھائیں۔ پسینہ کسی نرم کپڑے یا تولیے سے خشک کریں اور پھر بچے کو نہلائیں۔ نہانے کے بعد پنکھے کی ہوا بچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے لہٰذا پنکھے کی مصنوعی ہوا سے بچے کو بچائیں اور قدرتی ہوا کا معقول انتظام کریں جیسے کھڑکی وغیرہ کھول لیں۔ گرمیوں میں بچے کو وقفے وقفے سے پانی پلائیں تاکہ اس کے جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے پائے جو کہ پسینے کی صورت میں خارج ہونے سے ہوتی ہے۔ بچے کے لباس کی خریداری میں عموماً مائیں ظاہر کو دیکھ کر ایک نہایت اہم عنصر کو فراموش کر دیتی ہیں اور وہ ہے آرام دہ لباس۔ ماؤں کو آرام دہ لباس اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے کوئی بھی لباس جو جلد پر رگڑ اور بے آرامی کا باعث بنتا ہو، نہ پہنائیں۔ مصنوعی دھاگوں سے بنے ہوئے لباس جلد میں الرجی پیدا کر سکتے ہیں۔ خصوصاً گرمیوں کے دنوں میں ٹھنڈے سوتی لباس بچے کے بیرونی درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھتے ہیں۔ ہلکے اور کھلی ہوئی تراش کے لباس نہایت مناسب ہوتے ہیں اور بچے کو گھنٹوں مطمئن اور خوش و خرم رکھتے ہیں۔ بچوں کو ہلکے ہوا دار کپڑے پہنائیں جن سے ہوا آسانی سے گزر سکے اور وہ پسینہ جذب کرتے ہوں۔بچے زیادہ تر ہوادار کمرے میں کھیلیں۔ گرمیوں میں ہلکے کاٹن کی فراک اور ٹی شرٹ بہتر رہتی ہے۔جب بھی لباس کا انتخاب کریں تو اس کو یقینی بنائیں کہ ڈوری یا زپ وغیرہ سوتے میں بچے کو تنگ نہ کریں۔ اگر گرمیوں میں موزے پہنانے ہوں تو وہ ہلکے ہونے چاہئیں۔ گرمیوں میں سوتی لباس پہنانا چاہیے۔ بچے اس میں زیادہ آسانی اور راحت محسوس کرتے ہیں۔ گرمیوں میں کچھ والدین بچوں کے سر سے بالوں کا صفایا کرا دیتے ہیں یعنی ان کی ٹنڈ کرا دیتے ہیں۔ جن کی ٹنڈ ہوجائے وہ پیارے بھی لگتے ہیں اور ان کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔ اس لیے بچے اسے پسند نہیں کرتے۔ بظاہر یہ مفید ہوتا ہے لیکن اگر بچے اصرار کریں تو زبردستی ٹنڈ نہیں کرنی چاہیے۔ بالوں کو چھوٹا بھی کرایا جا سکتا ہے۔بعض بچے گرمیوں میں پانی میں کھیلنا پسند کرتے ہیں۔ اگر انہیں نیکر پہنا کر کسی ٹب وغیرہ میں پانی ڈال کر بٹھا دیا جائے تو بہت دیر اس میں کھیلتے رہتے ہیں۔ پانی سے کھیلنا اچھا ہے لیکن یہ حد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے ورنہ بچے بیمار پڑ سکتے ہیں۔ پانی میں کھیلنے والے چھوٹے بچوں پر نظر ضرور رکھنی چاہیے۔ بچوں کی سانس کی نالی میں پانی جانے اور ان کے ڈوبنے کا خطرہ رہتا ہے۔ گرمیوں میں زود ہضم غذائیں کھلانا بہتر ہوتا ہے۔ اسی طرح بچوں میں پانی 
کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ گرمیوں میں سونے کے لیے گرم کی جگہ ہلکا پھلکا بستر ہونا چاہیے۔
(روزنامہ دنیا 22 مئی 2018ع)

روزہ: فضیلت اور احکام


حافظ محمد ادریس
ماہِ رمضان ہم پر سایہ فگن ہو چکاہے۔ الحمد للہ زندگی میں ایک بار پھر یہ عظیم مہمان ہمارے نصیب میں لکھا 
گیا ہے۔ مہمان، جو دیتا بہت کچھ ہے، ہم سے لیتا کچھ بھی نہیں۔ یہ ماہِ مبارک از اول تا آخر خیر ہی خیر ہے۔اس کا پہلا عشرہ رحمت،دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ دوزخ کی آگ سے خلاصی کی نوید لے کر آتا ہے۔حضورنبی اکرمؐ ماہِ رجب اور شعبان ہی میں استقبال رمضان کے لیے کمرہمت باندھ لیا کرتے تھے۔ آپؐ کی مشہور دعا ہے ''اللھم بارک لنافی رجب و شعبان و بلغنا رمضان‘‘ (اے اللہ ہمیں رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچنے کی توفیق عطا فرما۔) آپ ؐ عام دنوں میں بھی نیکی کے کاموں میں مشغول رہتے‘ مگر رمضان میں بہت زیادہ عبادت الٰہی کا اہتمام فرماتے۔ہمیں بھی ماہِ شعبان کے آتے ہی اپنے تمام امور و معاملات کو اس نقطۂ نظر سے منضبط کر لینا چاہیے کہ رمضان المبارک کی ایک ایک گھڑی ہمارے لیے مفید اور با برکت ثابت ہو۔
٭روزے کی فرضیت:روزے کی فرضیت کا حکم ہجرت کے ڈیڑھ سال بعد مدینہ منورہ میں وحی کے ذریعے آنحضور ؐ پر نازل ہوا۔''اے لوگو!جو ایمان لائے ہو،تم پر روزے فرض کر دیے گئے،جس طرح تم سے پہلے انبیاکے پیروکاروں پر فرض کیے گئے تھے۔ توقع ہے کہ ان سے تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔چند مقررہ دنوں کے روزے ہیں۔اگرتم میں سے کوئی بیمارہویا سفرپر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں)تو وہ فدیہ دے دیں۔ایک روزے کا فدیہ‘ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے‘تو یہ اُسی کے لیے بہترہے‘لیکن اگر تم سمجھو تو تمھارے حق میں اچھا یہی ہے کہ تم روزے رکھو‘‘۔(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر183،184)
یہ حکم 2ہجری کا ہے۔ اس سے اگلی آیت نمبر185 میں، جو ایک سال بعد نازل ہوئی، حکم دے دیا گیا کہ روزے میں چھوٹ محض معذور ودائمی مریض لوگوں کے لیے ہے۔ تندرست وتوانا لوگوں کو روزہ ہی رکھنا ہوگا۔''رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ‘جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ‘جو راہِ راست دکھانے والی اور حق وباطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لاز م ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمھارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمھیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمھیں سرفراز کیاہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار واعتراف کرو اور شکر گزار بنو‘‘۔(سورۃ البقرۃ،آیت نمبر185)
٭تقویٰ کا معیار:روزہ،دین اسلام کا چوتھا رکن ہے۔عربی زبان میں روزے کو صوم کہا جاتا ہے،جس کی جمع صیام ہے۔ مندرجہ بالا آیات کے مطابق روزے کی فرضیت کی اصلی غایت اہل ایمان کے دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔بلاشبہ روزہ اس کا بہترین ذریعہ ہے۔نبی رحمتؐ کی حدیث کے مطابق ''تقویٰ کا منبع دل ہے‘‘اور روزے کی حالت میں واقعتاً دل کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ شدید بھوک اور پیاس کے باوجود مکمل تنہائی میں بھی کوئی روزہ دار کسی مشروب کا ایک قطرہ یا کسی غذا کا ایک ذرہ بھی اپنے حلق سے نیچے نہیں جانے دیتا۔یہی تصور بندے اور رب کے درمیان وہ تعلق قائم کرتاہے ،جسے تقویٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔روزے کو حدیث میں ڈھال بھی قرار دیا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ ڈھال دشمن کے مقابلے میں اپنے دفاع کے لیے استعمال ہوتی ہے۔نفس امارہ،فسق و فجور سے بھرا ہوا ماحول اور شیطان لعین ہر وقت انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ان سب کا مقابلہ کرنے کے لیے ماہِ رمضان کے روزے مسلسل تربیت کا موثر کورس ہیں۔اس تربیت کے اثرات اگر باقی گیارہ مہینوںمیں نظر آئیں تو سمجھ لیجیے کہ روزہ اللہ کے ہاں مقبول ہو گیا ہے اور روزہ دار سرخرو ہے۔خدانخواستہ اگر ایسا نہ ہو تو روزہ محض بھوک پیاس بن کر رہ جاتا ہے۔ایسے روزے سے روزہ دار کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
٭نیکیوں کاموسم بہار:ماہِ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے اور خوش قسمت ہیں‘ وہ لوگ جو اپنا دامن خیروبرکت سے بھرلیں۔ ماہِ رمضان کی آمد کے باوجود جن لوگوں کو نیکی کی جانب قدم بڑھانے کی توفیق نہیں ملتی،ان کی بدنصیبی اس سے عیاں ہے کہ جبریل امین ؑنے ان کے حق میں تباہی و بربادی کی دعا فرمائی اور اللہ کے رسولؐ نے اس پر آمین کہا۔اس مہینے کے فضائل بے شمار ہیں۔حدیث میں فرمایا گیاکہ اس مہینے میں نفل عبادات کااجر فرض کے برابر اور فرض کا اجر ستر گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ رمضان کو صبر کا مہینہ قرار دیاگیا ہے اور صبر کا بدلہ جنت بتایا گیا ہے۔روزہ محض معدے کا نہیں ہوتا بلکہ پورے اعضا ؛آنکھ،کان،ناک،زبان،ہاتھ، پائوں ،دل و دماغ،فکروسوچ،غرض ہرچیز پر محیط ہوتا ہے۔
٭روزہ اور جہاد:ماہِ رمضان ہر سال آتا ہے اور ایک پیغام دے کر چلا جاتا ہے۔ماہِ رمضان کے دوران جہاد اور مجاہدین سے مکمل وابستگی،ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے‘جس سال روزے فرض ہوئے ،اس سال ماہِ رمضان ہی میں کفرواسلام کا پہلا معرکہ بدر کے میدان میں برپا ہوا،جسے قرآن نے یوم الفرقان کہا ہے۔آنحضورؐ کو فیصلہ کن فتح 8ہجری میں رمضان ہی میں نصیب ہوئی، جب مکہ سرنگوں ہوا اور جزیرۂ نمائے عرب سے کفر کا خاتمہ ہوگیا۔ ہمیں پاکستان کی نعمت بھی اسی مہینے میں عطا کی گئی، جس کی قدر ہم نہ کرسکے۔ آج بھی اپنا جائزہ لینے اور محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ اسلام جہاد اور شہادت سے مزّین ہے۔ پہلی شہادت تومکہ میں ایک صحابیہ سیّدہ سمیّہؓ کے حصے میں آئی۔ پھر اس فہرست میں ایک ہی روز یعنی یوم بدر(17؍رمضان المبارک2ھ) کو چودہ عظیم المرتبت شہدا کا اضافہ ہوا۔ وہ دن اور آج کا دن اس فہرست میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ جہاد جاری ہے اورقیامت کے دن تک جاری رہے گا۔ جہاد کے خلاف آج داخلی وخارجی ہر محاذ پر انتہائی گھناؤنی سازشوں کا جال بچھا دیا گیا ہے‘ مگر ہمیں بطور مسلمان اللہ اور اس کے رسول کا یہ حکم ہے کہ ہم ان سازشوں کا مقابلہ کریں اور جہاد میں حصہ لیں۔ جو شخص خود عملاً جہاد میں شریک نہ ہوسکے وہ کسی مجاہد کو زادِجہاد فراہم کردے یا اس کے پیچھے اس کے اہلِ وعیال کی خبر گیری میں لگ جائے یا شہدا کے خاندانوں کا کفیل بن جائے‘ تو وہ بھی عملاً جہاد میں شریک شمار ہوتا ہے۔ ایسے شخص کا اجر حدیث پاک میں مجاہدین کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
٭رویتِ ہلال:ماہِ رمضان کا چاند دیکھنے کا اہتمام اسلام میں ضروری ہے۔ الحمد للہ اس مرتبہ بھی شعبان کے ایام مکمل ہونے کے بعد رمضان کا چاند نکلا تو اہل ایمان نے مسرت کے ساتھ اس کا استقبال کیا۔ رمضان کی برکات و رحمتیں امتِ مسلمہ کے شامل حال ہوگئیں اور مخلص اہل ایمان ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے۔ بعض لوگوں کے نزدیک خوشی اور مبارک باد محض عید کا چاند دیکھنے پر ضروری ہے، یہ درست نہیں۔ دونوں مواقع بندۂ مومن کے لیے بابرکت ہیں۔ رمضان کا چاند اس لیے کہ وہ رحمت، مغفرت اور دوزخ سے 
خلاصی کے تحائف لے کر آتا ہے اور شوال اس لیے کہ اس میں اللہ مخلص بندوں کو انعام دیتا ہے۔ 
روزامہ دنیا  22 مئی  2018ع

اتوار، 20 مئی، 2018

بڑے شاہی محلات کے چھوٹے مکین



جوں جوں نئی نئی چیزوں کا علم ہوتا ہے تو دل دکھی ہوتا ہے۔
ملائشیا کے مہاتیر محمد نے وزیراعظم بنتے ہی جو احکامات جاری کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ سابق وزیراعظم نجیب رزاق اور ان کا خاندان ملک سے باہر نہیں جاسکتا ۔ دوسرا حکم یہ دیا اس کے گھر پر چھاپہ مارا جائے۔ 
مہاتیر محمد اپنے سابق وزیراعظم نجیب رزاق جسے انہوں نے ہی سیاسی طور پر پالا پوسا اور بڑا کیا اور ملک کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں دے کر ریٹائر ہوگئے تھے‘ اب نو مئی کو ہونے والے انتخابات جیت کر واپس لوٹے ہیں ۔ جب پولیس نے گھر پر چھاپہ مارا تو سابق وزیراعظم کی بیوی کے زیورات برآمد ہوئے جن کی مالیت تین کروڑ ڈالر یا ساڑھے تین ارب روپے بنتی ہے۔ 
جمہوریت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو جتنے اعلیٰ عہدے پر بیٹھتا ہے وہ اتنا ہی جواب دہ ہوتا ہے۔ سیاست میں عموماً عوام ایسے لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں جن کے بارے میں ان کی رائے ہوتی ہے کہ وہ ذہین انسان اور امیر لوگ ہیں۔ اس لیے پاکستان جیسے ملکوں میں آپ دیکھیں گے جس کے پاس بڑی گاڑیاں، بڑا گھر، اور چند نوکر ہیں وہ اگر الیکشن میں کھڑا ہوجائے تو اس کے جیتنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کیونکہ عام انسانوں کو لگتا ہے وہ بندہ ایک کامیاب انسان ہے۔ ایک ایسا انسان جو اپنی قسمت بدل چکا اب وہ اپنی ذہانت سے ان کی زندگیاں بھی بدل دے گا ۔ یہ عام ووٹر کی وہ نفسیات ہوتی ہے جس کی بنا پر وہ اپنے جیسے پھکڑ کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ اپنے سے مالی اور سماجی طور پر بہتر انسان کو چنتے ہیں ۔ 
ایسا انسان جو بڑی گاڑی پر سفر کرتا ہو، بڑے گھر میں رہتا ہو، اور نوکروں کی ایک فوج ہو وہ دراصل عام انسانوں کا ایک رول ماڈل ہوتا ہے۔ ہر کوئی وہی لائف گزارنا چاہتا ہے جو ان کے دروازے پر ووٹ مانگنے کے لیے آیا ہوا ایک امیر انسان گزار رہا ہوتا ہے۔ اس عام ووٹر کو لگتا ہے کہ قسمت کی دیوی اس پر مہربان ہوگئی ہے کہ آج بھگوان ان کے دروازے پر خود ہی چل کر آ گیا ہے ۔ یوں وہ بڑا آدمی اس سوچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ووٹ لیتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے عام ووٹر کے خواب پورے کیوں نہیں ہوتے؟ اس سے دھوکا کون کرتا ہے؟ یا ایسا ووٹر خود اپنی بربادی کا ذمہ دار ہوتاہے؟
اس سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے وہ بڑا آدمی جو سیاستدان کا روپ دھار کر اس کے پاس آتا ہے اس کے پاس تو وہ کچھ ہے جو اس کے حلقے کے لوگ ترستے ہیں۔ پھر وہ کیوں ان کا مال ہی لوٹنے پر لگ جاتا ہے؟
مان لیتے ہیں ہر انسان کو طاقت، اختیار اور دولت چاہیے ہوتا ہے۔ چلیں یہ بھی مان لیتے ہیں اختیار اور طاقت کی کوئی حد نہیں ہوسکتی۔ ہر انسان اپنے مطابق اس کا فیصلہ کرتا ہے اور ہمیشہ زیادہ کا طلب گار رہتا ہے۔ لیکن ایک سوال دولت بارے ضرور بنتا ہے ایک انسان کو کتنی دولت ایک زندگی گزارنے کے لیے چاہیے ہوتی ہے؟ اس سے بڑا سوال یہ ہے وہ کیوں سات نسلوں کی دولت خود کما کر اس دنیا سے جانا چاہتا ہے؟ کالم نگار دوست ہارون الرشید کا ایک خوبصورت جملہ یاد آتا ہے کہ امیر انسان کو غریبوں سے زیادہ دولت چاہیے ہوتی ہے۔ 
لیکن سوال وہی کس قیمت پر؟ 
اب یہی دیکھ لیں جب یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے تو ان کے خاندان پر یہی الزام لگتے تھے۔ ان کے بیوی بچوں بارے یہی کہانیاں مشہور تھیں۔ ترکی کی خاتون اول کے دیئے ہوئے ہیروں کے ہار کا قصہ بھلا کس کو بھول سکتا ہے؟ تو کیا ملا پھر گیلانی کو وہ ایک ہار لے کر؟ کیا آٹھ دس لاکھ روپے کے ہار کی قیمت اور قدر ایک وزیراعظم سے بہت زیادہ تھی لہٰذا اس کے لیے وہ اپنی عزت بھی دائو پر لگا بیٹھے؟ 
اس طرح بینظیر بھٹو پر سوئٹزرلینڈ میں ایک مقدمہ چلا۔ ان پر الزام تھا انہوں نے وزیراعظم ہوتے ہوئے ایک نیکلس خریدا جس کی ادائیگی ایک پارٹی نے کی تھی۔ تو کیا پانچ دس لاکھ روپے کا نیکلس اس قابل تھا کہ ایک ملک کی وزیراعظم اس کے لیے سوئٹزر لینڈ میں مقدمے کا سامنا کرتیں؟ یہ وہی نیکلس ہے جس کے لیے زرداری نے پچھلے سال ایک خط سوئس حکام کو لکھا وہ اس کی مرحومہ بیوی کا تھا اور وہ وصول کر بھی لیا ہے۔ سوال یہ ہے جونیکلس بینظیر بھٹو کے گلے میں ایک پھندا بن گیا تھا وہ اس کے وارثوں کو کوئی خوشی دے سکے گا ؟ 
مجھے یاد ہے میں نے ایک سٹوری کی تھی جس میں جنرل مشرف اور شوکت عزیز کو غیرملکی دوروں میں ملنے والے تحائف کی تفصیلات دی گئی تھیں ۔ جنرل مشرف کی بیگم کو سعودی عرب سے ہیروں کے ہار، سونے کے زیورات اور بھرے ہوئے جیولری باکس ملے تھے جو وہ گھر لے گئی تھیں ۔ میں ان سرکاری دستاویزات کو دیکھ کر پری کی کہانی کی طرح ہنسا بھی تھا اور رویا بھی۔ ہنس اس لیے پڑا تھا کہ بینظیر بھٹو مرتے دم تک دس لاکھ روپے مالیت کے ایک نیکلس کا مقدمہ سوئٹزر لینڈ میں بھگتتی رہیں جب کہ جنرل مشرف کی بیگم نے ایک ہی ہلے میں سعودی عرب سے ایک کروڑ روپے مالیت کے قریب ہیرے جواہرات اور زیوارت چپکے سے لے لیے تھے۔ 
بعد میں اسی جنرل مشرف نے سعودی بادشاہ سے ایک ارب روپے کیش تحفہ بھی قبول کر لیا۔ شوکت عزیز کی بیگم صاحبہ کو بھی اسی طرح سونے کے زیورات اور ہیرے جواہرات تحفے میں ملے تھے۔ شوکت عزیز نے تو تحفے میں ملنے والی مفت بنیان، نکر، انڈروئیر تک نہیں چھوڑے تھے اور قیمتی تحائف کا ایک پورا کنٹینر بھر کر پاکستان سے باہر لے گئے تھے۔ نواز شریف کو بھی اس طرح تحائف ملتے رہے ہیں لیکن وہ اس کی تفصیل بتانے کو تیار نہیں تھے۔ قومی اسمبلی میں کہا گیا نواز شریف کو ان چار سالوں میں ملنے والے تحائف کی تفصیل دی جائے تو کابینہ ڈویژن کے زکوٹا جنوں نے جواب دیا کہ نواز شریف کو ملنے والے سب تحائف کی تفصیل ایک ایسا قومی راز ہے جو قوم کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاسکتا ۔
مریم نواز کے تحائف کی تفصیل ہم سب جانتے ہیں۔ پہلے انہوں نے کہا ان کی لندن چھوڑیں پاکستان تک میں کوئی جائیداد نہیں ۔ جب پاناما سکینڈل سامنے آیا تو پتہ چلا نہ صرف ان کی پاکستان میں بہت بڑی جائیداد ہے بلکہ لندن میں بھی ہے۔ اس پر ہمیں بتایا گیا انہیں ان کے والد نے کروڑوں روپے تحفہ کے طور پر دیے تھے۔ نواز شریف سے پوچھا گیا آپ کے پاس کروڑوں روپے کہاں سے آئے تھے تو انہوں نے جواب دیا میرا بیٹا لندن دبئی میں بزنس کرتا ہے اور اس نے مجھے سو ارب روپے نقد تحفہ دیا ہے جس میں سے میں نے پچاس کروڑ روپے کے قریب اپنی بیٹی کو تحفہ دے دیا۔ بیٹی سے پوچھا گیا کہ یہ سچ ہے؟ وہ بولیں جی سچ ہے لیکن میں نے وہ اب نقد تحفہ باپ کو واپس کردیا ہے۔ بیٹے حسین نواز سے پوچھا گیا جناب آپ کے پاس اربوں ڈالرز کہاں سے آئے تو وہ بولے آپ مجھ سے میرے ذرائع نہیں پوچھ سکتے کیونکہ میں برطانوی شہری ہوں۔
ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب کی بیوی سے پولیس چھاپے میں برآمد ہونے والے ساڑھے تین ارب روپے کے ہیرے جواہرات اور زیورات کی تفصیل پڑھتے ہوئے حیران ہو رہا ہوں انسان کی لالچ اور حرص کی سرحد کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے؟ کیا ایک عورت ساڑھے تین ارب روپے کے زیورات اپنی پوری عمر میں پہن سکتی ہے؟ وزیراعظم نجیب جس کی تنخواہ دس لاکھ روپے کے قریب ہو کیا اس کی بیوی ساڑھے تین ارب روپے کے زیورات افورڈ کرسکتی ہے جب تک اس کا خاوند کوئی بڑا ڈاکا نہ مارے اور اپنی پوزیشن کا غلط استعمال نہ کرے؟ 
اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ایک مرد کو اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لے اس حد تک جانا چاہیے؟ چلیں عام انسان چھوڑیں کیا ایک وزیراعظم کی بیوی کو یہ کام کرنا چاہیے جس پر کروڑوں لوگوں نے اپنی زندگیاں بہتر کرنے کا بھروسہ کررکھا ہو؟
اپنا ایک قریبی دوست یاد آیا۔ ایک دن اس کی بہن اپنے میاں کا گھر چھوڑ کر آگئی ۔ اپنا بیٹا بھی ساتھ لے آئی۔ وجہ پوچھی تو بولی میرا خاوند رشوت لیتا ہے۔ میں حرام کی کمائی سے اپنے بیٹے کو کھانا نہیں کھلائوں گی ۔ وہ اس وقت گھر واپس گئی جب اس کے خاوند نے اپنے چھوٹے بچے کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ آئندہ وہ رشوت نہیں لے گا ۔ 
حیران ہوتا ہوں شاہی محل کے مکینوں ، دنیا کے پانچ ملکوں میں جائیدادوں کے مالک ، منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والے بادشاہوں کے بیوی بچوں میں اتنی سی بھی خودی ، ایمانداری، عزت نفس اور حرام کی دولت سے نفرت نہیں جو میرے دوست کی ایک عام سی بہن نے دکھائی تھی ؟ 
(رئوف کلاسرا)
(روزنامہ دنیا 20 مئی 2018ع)

جمعہ، 18 مئی، 2018

نواز شریف : شاہ جہاں یا اورنگزیب...؟


رئوف کلاسرا
نواز شریف کے مسلسل بیانات اور دھمکیاں سن اور پڑھ کر شیکسپیئر یاد آتا ہے ۔ جب دیوتا کسی کو سزا دینے پر تل جاتے ہیں، تو وہ سب سے پہلے اس بندے کا دماغ خراب کردیتے ہیں ۔ دماغ خراب کرنے کے بعد اسے کسی سزا کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ انسان سب سزائیں خود کو دیتا رہتا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک ۔
نواز شریف اور ان کے حواریوں نے شیکسپیئر ین ٹریجڈی ڈرامے پڑھے ہوتے تو انہیں پتہ ہوتا ،ہر بادشاہ کا ایک Tragic flaw ہوتا ہے ،جو اس کے زوال کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ایک ایسی کمزوری جو اس بادشاہ کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ وہ بادشاہ فرسٹریشن یا غصے یا اپنی مجروح انا کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایسا نیچے گرتا ہے کہ وہ جنگلوں کی خاک چھانتا پھرتا ہے۔ رات محل میں سویا تھا، تو اگلا دن وہ جنگل میں بھوکا پڑا تھا۔ بادشاہ ایک مرحلے پر خود کو دیوتا سمجھ لیتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ان کے بغیر نہ ریاست چلے گی اور نہ ہی انسان زندہ رہیں گے۔ ہر وقت کا پروٹوکول اور ان کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات پوری ہونے کی ایسی عادت پڑ جاتی ہے کہ انسان اس میں ڈھل جاتا ہے۔ ہر طرف سے داد و تحسین کے ڈونگرے، بادشاہ کے جلالی قصے کہانیاں، دربار میں درباریوں کے کورنش اور مسخروں کی جگت بازی بادشاہ کے لیے اہم ہوتے ہیں ۔ دربار میں وفادار ہی بیٹھ سکتا ہے،جو جتنا بڑا قصیدہ لکھ سکتا ہے، جو خوشامدی شاعری کر سکتا ہے، بادشاہ کے آبائو و اجداد کی شان و شوکت کے قصے سنا سکتا ہے، وہی بادشاہ کی رحمتوں کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ ایسے بادشاہوں کو یہ یقین درباری دلاتے ہیں کہ وہ اس دنیا میں اپنے جیسے لوگوں پر راج کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ ان پر کبھی زوال نہیں آئے گا۔ ان کے اندر کچھ خاص ہے، جو باقی ریاست کی رعایا میں نہیں ہے۔ خدا نے صرف اسے کیوں بادشاہ چنا۔۔۔آخرکچھ تو اس میں خاص بات ہوگی۔۔۔!
یوں دھیرے دھیرے ایسے انسان کی نفسیات میں یہ بات بیٹھنا شروع ہوجاتی ہے کہ وہ عام انسان نہیں ہے۔ وہ زمین پر خدا کا نائب ہے اور اسے ہر حق حاصل ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور اس کی کبھی کوئی باز پرس نہیں کرسکتا ۔ بادشاہ کوئی غلطی نہیں کرسکتا اور یوں بادشاہ کے اندر اپنی ذات سے اتنی محبت بھر جاتی ہے کہ وہ ابنارمل انسان بن جاتا ہے، جسے ہر وقت اقتدار میں رہنا ہے، چاہیے اس کی کوئی قیمت ادا کرنی پڑے ۔ انسانوں پر حکومت کرنے کا اپنا ایک نشہ ہے، جو دنیا کے سب نشوں پر بھاری ہے۔ پرانے زمانوں کو چھوڑ دیں ۔ اگر آپ جدید دور کی بھی بات کریں، تو بھی آپ کو نظر آئے گا، آج بھی بادشاہ یہی کچھ کرتے ہیں ۔ بادشاہ یہ مان ہی نہیں سکتاکہ اب ان کا زوال شروع ہو چکا۔ لیبیا کے کرنل قذافی کو دیکھ لیں۔ دیوار پر لکھا تھا کہ بغاوت ہوچکی یا کرائی جا چکی۔ وہ عوام کے ہاتھوں ایک پل کے نیچے زندہ مارے گئے، لیکن وہ ایک سائیڈ پر نہیں ہوئے۔ صدام حسین ایک بل سے پکڑے گئے، لیکن انہوںنے یہ ماننے سے انکار کر دیا۔ وہ اب عراق کے صدر نہیں رہے۔ حسنی مبارک کے ساتھ یہی کچھ ہوا ۔ایک رات محل میں سوئے اگلی صبح جیل سے اسٹریچر پر ڈال کر عدالت میں ایک پنجرے میں قید تھے۔بہت سارے لوگ کہیں گے وہ بہادر لیڈر تھے، جو اپنے ملک سے بھاگے نہیں۔ ایسی بات نہیں تھی۔ صدام جس حالت میں ملے کہیں سے نہیں لگتا تھا، وہ مزاحمت کررہے تھے۔ وہ اس معاملے کو بہتر انداز میں حل کرسکتے تھے اور لاکھوں عراقیوں کی زندگیاں بچا سکتے تھے۔ وہ آخر دم تک اس حقیقت کو نہ مان سکے کہ آسمان ان کا دشمن ہوچکا تھا ۔ قذافی کا بھی یہی خیال تھا کہ ان کی آنکھیں کھلیں گی ،تو وہ دوبارہ صحرا میں اپنے شاہی خیمے میںاپنی خوبصورت خواتین گارڈز کے جھرمٹ میں ہوں گے۔ 
یہی خیال اب نواز شریف کا ہے۔ وہ اس حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں کہ ان کا دشمن آسمان ہوچکا، لہٰذا وہ ایک کے بعد دوسری غلطی کرتے جارہے ہیں۔ وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ وہ ایک ٹوٹی ہوئی پتنگ کے دھاگے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ شاید ڈور دوبارہ ہاتھ میں آجائے۔ اقتدار ایک ایسی ڈور ہے ،جو ایک دفعہ ہاتھ سے پھسل جائے، دوبارہ ہاتھ نہیں آتی۔ ممکن ہے کہ لوگ کہیں تین دفعہ تو اقتدار نواز شریف کو ملا۔۔۔اب چوتھی دفعہ بھی مل جائے گا۔ اگر یہ بات ہوتی، تو آج قذافی ، صدام اور حسنی مبارک بھی اپنے تخت پر بیٹھے ہوتے۔ وقت سب کو روند کر نکل جاتا ہے۔ نواز شریف کے ہاتھ سے بھی وقت نکل چکا ۔ لاکھ ان کے حواری ان کو یقین دلاتے رہیں کہ ماضی کی طرح وہ دوبارہ کم بیک کرسکتے ہیں ، بات نہیں بنے گی۔ یہ نواز شریف کو بھی پتہ ہے کھیل ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ اس لیے وہ سب کشتیاں جلا رہے ہیں ۔ رہی سہی کسر وہ ممبئی حملوں پر بیانات دے کر پوری کرچکے ہیں، جس سے ان کی اپنی پارٹی ڈر گئی ہے اور اب پارٹی کا ٹکٹ لینے کے لیے کم لوگ ہی تیار ہے ۔ اب پانچ دن کی تاریخ مزید بڑھائی گئی ہے۔ نواز شریف تو اپنی سب کشتیاں جلا چکے ہیں،لیکن ان کے ساتھی خوفزدہ ہیں۔ وہ اس سب بغاوت کے لیے تیا رنہیں ہیں۔
اب پارٹی کے اندر بھی لڑائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ ''دنیا ‘‘اخبار کے شاندار رپورٹر طارق عزیز جو اندر کی سیاسی خبریں لانے میں کمال رکھتے ہیں کی خبر ہے کہ پچھلے اجلاس میں نواز شریف کی موجودگی میں سعد رفیق کو آصف کرمانی کے ہاتھوں ذلیل کروایا گیا ۔ یہ نواز شریف کا پرانا طریقہ واردات ہے۔ ماضی میں بھی جاوید ہاشمی کو نواز شریف پارٹی لیڈروںکے ہاتھوں ذلیل کروا کے مزے لیتے تھے۔ جاوید ہاشمی کو ذلیل کروا کے نواز شریف کو دلی سکون ملتا تھا ، پھر یہ کام چوہدری نثار علی خان کے ساتھ ہونا شروع ہوا۔چوہدری نثار کو پہلے چوہدری اعتزاز احسن کے ہاتھوں قومی اسمبلی میں ذلیل کرایا گیا ، پھر پرویز رشید کو استعمال کیا گیا۔ چوہدری نثار کو دیگر وزراء کے ساتھ ایک کرسیوں کی قطار میں تیسرے چوتھے نمبر پر بٹھایا جاتا تھا جبکہ عرفان صدیقی، نواز شریف کے ساتھ برابر کرسی پر بیٹھتے تھے۔ نواز شریف کو علم تھا کہ چوہدری نثار پر اگر ذہنی تشدد کرنا ہو تو انہیں نظرانداز کرو یا پروٹوکول نہ دو۔ یہ حربہ کامیاب رہا اور چوہدری نثار کو آرام سے ایک سائیڈ پر کر دیا گیا۔ اب یہی حربہ کرمانی کے ذریعے خواجہ سعد رفیق پر آزمایا گیا ہے۔ 
یوں اگر دیکھا جائے ،تو نواز شریف ہر اس انسان سے خوفزدہ ہیں، جو ان کے سامنے بات کرنے کی جرأت رکھتا ہو یا تھوڑی سی خودی اس میں باقی ہو۔ جاوید ہاشمی کو دیکھ کر انہیں احساس جرم ہوتا تھا کہ وہ پانچ سال جیل میں رہا جبکہ وہ جنرل مشرف سے ڈیل کر کے جدہ نکل گئے تھے۔ لہٰذا جب جاوید ہاشمی کی ان کی موجودگی میں بے عزتی ہوتی تھی، تو وہ مزے لیتے تھے۔ ان کا احساس جرم کم ہوتا تھا ۔ 
سیانے کہتے تھے جب برا وقت چل رہا ہو تو اس وقت خاموشی سے ایک طرف ہو جانا چاہیے۔گاڑی کا ٹائر پھٹ جائے تو سمجھدار اسے آہستہ کرنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں ،نہ کہ اچانک ریس پر پائوں ڈال دیتے ہیں ۔ یہاں الٹ ہورہا ہے، اگر نواز شریف کا کلیہ ایک عالمی حقیقت ہوتا تو پھر ہندوستان کا بادشاہ شاہ جہاں اپنے تین بیٹوں سمیت اورنگزیب کے ہاتھوں شکست خوردہ نہ ہوتا۔ دلی کی راجدھانی تو شاہ جہاں کے پاس تھی اور اورنگزیب دلی سے سینکڑوں کلو میٹر دور بیٹھا تھا ۔ جب آسمان ہی ہندوستان کے شہنشاہ شاہ جہاں کا دشمن ہوگیا تھا ،تو پھر سب تدبیریں الٹی ہوگئیں ۔ شاہ جہاں قید ہوا تو اس کے تین بیٹے اور خوبصورت پوتے اورنگزیب کے ہاتھوں ذبح ہوئے۔ شاہ جہاں کی شہزادی بیٹی اپنے باپ اور بھائیوں کے جھگڑے نمٹانے کے لیے کتنے ترلے منتیں کرتی ۔ کبھی باپ کے پائوں پکڑتی تو کبھی اپنے بھائی اورنگزیب کو بہن کی محبت کا واسطہ دے کر خط لکھتی کہ تم آجائو سب کچھ بیٹھ کر طے کر لیں گے۔ اورنگزیب کو خطرہ تھا کہ اس کا باپ اور بھائی اس کی پیاری بہن کو استعمال کر کے اسے بلا کر مار ڈالیں گے۔
یہ کچھ ہوتا ہے جب اقتدار کی جنگ شروع ہوتی ہے، تو پہلے اپنے خون کے رشتوں سے اعتبار ختم ہوتا ہے ۔ نواز شریف اورنگزیب ہیں اور نہ ہی داراشکوہ ۔ ہاں! نوازشریف ہندوستان کے ایک غمزدہ بادشاہ شاہ جہاں کی پوزیشن میں ضرور ہیں، جن سے اقتدار چھن چکا یا پھر ایک تنہا ، غمزدہ اور کنگ لیئر جوگلہ پھاڑ کر جنگلی طوفان میں تقدیر سے پوچھتا پھرتا تھا کہ اس کا کیا قصور تھا ، اسے کیوں ریاست سے دربدر کر دیا گیا ؟ نواز شریف اب شاہ جہاں کی طرح وہ شہنشاہ ہے، جو شاہی قلعے کی فلک بوس فصیلوں کے اندر قید تو ہوسکتا ہے، لیکن دلی کی راجدھانی پر دوبارہ سنہری تاج پہن کر تخت نشین نہیں ہوسکتا ۔ قدرت اور ہزاروں برس پرانی انسانی تاریخ نواز شریف کے لیے اپنے ابدی اصول اور تکلیف دہ سبق تو بدلنے سے رہی۔۔۔!


بدھ، 16 مئی، 2018

یہ جگر کی آگ کیسے ٹھنڈ ی ہوگی ؟


 ایاز امیر
ذوالفقار علی بھٹو تختہ ِ دار پر چڑھ گئے ، جنرل ضیاء الحق کو برا بھلا کہا، لیکن بطور ادارہ فوج کے خلاف کوئی بات نہ کی ۔ سینے میں دَبے ایٹمی راز کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہ کہا ۔ قومی مفاد کے خلاف کچھ نہ بولے ۔ نوازشریف کیسے رہنما ہیںکہ نااہلی کی وجہ سے سینے میں سُلگتے اَنگاروں کو تسکین دینے کیلئے قومی مفاد کو داؤ پہ لگا رہے ہیں ۔ ممبئی حملوں کے بارے میں وہ کچھ کہہ گئے کہ ہندوستانیوں کو سمجھ نہیں آرہا کہ کوئی پاکستانی رہنما ہندوستان کی بولی اس طرح سے بولے گا۔ ہندوستانی میڈیا کی حیرانگی اورخوشی تھمنے کو نہیں آرہی ۔ 
بجائے شرمندگی یا نظر ثانی کے نوازشریف اس خطرناک بیان پہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ مقصد اُن کا صاف ظاہر ہے ۔ سزا اگر احتساب عدالت سے ہوتی ہے تو دنیا کو باور کرانا چاہیں گے کہ سزا اُنہیں دراصل اُن کی دہشت گردی پہ مؤقف کی بناء پہ ملی ہے ۔ مزید کہتے ہیں کہ حق بات کرتا رہوں گا چاہے کچھ بھی سہنا پڑے ۔ یہ وہ شخص کہہ رہاہے ،جس نے پانامہ کیس کے معاملے میں دروغ گوئی کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ۔ ایک لفظ بھی صداقت پہ مبنی لبوں سے ادا نہیں ہوسکا۔خاندان کے ہر فرد کا مؤقف ایک دوسرے سے جدا ہے ۔یہ ہیں ہمارے حق بات کے چیمپئن۔
عدلیہ اورفوج تو کیا اُنہوں نے براہ راست حملہ ریاست پہ کیاہے۔ ریاست پاکستان کا مؤقف ممبئی حملوں پہ کچھ اور ہے، لیکن نوازشریف اُس سے بالکل اُلٹ کہانی بیان کررہے ہیں ۔ اس طریقے سے وہ ریاست ِ پاکستان کو اقوام عالم میں جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے کی شاید ہی کوئی نظیر ملتی ہو ، جو اُونچے عہدوں پہ رہے ہوں وہ اپنے ملک کے خلاف بات نہیں کرتے، چاہے کسی مسئلے پہ اُن کے تحفظات کچھ بھی ہوں ۔ امریکہ میں عراق پہ حملہ وسیع حلقوں میں امریکی پالیسی کا بہت بڑا بلنڈر سمجھا جاتاہے، لیکن امریکی سیاستدان یا سابقہ صدور اِس بلنڈر کا ڈھنڈورا دنیا میں نہیں پیٹتے ۔
نوازشریف کا کمال ہے کہ پاکستان کے دُشمنوں کی ترجمانی کی ہے۔ صرف اس لئے کہ امریکی ہمدردیاں حاصل کرسکیں شاید اِس اُمید پہ کہ اُن کی داخلی مصیبتوں میں اُنہیں کچھ ریلیف مل سکے ۔ باالفاظ دیگر ،ملک اوراُس کا مفاد جائیں بھاڑ میں، بس نوازشریف اورخاندان کیلئے آسانیاں پیدا ہوں۔پاکستان کا خیال تو نہ آیا کچھ اپنی جماعت کا سُوچ لیتے ۔نوازشریف کابیان نون لیگ پہ بجلی کی مانند گراہے ۔اُس کے دیگر لیڈران کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا کہیں۔شہبازشریف ہر لحاظ سے بڑے بھائی کے بیان سے مکمل منحرف ہوگئے ہیں ۔کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف ایسی بات کرہی نہیں سکتے اوریہ کہ اُن کی باتیں سیاق وسباق سے ہٹ کے پیش کی گئی ہیں ۔ یہ بھی عجیب مؤقف ہے ۔ نوازشریف کا انٹرویو کسی غیر ملکی اخبار میں شائع نہیں ہوا۔ خود نوازشریف اپنی بات پہ قائم ہیں۔وزیراعظم البتہ اپنے قائد کا دفاع کررہے ہیں اوراس طریقے سے کہ اپنے آپ کو جوکر بنا کے رکھ دیاہے۔ نہ اپنے عہدے کا خیال ہے نہ ملک کی عزت کا ۔ 
جو باتیں نوازشریف نے کی ہیں ،وہ کوئی سندھی یا پیپلز پارٹی کا کوئی رکن کرتا تو پنجاب میں ایسا طوفان آتا کہ تھمنے کا نام نہ لیتا ۔ ایساکہنے والے کو زندہ چبا لیا جاتا۔ رونا یہ ہے کہ نوازشریف پنجاب کے لیڈر ہیں اورپنجاب آبادی اوروسائل کے اعتبار سے ملک کا سب سے طاقتور صوبہ ہے۔ 1947ء سے لے کر اب تک حُب الوطنی کا ٹھیکہ اسی صوبے نے لے رکھاہے ۔ اسی صوبے کا لیڈر اب ہندوستان کی بولی بول رہا ہے ۔ 
نوازشریف کے بنیادی مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اُنہیں سیاسی لیڈر فوج اورایجنسیوں نے بنایا ۔ لیکن جب لیڈر بن گئے تو اُنہی ہاتھوں کو برداشت نہ کرسکے جو اُن کے بنانے میں پیش پیش تھے ۔ اسی لئے یہ عجیب منظر دیکھنے کو آیا کہ تین مرتبہ بننے والے وزیراعظم کی کسی ایک آرمی چیف سے نہ بن سکی ۔ ہر ایک سے اُن کے پرابلم کھڑے ہوگئے ۔ کس کس کا نام لیا جائے ۔اسلم بیگ کو نہ برداشت کرسکے ۔ آصف جنجوعہ سے باقاعدہ جنگ چھڑ گئی ۔ وحید کاکڑ نے اِنہیں گھر بھیجا ۔ جہانگیر کرامت سے زیادہ شریف النفس آرمی چیف ہو نہیں سکتاتھا ۔ اُن سے بھی اِن کی اَن بَن ہوگئی ۔ مشرف کور کمانڈر منگلا تھے ۔وہاں سے اُن کی کھوج لگا کر اُن کو آرمی چیف بنایاگیا اس خیال سے کہ اُردو سپیکنگ ہیں اورفوج میں اُن کا زیادہ حلقہ ِ اَثر نہ ہوگا۔ یہ ایک بیوقوف آدمی کی ہی سوچ ہوسکتی تھی ۔ پاکستان آرمی کا جو بھی کمانڈر ہو ۔۔۔مہاجر ، پختون ، پنجابی یا فارسی نژاد یحییٰ خان ۔۔۔حکم اُسی کا چلتاہے۔ یہ کوئی نسلی یا لسانی فوج نہیں ہے ۔ چاہے کسی کو اچھا لگے یا نہیں ،یہ قومی فوج ہے اوراسی کے وجود سے ریاست قائم ہے ۔ بعد میں جو مشرف اورنوازشریف کے درمیان ہوا وہ ہم جانتے ہیں۔ 
مشرف کو نکالنا تھا تو معرکہ کارگل کے موقع پہ نکالتے ۔ مشرف نے بغیر اجازت کارگل کا محاذ کھولا اورہمارے زیرک وزیراعظم کی سمجھ میں بات نہ آئی کہ اس محاذ آرائی کے مضمرات کیا ہوسکتے ہیں۔بجائے سوال پوچھنے کے جنگی جنون کا حصہ بن گئے اورپھر جب معاملہ گمبھیر ہوا تو واشنگٹن کے اچانک دورے پہ نکلے ۔ آگ کے شعلو ں میں سے پاکستان کا بچاؤ امریکی مدد سے کیاگیا۔ لیکن اُس وقت مشرف کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی اورمہینوں بعد اکتوبر 1999ء میں جس کارروائی کی کوشش کی گئی اُس کا جواز نہ تھا۔ فوجی کمان نے بغاوت کردی اورہمیں پتہ ہے کہ اُس ساری صورتحال کا نتیجہ کیا نکلا۔ 
جنرل راحیل شریف سے تعلقات ٹھیک نہ رہ سکے اوراگر جنرل راحیل کے بارے میں کہا جائے کہ وہ آگے قدم رکھنے والے انسان تھے تو دھیمے مزاج کے جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی نوازشریف کے تعلقات زیادہ دیر ٹھیک نہ رہ سکے ۔ تو سوال اُٹھتاہے کہ نوازشریف چاہتے کیا ہیں ۔اُن کا فوج سے مسئلہ کیاہے؟مسئلہ یہی ہے کہ ذہنی برابری کی سطح پہ فوجی جرنیلوں سے بات کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اسی لئے دل میں خواہش رکھتے ہیں کہ فوجی جرنیل بھی وہ خوشامد اورتابعداری دکھائیں جو پنجاب کی سول انتظامیہ کے افسران دکھاتے ہیں۔ نوازشریف سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاک فوج کا سربراہ آئی جی یا چیف سیکرٹری پنجاب کی طرح تابعداری نہیں دِکھا سکتا ۔ یہ اُن کو ناگوار گزرتی ہے اورجلد بگاڑ پیدا ہوجاتاہے ۔ اس صورتحال کاکوئی حل نہیں ۔ نہ نوازشریف کی ذہنی سطح بلند ہوسکتی ہے نہ فوج کا کمانڈر انچیف اتنا نیچے آسکتاہے ۔ 
اَب کی بار معاملہ اورنازک ہوگیاہے ۔نوازشریف اقتدار سے معزول ہوچکے ہیں اوراگر ہم شواہد اورآثارپہ جائیں تو نیب عدالت سے سزا زیادہ دورنہیں۔ اس لئے تمام احتیاط کو ایک طرف پھینک کے وہ خطرناک جواء کھیلنے پہ تیار ہوگئے ہیں ۔ حملہ اُنہوں نے پاکستان اوراُس کی سکیورٹی پالیسیوں پہ کر ڈالاہے ۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ چیلنج دے رہے ہیں کہ میں نے یہ کردیاہے، آپ نے جو کرناہے کریں ۔ 
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ بھی لمبی تاویلوں میں پڑ گیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے حوالے سے یہ کچھ کیا اورہندوستان نے فلاں فلاں چیز نہیں کی۔ ایسی تاویلوں کی چنداں ضرورت نہ تھی ۔ اعلامیہ مختصر ہوتا اورصاف کہتا کہ سابقہ وزیراعظم نہایت غیر ذمہ دارانہ رویے کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اس سے زیادہ کی ضرورت نہ تھی ۔ البتہ اس پہ غور کیا جاسکتاتھا کہ آیا سابقہ وزیراعظم کو یہ کھلی چھٹی ملنی چاہیے کہ جو جی میں آئے وہ کہیں اورذرائع ابلاغ اُن کے خیالات کی بھر پور تشہیر کریں۔ 
مصیبت یہ ہے کہ حکومت بھی اِ ن کی اورحزب اختلاف کا کردار بھی یہ ادا کررہے ہیں ۔ باقی اس حکومت کی زندگی پندرہ روز رہ گئی ہے اورقوم کو یہ صورتحال اس عرصے کیلئے برداشت کرنی پڑے گی ۔ اُس کے بعد شاید حالات میں بہتری آئے ،لیکن نوازشریف نے جو حملہ ملک پہ کرنا تھا، وہ کردیا۔ 

(روزنامھ دنیا 16 مئی 2018ع)