اتوار، 25 مارچ، 2018

عوام کو مزید گمراہ نہ کریں


مجھے یقین ہے وہ تمام سازشی تھیوریاں دم توڑ دیں گی جو پچھلے کئی ماہ سے جاری ہیں اور جن کا مقصد سوائے بے یقینی پھیلانے کے کچھ نہیں۔ کئی تھیوریاں تو پہلے ہی دم توڑ چکی ہیں۔ اب صرف ایک تھیوری باقی رہ گئی ہے کہ عام انتخابات وقت پر نہیں ہوں گے کیونکہ فوج اور عدلیہ نے پہلے گند صاف کرنے کا ارادہ باندھ لیا ہے، ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں گے کہ عام انتخابات وقت پر نہ ہو سکیں اب یہ باتیں کیوں کی جا رہی ہیں کہ انتخابات کو ملتوی کرانے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ یہ سازش کون کر رہا ہے، کہاں ہو رہی ہے، کوئی بتانے کو تیار نہیں بس ایک سازشی تھیوری بیان کر دی گئی ہے، جس کا سر ہے نہ پیر۔اس کے برعکس چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کھل کر یہ کہہ دیا ہے کہ کوئی جوڈیشل مارشل لاء نہیں لگے گا اور نہ ہی فوجی مارشل لاء لگانے کی اجازت دیں گے۔ ملک کا مستقبل صرف اور صرف جمہوریت سے وابستہ ہے، آئین پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے گا اس میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس سے پہلے چیف آف آرمی سٹاف بھی بار ہا کہہ چکے ہیں کہ فوج جمہوریت کے ساتھ ہے اور اسے ڈی ریل نہیں ہونے دے گی۔ اتنی واضح یقین دہانیوں کے باوجود اگر لفظوں کی جگالی کرنے والے ہر کام میں سازشی تھیوری تلاش کر لیتے ہیں تو ان سے بڑا سازشی اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
جس عدلیہ کو نوازشریف آج برا کہہ رہے ہیں، اس کا تو شکر گزار ہونے کی ضرورت ہے، یہ عدلیہ ہی ہے جس نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اب کسی غیر آئینی تبدیلی کو آئینی نظریہ ضرورت کی چھتری فراہم نہیں کی جائے گی۔ ایک طرح سے عدلیہ نے آئین پر شب خون مارنے کی روایت پر خطِ تنسیخ پھیر دیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں فوج جب بھی اقتدار میں آئی، آمروں نے سپریم کورٹ سے نظریۂ ضرورت کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا سب سے پہلے ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کا پابند بنایا اور پھر اپنے اقدامات کی منظوری لی۔ اب یہ باب بند کر دیا گیا ہے۔ کوئی غیر آئینی راستے سے حکومت پر قبضہ کرتا ہے تو اسے نہ صرف سپریم کورٹ نظریۂ ضرورت کا سرٹیفکیٹ نہیں دے گی بلکہ اس کے خلاف آئین توڑنے کا مقدمہ بھی سنے گی۔ اس بات کی تعریف و ستائش کی جانی چاہئے مگر اُلٹا یہ کہا جا رہا ہے کہ عدلیہ فوج کے دباؤ پر فیصلے دے رہی ہے۔
آمریت کے آگے بند باندھنے والی عدلیہ کے بارے میں یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے شکر ہے چیف جسٹس ثاقب نثار ماضی کے چیف جسٹس صاحبان کی طرح صرف اپنے ترجمان کے ذریعے ہی سپریم کورٹ کا موقف بیان نہیں کرتے بلکہ خود سامنے آکر وضاحت کرتے ہیں جس سے تمام شکوک و شبہات ختم ہو جاتے ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ شیخ رشید نے جوڈیشل مارشل لاء لگانے کی بات کی تو کئی لوگ کہنے لگے کہ دیکھا بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے یہی وہ منصوبہ تھا جسے جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف کو خیر باد کہتے ہوئے بہت پہلے بے نقاب کر دیا تھا کہ ملک میں عدلیہ کے ذریعے جمہوریت کی بساط لپیٹ کر عبوری سیٹ اپ قائم کیا جائے گا۔   اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بھی شیخ رشید کی اس تجویز پر تنقید کی اور اسے خلاف آئین قرار دیا۔ گویا اس بیان سے ایک لاوا پکنے کا خدشہ تھا، جسے چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود سامنے آکر ٹھنڈا کر دیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ملک میں مارشل لاء نہیں آئے گا، جوڈیشل مارشل لاء کی آئین میں قطعاً گنجائش نہیں، آئین میں حکومت بنانے کا طریقہ بالکل واضح ہے سپریم کورٹ آئین پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی اور کسی کو آئین کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔اب اس کے بعد تو ساری ذمہ داری سیاستدانوں کے کاندھوں پر آ جاتی ہے وہ جمہوریت کے لئے اس ساز گار فضا سے فائدہ اٹھائیں۔ اچھی اور بہتر قیادت کے لئے کوشش کریں۔ چیف جسٹس نے تو حضرت عمرؓ جیسے کسی حکمران کی دعا مانگی ہے، چلیں ان جیسا نہ سہی کوئی ایسا تو ہو کہ جمہوری اقدار کو ہی اپنا سکے۔ عوام کو ایک بہتر گورننس دے کر ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائے یہ تھیوری اب ناکام ہو گئی ہے کہ سیاستدان صرف یہ واویلا کرتے رہیں کہ ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں اُنہیں اب یہ تھیوری اپنانی چاہئے کہ پارلیمینٹ اپنا کام کرے گی۔ پارلیمینٹ میں 90 فیصد ارکان مٹی کے مادھو بن کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ صرف حاضری لگوانے یا ہاں میں ہاں ملانے کے لئے آتے ہیں اصل ووٹ کی بے عزتی تو وہ کرتے ہیں، اپنے ووٹرز کی اسمبلی میں آواز نہیں بنتے اور معاشرے میں جس طرح تیزی سے مسائل بڑھ رہے ہیں ان کے بارے میں اسمبلی کا فورم ہی استعمال نہیں کرتے۔اسمبلی میں تان اس نکتے پر ٹوٹتی ہے کہ یہاں جمہوریت کو چلنے نہیں دیا جا رہا۔ عجیب بات ہے کہ یہ عوامی نمائندے اسمبلیوں میں جمہوریت کی بات نہیں کرتے اور واویلا جمہوریت کے نہ چلنے کا کرتے ہیں۔ کیا پورا ملک مسائلستان نہیں بنا ہوا، ایک سے بڑھ کر ایک مسئلہ موجود ہے مگر اسمبلیوں میں یا تو کورم پورا نہیں ہوتا یا پھر ایسے ایشوز پر بات ہوتی ہے جن کا براہ راست عوام کے مسائل سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
پاکستان میں ایک منصوبے کے تحت عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ انتخابات نہیں ہوں گے تاکہ عوام اس اُلجھن میں رہیں کہ انہیں ووٹ کا حق ملے گا یا نہیں، جب انتخابات قریب آ جائیں تو انہیں اچھے برے کی تمیز پر توجہ دینے کی بجائے یہی بات غنیمت لگے کہ چلو انتخابات ہو تو رہے ہیں یہی سوچ کر وہ برائیوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں پاکستانی عوام کو اب اس مخمصے سے نکل آنا چاہئے کہ انتخابات بروقت ہوں گے یا نہیں انہیں صرف اس پہلو پر توجہ دینی چاہئے کہ انتخابات میں انہوں نے ووٹ کسے دینا ہے اور ملک کی تقدیر کیسے بدلنی ہے انتخابات کے قریب آتے ہی بہت سے سیاسی مولوی ڈگڈگی لے کر میدان میں آ جاتے ہیں نئے اتحاد بنتے ہیں اور نئی سیاسی جماعتیں تبدیلی کا دعویٰ کر کے میدان میں اترتی ہیں حالات ساز گار ہوں تو ساری ذمہ داری ووٹروں پر آ جاتی ہے ملک کے چیف جسٹس اگر یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ ملک میں نہ صرف انتخابات بروقت ہوں گے بلکہ ان کی شفافیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا تو پھر کسی ووٹر کو یہ شک نہیں رہنا چاہئے کہ وہ اپنے ووٹ سے اچھے نمائندوں کا انتخاب نہیں کر سکتا ہے جو ملک کی تقدیر بدلنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ووٹروں نے اپنی زندگی میں کیا کچھ نہیں دیکھا کیسے کیسے نعرے نہیں سنے اور کیسی کیسی تحریکیں نہیں دیکھیں مگر ہوا تو کچھ بھی نہیں، ہر کوئی بے وقوف بنا کے چلتا بنا کل مولانا فضل الرحمن فرما رہے تھے کہ اس ملک میں عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کے نام پر دھوکے دیئے گئے۔
تبدیلی کے نام پر بے وقوف بنایا گیا۔ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے مگر وہ یہ بھی تسلیم کریں کہ آج انہوں نے متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ زندہ کر کے ایک بار پھر اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینے کی تیاری کر لی ہے میں تقریباً 45 سال سے سیاست کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہوں، اس میں شامل بھی رہا ہوں یہاں سب کچھ دھوکے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے بھٹو کے خلاف جب تحریک نظامِ مصطفیٰ چلی تھی تو دعویٰ یہی کیا گیا تھا کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے گا مگر بھٹو کے ہٹتے ہی مولوی صاحبان ضیاء الحق کی جھولی میں جا گرے اور انہوں نے جمہوریت کی بجائے آمریت کو سپورٹ کیا اس سے پہلے جو متحدہ مجلس عمل بنی تھی، اس کا جمہوریت کے لئے کیا کردار تھا وہ پرویز مشرف کا دایاں بازو بنی ہوئی تھی۔ سو انتخابات کے قریب آتے ہی بہت سے ڈرامے شروع ہو جاتے ہیں، جن کا مقصد سوائے عوام کو نئے سبز باغ دکھانے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔
عوام کو کم از کم اب اس نکتے پر بالکل بے وقوف نہیں بننا چاہئے کہ ملک میں جمہوریت کو کوئی خطرہ ہے جمہوریت اب پاکستان میں ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے۔ اب مسئلہ صرف اسے مضبوط بنانے اور عوام کے لئے ثمر آور بنانے کا ہے یہ ذمہ داری عدلیہ پر ڈالی جا سکتی ہے اور نہ فوج پر، اس کی ذمہ داری صرف سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو اُٹھانی پڑے گی۔ دنیا بھر میں جمہوریت اس لئے کامیاب طرز حکومت سمجھی جاتی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کا مداوا کرتی اور انہیں ایک خوشحال زندگی کا یقین دلاتی ہے۔ ہمارے ہاں جمہوریت عوام سے انتخابات کے بعد لا تعلق ہو جاتی ہے جب عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے تو اس خلاء کو پورا کرنے کے لئے عدلیہ مداخلت کرتی ہے یہ مداخلت جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اس کا مقصد سرکاری اداروں کو خواب غفلت سے جگانا ہوتا ہے۔
یہی بات چیف جسٹس بھی بار بار کہہ چکے ہیں ووٹ کی عزت کا بیانیہ صرف ایک نعرے کے طور پر اپنانے سے بات نہیں بنے گی بلکہ عوام کے ووٹ کو واقعی عزت دینی ہو گی۔ اچھے لوگوں کے انتخاب سے لے کر اقتدار میں آنے کے بعد عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے تک کا عمل اگر نیک نیتی سے جاری نہیں رکھا جاتا تو یہ نہ صرف وعدہ خلافی ہو گی بلکہ جمہوریت پر عوام کے اعتبار کو بھی نقصان پہنچے گا۔ سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ اب بے پر کی اڑانے کا سلسلہ بند کر دیں، افواہوں کا بازار گرم کرنے کی بجائے آنے والے انتخابات کی تیاری کریں۔ اپنی انتخابی مہم کو عوامی و ملکی مسائل کے حوالے سے منظم کریں نہ کہ اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی اپنائیں، جس کی گنجائش ہے اور نہ ہی عوام اسے پسند کریں گے۔
۪ روزنامہ پاکستان ۲۵ مارچ ۲۰۱۸ع
 ۪

پیر، 22 اگست، 2016

جِنّات


مفتی منیب الرحمٰن
انگریزی میں کسی ایک کلمے میں ایک حرف ایک ہی جگہ دوبار آئے ،تو اُسے ہم Doubleسے تعبیر کرتے ہیں ،اِسی کو عربی میں مُشدَّد سے تعبیر کرتے ہیںاورپہلے حرف کو ساکن کر کے دوسرے میں مُدْغَم (Merge)کردیتے ہیں ۔اِسی قاعدے کے تحت لفظِ ''جِنّ‘‘کا نون مُشدَّد ہے۔عربی زبان میں ''ج +ن+ن‘‘سے جتنے بھی کلمات بنتے ہیں ،اُن سب میں ستراور پوشیدگی کا معنی پایا جاتا ہے ، جیسے دل کو ''جَنَان‘‘،رِحمِ مادر میں بچے کو ''جَنین‘‘، دماغ پر پردہ پڑنے کو ''جُنون‘‘،ایسے گھنے باغ کو جس کے نیچے کی زمین نظر نہ آئے ''الْجَنَّۃ‘‘،پردے کو ''الجُنَّۃ‘‘،ڈ ھال کو ''الْجُنّۃ، الْجَنَان اور الْمِجَنّ ‘‘اورقبر کو ''اَلْجَنَنْ‘‘کہتے ہیں ۔پس اسی معنی کی مناسبت سے ناری مخلوق کو'' جِنّ اور جَانّ ‘‘کہتے ہیں ،جو نظروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ہمارے بعض دانشوروں نے ،جنہیں علومِ قرآنی اور عربی دانی کا زعم تھا ،انسانوں سے جدا ایک نوعِ مخلوق ہونے کے اعتبار سے جنّات کا انکار کیا ہے۔غلام احمد پرویز لکھتے ہیں:''عربوں میں ''اَلاِنْس‘‘اُن قبیلوں کو کہتے تھے جو ایک مقام پر مستقل طور پر سکونت پذیر ہوجائیں ،لیکن ''جِنٌّ‘‘ وہ قبائل تھے جو جنگلوں اور صحرائوں میں جا بہ جا پھرتے رہتے اور اس طرح شہر والوں کی نگاہوں سے اوجھل رہتے تھے ،انہیں خانہ بدوش قبائل(Nomadic Tribes)کہاجاتا ہے ۔۔۔آگے چل کر لکھتے ہیں: ''اِن مقامات پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ وہاں ''جِنٌّ‘‘سے مراد انسان ہی ہیں ،یعنی وہ وحشی قبائل (Gypsies) ہیں جو صحرائوں میں رہا کرتے تھے ، (لغات القرآن ،ص:446)‘‘۔
سرسید احمد خان لکھتے ہیں: ''اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام علمائے اسلام نے جنّوں کو ایسی ہی جداگانہ مخلوق قرار دیا ہے جیسے کہ انسان ،مگر قرآنِ مجید سے جنّوں کی ایسی مخلوق ہونے کا ثبوت نہیں ۔۔۔طویل بحث کرنے کے بعد آگے چل کر لکھتے ہیں: ''مشرکینِ عرب جو جنّوں کا یقین رکھتے تھے، وہ اُن کو جنگلوں اور پہاڑوں میں انسانوں سے مخفی رہنے والے جانتے تھے اور شریر اور زبردست قوی ہیکل خیال کرتے تھے اور اِس قسم کے انسانوں پر بھی جنّ کا اطلاق کرتے تھے ،قرآنِ کریم میں کہیں بطورِ استعارہ جنّ کا اطلاق انسان کو گمراہ کرنے والے شیطان پر ہوا ہے اور کہیں وحشی اور شریر انسانوں پر ،(تفسیر القرآن ،ج:2،ص: 505-511، ملخَّصاً)‘‘۔مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:''جنّوں کے جس تاثّر کا ''سورۃ الجنّ‘‘میں حوالہ دیا گیا ہے ،اس سے اگرچہ وہ لوگ متاثر نہیں ہوں گے جو صرف محسوسات کے غلام ہیں اور اُن چیزوں کے سِرے سے وجود ہی کے منکر ہیں ،جواُن کے محسوسات کے دائرے سے باہر ہیں ،(تدبرقرآن،ج: 8،ص:609)‘‘۔معروف اسکالرسرسید احمد خان اورغلام احمد پرویز معجزات کے منکر ہیں اور وہ اُن کی طرح طرح کی تاویلیں کرتے رہتے ہیں ،چنانچہ معراج النبی ﷺ کے بارے میں عام مسلمانوں کے عقیدے کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:''رسول اللہﷺ کا جسمانی طور پر رات کو بیت المقدس جانا اور وہاں سے ایک سیڑھی کے ذریعے آسمانوں پر جانا قانونِ فطرت کے خلاف ہے اور عقلاً محال ہے۔ اگر معراج النبی ﷺ کے راویوں کو ثقہ بھی مان لیا جائے ،تو یہی کہا جائے گا کہ انہیں سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ یہ کہہ دینا کہ اللہ اِس پر قادر ہے ،یہ جاہلوں اور مرفوع القلم لوگوں کا کام ہے، یعنی ایسے لوگ مجنون کے حکم میں ہیں ،سچے مومن ایسی بات نہیں کہہ سکتے۔ قانونِ فطرت کے مقابل کوئی دلیل قابلِ قبول نہیں ہے۔ ایسی تمام دلیلوں کو انہوں نے راوی کے سَہو اور خطا، دوراَزکار تاویلات، فرضی اور رکیک دلائل سے تعبیر کیا، (تفسیر القرآن، ج:2، ص: 122-123)‘‘۔
اِن اہلِ علم نے وحیِ ربانی اور دینِ اسلام کے مُغَیِّبَات کو اپنی عقل کی کسوٹی پر پرکھ کر رَد کرنے کا شِعار اختیار کیا اور عقل یا اپنے الفاظ میں قوانینِ فطرت کو اٹل اور ابدی تسلیم کیا،یہاں تک قرار دیا کہ فاطِروخالق سبحانہٗ وتعالیٰ بھی اِن قوانینِ فطرت کا پابند ہے ۔ظاہر ہے اللہ تعالیٰ تو وہی ہے جو ہر چیز پر قادر ہے ،ہر چیز پر حاکم ہے اور تمام ممکنات اُس کی قدرت کے تابع ہیں ۔کسی بھی چیز میں کوئی کمال ذاتی نہیں ہے ، بلکہ ہرچیز میں جو بھی کمال ہے ،وہ اللہ تعالیٰ کے خَلق اور اُس کی عطاسے ہے اور وہ جس طرح کسی چیز میں کوئی کمال یا خاصیت پیدا کرنے پر قادر ہے ،اِسی طرح اُسے سَلب کرنے اورقلبِ ماہیت پر بھی قادر ہے ،ارشاد فرمایا:''ہم نے حکم دیا :اے آگ!تو ابراہیم پر ٹھنڈک اور سلامتی ہوجا،(الانبیائ:69)‘‘۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جنات کے بارے میں فرمایا(1): ''اور جنّ کو خالص آگ کے شعلے سے پیدا کیا،(الرحمن:15)‘‘۔ (۲):''اوراس سے پہلے ہم نے جنّات کو بغیر دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا،(الحجر:27)‘‘۔الغرض قرآنِ کریم میں صراحت ہے کہ جنّ انسانوں سے جدا ایک نوعِ مخلوق ہے اور اُس کا مادّہ ٔ خلقت آگ ہے ۔سورۂ احقاف اور سورۃ الجنّ میں جنّات کی رسول اللہﷺ کے پاس آمد کا ذکر ہے ،ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ''آپ کہیے!میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنّات کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا اور کہا: ہم نے عجیب قرآن سنا ہے ،جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے ،پس ہم اُس پر ایمان لائے اور ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے اور بے شک ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ،نہ اُس نے کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ اولاد، (الجن:1-3)‘‘۔ سورۃ الجن سے معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین وجنّات عالَمِ بالا میں جایا کرتے تھے، وہاںگھات لگا کر بیٹھ جاتے تھے اور فرشتوں کی باتوں کی سُن گُن لیتے تھے اور کوئی ناتمام بات سُن لیتے تو اُس میں اپنی طرف سے آمیزش کر کے کاہنوں کو پہنچادیتے اور وہ لوگوں کو اپنے دامِ عقیدت میں پھنساتے اور گمراہ کرتے۔لیکن اچانک عالَمِ بالا میں تبدیلی آئی اور جنّات وشیاطین کا داخلہ بند ہوگیا ،تو وہ اس تلاش میں نکل کھڑے ہوئے کہ آخر اس تبدیلی کا سبب کیا ہے ؟۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:''(جنّات نے کہا:) اور ہم نے آسمانوں کا جائزہ لیا تو ہم نے اُسے سخت پہرے داروں اور آگ کے گولوں سے بھرا ہوا پایا ،اور (اس سے پہلے )ہم سُن گُن لینے کے لیے گھات لگا کر بیٹھ جاتے تھے ، سو اب جو کوئی بھی (عالَمِ بالا کی باتیں )سننے لگے تو وہ اپنے لیے آگ کا شعلہ تیار پاتا ہے ،اور ہمیں معلوم نہیں کہ (اس بندش سے) زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کے رب نے اُن کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور بے شک ہم میں سے کچھ لوگ نیک ہیں اور کچھ اس کے برعکس ،ہماری راہیں جدا جدا ہیں، (الجنّ: 8-11)‘‘۔پھر فرمایا: ''اوربے شک ہم میں سے چند اطاعت گزار ہیں اورکچھ سرکش ہیں ،(الجنّ:14)‘‘۔
رسول اللہ ﷺ کے حضورجنّات کی آمد کی تفصیل حدیث پاک میںموجود ہے:''حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنّات پر قرآن مجید نہیں پڑھا تھا اور نہ ان کو دیکھا تھا، نبی ﷺ اپنے اصحاب کی جماعت کے ساتھ عُکاظ کے بازار میں گئے اور آسمان کی خبر اور شیاطین کے درمیان کوئی چیز حائل ہوگئی تھی اور ان کے اوپر آگ کے شعلے پھینکے جاتے تھے، پس شیاطین اپنی قوم کی طرف گئے اور انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان کوئی چیز حائل ہوگئی ہے اور ان کے اوپر آگ کے شعلے پھینکے جاتے تھے؟۔ انہوں نے کہا: ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے،زمین کے شرق وغرب میں سفر کرو اور تلاش کرو کہ ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان کیا چیز حائل ہوگئی ہے، پھر انہوں نے زمین کے مشارق اور مغارب میں سفر کیا، ان کی ایک جماعت تہامہ کی طرف گئی اور وہاں نبی ﷺ عُکاظ کے بازار میں اپنے اصحاب کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ،جب انہوں نے قرآن کو سنا تو انہوں نے کہا: یہی وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کے درمیان حائل ہوگئی ہے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس گئے اور کہا: اے ہماری قوم!ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے ،ہم اُس پر ایمان لے آئے اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک قرار نہیں دیں گے ،(صحیح البخاری:4921)‘‘۔
اس مضمون کو سورۃ الاحقاف میں بیان کیا ہے :''اور یاد کیجیے !جب ہم نے جنّات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف متوجہ کیا جو توجہ سے قرآن سنتے تھے ،پس جب وہ وہاں حاضر ہوگئے ،تو آپس میں کہا:خاموش رہو، پھر جب قرآن پڑھا جاچکا ،تو وہ اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے ہوئے پلٹے، آپس میں کہا: اے ہماری قوم!ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام )کے بعد نازل کی گئی ہے ،جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے ،حق اور سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتی ہے ،(الاحقاف: 29-30)‘‘۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے ماننے والے تھے۔
سو جنّات کا وجود ایک حقیقت ہے ،اس پر ہمارا ایمان ہے اور قرآن اس پر شاہد ہے ۔ان میں مسلمان بھی ہیں اور کفار بھی، صالح بھی ہیں اور فاسق وفاجر بھی۔لیکن آج کل عجیب وغریب ہیئت کے حامل لوگ اورجنّات کے عامل ہونے کے دعویدار سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں ، لوٹ رہے ہیں، بلیک میل کر رہے ہیں اور بعض صورتوں میں توَہُّم پرست عورتوں کو پھنسا کر اُن کی آبروریزی کرتے ہیں اور میڈیا بھی اپنے کاروبار کے لیے ایسے لوگوں کو پروموٹ کر رہا ہے ،ان جعلی عاملوں کے لیے سخت تعزیری قوانین کی ضرورت ہے۔
(روزنامہ دنیا)   

طنز و مزاح : گھریلو ٹوٹکا اور رہنمائے باورچی خانہ


ظفر اقبال
سالن میں نمک زیادہ
سالن میں نمک کی کمی بیشی اکثر اوقات ہی رہتی ہے جس پر تلخی وغیرہ بھی ہوتی رہتی ہے اور میاں کی سرزنش بھی‘ ظاہر ہے کہ نمک کی زیادتی کھانے کی ساری لذت ہی کو شرما کر رکھ دیتی ہے۔ حتّیٰ کہ شاعر لوگ بھی بلبلا اٹھتے ہیں: مثلاً غالباً شاد عارفی کا شعر ہے ؎
نمک سالن میں اتنا تیز توبہ
مزعفر ڈالڈا آمیز توبہ
یعنی ایک نمک کی زیادتی ہی سے آدمی توبہ توبہ کر اٹھتا ہے۔ سو‘ سالن میں نمک کم کرنے کے کوئی سائنسی طریقے بھی ضرور ہوں گے کیونکہ سائنس جتنی ترقی کر چکی ہے وہ پریشان کن بھی ہے۔ اسی لیے سائنس سے دور دور رہنا ہی اچھا ہوتا ہے۔ تاہم زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم اگرچہ سائنسدان نہیں ہیں اور الحمدللہ کہ نہیں ہیں اور اس بدمزگی کو دور کرنے کے لیے جو طریقہ ہم نے ایجاد کیا ہے وہ سہل الحصول بھی ہے اور اس پر کچھ زیادہ خرچہ بھی نہیں اٹھتا‘ اور وہ یہ ہے کہ نمک زدہ سالن میں دو چمچ بھر کر پسی ہوئی سرخ مرچوں کے ڈال دیں اور سالن کو اچھی طرح سے ہلائیں اور گھمائیں! حتّیٰ کہ مرچیں سالن میں اچھی طرح سے مکس ہو جائیں‘ اور جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نمک کی تلخی نیست و نابود ہو جائے گی بلکہ کھانے والوں کو یاد ہی نہیں رہے گا کہ سالن میں کبھی نمک زیادہ بھی تھا ‘یعنی مرچوں کی زیادتی نمک کی زیادتی کو بالکل زائل کر دے گی اور نمک کی زیادتی کی وجہ سے شُوں شُوں کرنے والے شُوں شُوں بھول کر شاں شاں کرنے لگیں گے اور اگر تھوڑی بداحتیاطی سے سالن میں مرچیں زیادہ ہو جائیں تو بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس میں دو چمچ نمک کے ڈال کر اس کو دہرائیں‘ خاطر خواہ نتائج حاصل ہونگے۔
رہنمائے باورچی خانہ
خواتین خانہ کی سہولت کے لیے ہم نے یہ نہایت مفید کتاب تیار کروائی ہے تاکہ وہ ہر قسم کے کھانے گھر پر ہی تیار کر سکیں اور اپنے میاں کی بھی منظور نظر رہیں کیونکہ بقول شخصے خاوند کی محبت اس کے پیٹ کے راستے سے آتی ہے۔ اگرچہ موجودہ حالات میں وہ بے چارہ ماسوائے محبت کے اور کچھ کر بھی نہیں سکتا۔ اگرچہ گھر سے باہر رہنے میں وہ زیادہ سکون محسوس کرے گا لیکن کڑا پہنانا سراسر زیادتی ہے۔ بلکہ اب تو مزید سہولت ہو گئی ہے کہ برتن وغیرہ صاف کرنے کے علاوہ وہ دفتر یا دکان سے گھر آ کر رات کا کھانا بھی تیار کر سکتا ہے۔ کھانوں کی اس شہرہ آفاق کتاب کا دیباچہ ہماری خصوصی درخواست پر میاں نوازشریف نے لکھی ہے اور بہت مزے لے لے کر لکھا ہے جس میں قسم قسم کے کھانوں کی ترکیبیں پوری تفصیل سے بیان کر دی گئی ہیں جو کہ ماشاء اللہ باتصویر ہیں اور ہر پکوان کی رنگین تصویر بھی شامل کر دی گئی ہے۔ کتاب ہذا میں صاحب موصوف کے چوبیس باورچیوں کے تفصیلی انٹرویوز بھی شامل کئے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے کام سے بوقت طعام کس طرح عہدہ برا ہوتے ہیں کیونکہ اکثر اوقات انہیں ڈبل ڈیوٹی بھی ادا کرنا پڑتی ہے اور ہر وقت انہیں اپنی نوکری کے لالے پڑے رہتے ہیں۔
فاضل دیباچہ نگار نے کھانوں کی تیاری کے علاوہ انہیں کھانے کے طریقے بھی وضاحت سے بیان کئے ہیں کہ اللہ تعالی کی نعمتوں سے کس طرح زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے انسان کو کھانے اور اپنی عبادت کرنے ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ علاوہ ازیں اگر تیاری کے دوران کھانا کچا رہ جائے یا زیادہ پک جائے تو اس کو صبر و شکر کے ساتھ کھانے کی تلقین کی گئی ہے کیونکہ اسے کسی صورت بھی ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔ نیز یہ کہ کھانا اگر ضرورت سے زیادہ تیار ہو جائے تو محفوظ کرنے کی بجائے اللہ کا نام لے کر اسے بھی کھا جانا چاہیے کیونکہ ایک تو باسی ہو کر اس کی غذائیت کم ہو سکتی ہے اور دوسرے لوڈشیڈنگ کے اس زمانے میں فریج وغیرہ بھی متاثر ہوتے رہتے ہیں اور کھانا خراب ہونے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔
صاحب موصوف نے رنگ رنگ کے کھانوں کے علاوہ انہیں ہضم کرنے کے لیے طرح طرح کی پھکیاں تیار کرنے کے طریقے بھی بیان کر دیئے ہیں تاکہ اگر ضرورت سے زیادہ بھی کھا لیا جائے تو اسے اچھی طرح ہضم بھی کیا جا سکے کہ اوّل تو ہر شریف آدمی کا معدہ لکڑ ہضم‘ پتھر ہضم ہونا چاہیے کہ اسے پھکیاں وغیرہ استعمال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے‘ تاہم پھکیوں کے ساتھ ساتھ مختلف چورن تیار اور استعمال کرنے کے طریقے بھی اس ازحد مفید کتاب میں بتائے گئے ہیں۔ مزید برآں یہ سنہری نسخہ بھی بیان کر دیا گیا ہے کہ اگر پھکی اور چورن استعمال کرنے کے باوجود کھانا ہضم نہ ہو رہا ہو یا پھکی وغیرہ ہر وقت دستیاب نہ ہو تو اوپر سے دبا کر مزید کھا لینا چاہیے تاکہ اس کے بوجھ تلے آ کر پہلا کھانا بھی ہضم ہو جائے۔
فاضل دیباچہ نگار نے اپنی پسندیدہ ڈشیں تیار کرنے کا طریقہ بطور خاص بیان کیا ہے جو تقریباً 125 بنتی ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ ان سب کو اگر ایک ساتھ یعنی ایک ہی وقت میں کھانا مطلوب ہو تو اس کا کیا طریقہ ہے کہ معدے کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ صاحب موصوف کے نظریے کے مطابق خدا اگر توفیق دے تو ہر وقت کھاتے رہنا چاہیے بصورت دیگر یہ کفران نعمت میں شمار ہو سکتا ہے بلکہ اس پر عمل کرنے سے آپ عاقبت کی فکر سے بھی فارغ ہو جائیں گے کیونکہ کھانا بجائے خود ایک عبادت ہے کہ ساتھ ساتھ آپ اللہ کا شکر بھی ادا کرتے جاتے ہیں۔ کھانوں میں جن جن جانوروں اور پرندوں کا گوشت استعمال ہوتا ہے صاحب موصوف نے ان سب کے خواص بھی دل کھول کر بیان کر دیئے ہیں کہ کس کس جانور یا پرندے کا گوشت کھانے سے دماغ تیز ہوتا ہے اور کون سا قوت مردی میں اضافہ کرتا ہے‘ کون سا جسم کو چاق و چوبند رکھتا ہے اور کس کے کھانے سے ہاضمہ تیز ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ آپ جناب نے تیتر‘ تلور‘ بٹیر‘ تلیئر‘ کبوتر‘ مرغابی‘ مرغ‘ فاختہ‘ ہریل‘ مچھلی‘ ہر قسم کا بکرا‘ مینڈھا‘ دنبہ‘ گائے‘ بھینس‘ ہرن‘ خرگوش اور دیگر خوردنی جانوروں اور پرندوں کے خواص کھول کر بیان کر دیئے ہیں تاکہ قوم اس سے صحیح معنوں میں استفادہ کر سکے۔ ہر جانور اور پرندے کی رنگین تصویر چھاپنے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جو اپنے طور پر بیحد اشتہا انگیز ہے۔
اس مقبول عام کتاب کا یہ ایک سو آٹھواں ایڈیشن ہے جس کی قیمت صرف 500 روپے رکھی گئی ہے۔ موجودہ ایڈیشن کی ایک کاپی خریدنے والے کو سابقہ ایڈیشن کے دو نسخے مفت پیش کئے جائیں گے۔ نیز دیباچہ نگار نے کھانا بنانے‘ کھانے اور پھکی اور چورن استعمال کرتے ہوئے ہرپوز میں رنگین تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں جس کی وجہ سے کتاب ماشا اللہ دھڑا دھڑ فروخت ہو رہی ہے اور سابقہ سارے ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ موجودہ ایڈیشن ترمیم و اضافہ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے جس میں دیباچہ نگار کی کچھ مزید پسندیدہ ڈشوں کا اضافہ کیا گیا ہے ''پہلے آئو‘ پہلے پائو‘ ‘ نقالوں سے ہوشیار رہیں۔ سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ ایسی مفید عام کتابیں ہر روز شائع نہیں ہوتیں۔ عقلمنداں را اشارہ کافی است۔دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔
آج کا مقطع
محبت سربسر نقصان تھا میرا ظفرؔ اب کے
میں اس سے بچ بھی سکتا تھا مگر ہونے دیا میں نے 
(روزنامہ دنیا)   

صحافت کے طلبہ کے لئے


عامر خاکوانی
صحافت کے طالب علموں کی صلاحیت کے حوالے سے ہمارا تاثر کچھ زیادہ اچھا نہیں۔ خاص طور سے ان کی مطالعہ سے عدم دلچسپی ناگوار لگتی ہے۔ کتاب تو دور کی بات ہے، ان میں سے بیشتر اخبار تک نہیں پڑھتے۔ جو نیک بخت کسی اخبار میں ملازم ہیں، وہ اپنا اخبار بھی پڑھنے کی زحمت نہیں فرماتے۔ کوئی پوچھ تو لے تو مزے سے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس اخبار پڑھنے کا وقت نہیں ۔ دنیا کی شاہکار کتابیں، شاہکار فلمیں، مشاہیر علم وادب وفنون لطیفہ ... ان سب سے نابلد رہتے ہیں اور افسوس کہ اس کمی یا خامی کو دور کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کی جاتی۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارا سسٹم اور میڈیا کی موجودہ حالت ان خامیوں کے باوجود انہیں نہ صرف قبول کر لیتی ہے، بلکہ چند سال گزرنے کے بعد یہ پڑے پڑے سینئر ہوجاتے ہیں اور پھر اپنی جہالت اور کم علمی کے اثاثوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے سے اگلی نسل کا بیڑا غرق کرنے میں جت جاتے ہیں۔ویسے تو یہ صورتحال آج کی نہیں ، پچھلے دو عشروں میں ایسی بہت سی مثالیں میرے سامنے ہیں، ایک دو بار ان کے حوالے بھی دے چکا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ سترہ اٹھارہ برس پہلے ایک بڑے اخبار کے نیوز روم میں کام کرتا تھا۔ انہی دنوں میرا آرٹیکل ایک معروف جریدے میں شائع ہوا۔ ایک ساتھی سب ایڈیٹرکو فخریہ دکھایا تو اس نے تیزی سے رسالہ چھینا اور اسے ڈیسک کی دراز میں رکھ دیا، پھر سرگوشی میں کہا ، ایسی چیزیں دکھاتے نہیں، چھپایا کرتے ہیں۔ حیرت سے میں ان کا چہرہ دیکھتا رہا کہ یہ عجب تماشا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ نیوز روم کے ایک اعلیٰ افسر اس قسم کی'' غیر نصابی سرگرمیوں‘‘کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ موصوف کبھی کبھار نیوز روم آ کر بیٹھ جاتے اور اپنی گرجدار آواز میں مختلف معاملات پر تبصرے فرماتے ۔ ایک بات وہ زور دے کر کہا کرتے کہ سب ایڈیٹر کو ''علم دشمن‘‘ ہونا چاہیے۔کتابیں وغیرہ پڑھنے میں وقت ضائع کرنے کی قطعی ضرورت نہیں، ایسے لوگوں کا نیوز روم میں کوئی کام نہیں۔ یہ بات سن کر میرے جیسے اکا دکا کتاب میں دلچسپی رکھنے والے سہم کر دبک جاتے ہیں کہ کہیں کوئی کم بخت ہماری طرف انگلی نہ اٹھا دے...ع 
اکبر نام لیتا ہے '' کتاب‘‘ کا اس زمانے میں
بات صحافت کے طالب علموں سے شروع ہو ئی تھی، گزشتہ روز ایک سینئر صحافی نے اپنے کالم میں مختلف یونیورسٹیوں کے ماس کمیونیشن طلبہ کے حوالے سے افسوسناک انکشافات کئے ہیں۔ان کے بقول ایک بہت بڑی اکثریت کتاب پڑھتی ہے نہ اخبار اور نہ ہی کسی کو کوئی نیوز ٹاک شو دیکھنے کی توفیق ہوئی۔ معلومات اس قدر کمزور کہ کسی نے قذافی کا نام لیا تو اسے یہ نہیں معلوم کہ اس کا تعلق کس ملک سے تھا۔ صدام اور حسنی مبارک سے وہ ناواقف تھے۔ یہ نوجوان صدر پاکستان، چاروں صوبوں کے گورنر، تین صوبوں کے وزیراعلیٰ، سپیکرز، چئیرمین سینیٹ وغیرہ کے ناموں سے بے خبر تھے۔ (ہمیں پنجاب حکومت کا شکرگزار ہونا چاہیے، جس نے پتے پتے، بوٹے بوٹے پر خادم اعلیٰ پنجاب کی تصویر اور نام لکھ لکھ کر کم از کم یہ نام تو نوجوانوں کو ازبر کرا دیا، ورنہ صحافی موصوف کو مزید دھچکا لگتا)۔ ان یونیورسٹیوںکے بیشتر نوجوان ابھی تک کلنٹن کو امریکہ کا صدر اور بلیئر کو برطانیہ کا وزیراعظم سمجھتے ہیں، انہیں نائن الیون کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، یہ نہیں جانتے کہ مشرقی پاکستان کو مشرقی پاکستان کیوں کہتے تھے ؟
یونیورسٹی طلبہ کی اس حالت کو دیکھ کرایک سینئر کالم نگار نے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر حضرات اور ماس کمیونکیشن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان کو مشورے بھی دئیے، ان میں کچھ پر تو ضرور عمل ہونا چاہیے ۔انہوں نے لکھا:''شعبہ صحافت کے سلیبس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں، ایک حصہ تکنیکی تعلیم پر جبکہ دوسرا انٹلکچوئل تعلیم پر مشتمل ہو۔سو کتابوں، پچاس فلموں اور پچیس مقامات کی فہرست بنائیں ، یہ تینوں فہرستیں صحافت کے طلبہ کے لئے لازمی قرار دی جائیں۔کتابوں میں پچاس کلاسیکل ، پچیس پچھلے دو برسوں کی بیسٹ سیلر اور پچیس تازہ ترین کتب ہوں۔یہ کتابیں اساتذہ اور طالب علموں دونوں کے لئے لازمی ہوں۔فلموں میں پچیس آل ٹائم فیورٹ، پندرہ پچھلے دس برسوں کی اکیڈمی ایوارڈ یافتہ اور دس تازہ ترین یعنی اسی سال کی ہوں۔پچیس مقامات میں قومی اسمبلی، سینیٹ، چاروں صوبوں کی صوبائی اسمبلیاں، گورنرہائوسز، وزیراعلیٰ ہائوسز، دنیا کے پانچ بڑے ممالک کے سفارت خانے، آثار قدیمہ کے پانچ بڑے پاکستانی مراکز، جی ایچ کیو، آئی جی آفسز اور میڈیا ہائوسز شامل ہوں۔نائن الیون سے لے کر ترکی کی تازہ ناکام بغاوت تک دنیا کے دس بڑے ایشوز نصاب میں شامل کئے جائیں۔ یہ ایشوزطلبہ کو ازبر ہونے چاہئیں۔ ملک کے بیس بڑے ایشوز جیسے بجلی کا بحران، گیس، پانی کا مسئلہ، دہشت گردی، سیلاب، صنعتیں، بے روز گاری، صحت، تعلیم، ٹریفک ، منشیات، انسانی سمگلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، پراپرٹی مافیا، ٹیکس اصلاحات، آبادی کا پھیلائو،ماحولیاتی آلودگی، خوراک کی کمی اور بے راہ روی وغیرہ کو مختلف طلبہ میں تقسیم کر دیا جائے۔ وہ ان میں مہارت حاصل کریں اور دوسروں طلبہ کو بھی پریزینٹیشن کے ذریعے آگاہ رکھیں،وغیرہ وغیرہ۔ ‘‘
یہ سب عمدہ تجاویز ہیں ، میری خواہش ہے کہ کسی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو تو ان تجاویز کو الگ سے موٹے الفاظ میں کمپوز کرا کر اپنی سامنے دیوار پر لگانا چاہیے اور اپنے شعبہ ماس کمیونیکیشن میں ان اصلاحات کونافذ کرے۔ جب وہ ایسا کر لے تو پھر اسی پیٹرن کو مختلف ڈیپارٹمنٹس میں ان کی ضرورتوں کے مطابق نافذ کرے۔ اگر ایسا ہوگیا تو صرف دو تین برسوں کے اندر ہماری یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات کی کارکردگی میں غیرمعمولی بہتری آجائے گی۔ 
جن طلبہ کو یہ چیزیں مشکل لگ رہی ہیں یا ان کے پڑھے لکھے والدین کو یہ خدشہ ہو کہ ان کی اولاد اس پر عمل نہیں کر پائے گی، انہیں پہلے مرحلے پر اخبارپڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ گھروں میں اخبار لگوا لیں۔میں اپنے اکثر عزیزوں اور دوستوں کو کہتا ہوں کہ اردو کا اخبار کا ماہانہ بل چار سو روپے بھی نہیں ہوتا۔ جولائی کا روزنامہ دنیا کا بل تین سو ساٹھ روپے تھا۔ اتنی معمولی رقم کے عوض پورا مہینہ اخبار پڑھنے کی عیاشی اور اس سے قارئین کو جس قدر معلومات حاصل ہوں گی ، اس کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ ہماری پڑھی لکھی مڈل کلاس جس کی یہ خواہش تو رہتی ہے کہ ان کی اولاد میں مطالعہ کی عادت پیدا ہو، وہ کتابیں پڑھے ، مگر اس کے لئے وہ پہلا قدم یعنی اخبار لگوانے کو تیار نہیں ہوتے۔ اتنی معمولی رقم جس سے آج کے دور میں ایک معقول قسم کا برگر بھی نہیں آ سکتا، اخبار پر وہ بھی خرچ کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اب انٹرنیٹ پر اخبار پڑھ لیتے ہیں، وہ بھی بالکل مفت۔ خود میرے بڑے بھائی صاحب نے اپنا اخبار بند کرا کر اسے موبائل نیٹ پر پڑھنا شروع کر دیا ہے۔جب کبھی ویک اینڈ پر وہ تشریف لاتے ہیں، پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک طمانیت انگیز مسکراہٹ کے ساتھ لاہور کے کسی شاندار ریستوران کا تذکرہ کرتے اور وہاں ڈیڑھ دو ہزار کے عوض دئیے جانے والے شاندار بوفے ڈنرکے قصیدے پڑھتے ہیں۔اپنے ہر وزٹ میں وہ ہمیں فاتحانہ مسکراہٹ سے یہ بتانا نہیں بھولتے کہ میں نے اخبار بند کر کے ماہانہ ساڑھے تین سو روپے کی بچت کر لی ہے۔ ہم میاں بیوی ان کی اس ''بچت‘‘کو سن کر ہمیشہ مسکراتی نظروں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ بھائی صاحب مگر مطمئن اور آسودہ ہیں کہ نیٹ پر مفت اخبار اور کالم پڑھنے کا فائدہ ہو رہا ہے، یہ اور بات کہ ہر ماہ وہ کئی ہزار اپنے کھابوں پر اڑا دیتے ہیں۔
میں اپنے دوستوں سے اکثر یہ کہتا ہوں کہ آپ بے شک موبائل پر اخبار پڑھیں بلکہ کتابیں بھی دیکھیں، کہ مستقبل کامیڈیم یہی موبائل ہی نظر آ رہا ہے، لیکن اخبار کی افادیت تسلیم شدہ ہے۔ جس تیزی سے اور کم وقت میں اخبار پڑھا جا سکتا ہے، موبائل پر اس سے کہیں زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ پھر اخبار گھر میں لگوانے کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ بچوں کو اخبار پڑھنے کی عادت ڈالی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ اخبار لگوانا پہلا قدم ہے، بچوں کو اس جانب راغب کرنا دوسرا اور باقاعدہ قسم کا مرحلہ ہے۔ اس کے لئے بچوں کو ان کی پسند کی خبریں، بچوں کے ایڈیشن، کہانیوں وغیرہ کی طرف مائل کرنا ہوگا۔ ان میں چھوٹے چھوٹے مقابلے کرانے ہوں گے، بلند آواز سے ریڈنگ کی مشق کرانی پڑے گی، اچھے نتائج پر انعامات دینے پڑیں گے، پھر کہیں جا کر بچوں کی دلچسپی پیدا ہوگی۔ ایک مرتبہ یہ مشکل کام اگر ہوگیا تو پھر آپ کے لئے آسانی پیدا ہوجائے گی۔ اخبار سے کتاب پر چھلانگ لگانا بہت آسان ہے ۔ کچھ نہ پڑھنے والے سے البتہ یہ توقع کی جائے کہ وہ اچانک ہی ناول پڑھنا شروع کر دے گا، یہ خام خیالی ہے۔ اپنے گھر میں اور نئی نسل میں مطالعہ کی عادت ڈالنے کے لئے ہمیں کچھ نہ کچھ محنت کرنا پڑے گی۔ یاد رکھا جائے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم جو نسل تیار کریں گے، وہ مطالعے سے نابلد، معلومات سے خالی ، صرف ناک کی سیدھ میں دیکھنے اور رٹا لگا کرنمبر لینے والی مشینیں ہوں گی۔ زندگی کے امتحان میںان سے اعلیٰ کارکردگی دکھانے اور کچھ نیا ، غیر معمولی تخلیق کرنے کی خواہش رکھنا پھر زیادتی ہوگی۔ 
(روزنامہ دنیا)   

وزیراعظم چودھری نثار کو فارغ کیوں کرینگے؟


نصرت جاوید

ستائش کی تمنا اور صلے کی پرواہ کئے بغیر لکھنے کا دعویٰ صرف غالب ہی کرسکتا تھا۔وہ بھی شاعرانہ تعلی کے ایک خاص لمحے میں۔عمر ساری تو اس بے چارے کی اپنے ہی ایک عزیز کے ہاتھوںدبائی اور تشویش ناک حد تک کم ہوئی پنشن کو انگریزوں سے براہِ راست حاصل کرنے میں صرف ہوگئی۔ اس شاہ خرچ اور بے تحاشہ مہمان نواز کو قرض اٹھاکر اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا پڑا۔ 6برس کے لئے بہادر شاہ ظفر کے دربار میں نوکری ملی تو اس کے بارے میں وہ اتراتا رہا۔ اس احساس کے ساتھ کہ وگرنہ شہر میں غالب کی کوئی آبرو نہیں۔

غالب ایسے نادرِ روزگار کو پنشن ،نوابوں کے لئے قصیدے اور شاہ کی مصاحبت حاصل کرنے کے لئے اپنی انا کو دن میں کئی بار فراموش کرنا پڑتا تھا،تو مجھ ایسا بے ہنر ستائش کی تمنا اورصلے کی پرواہ کئے بغیر لکھنے کا دعویٰ کس منہ سے کرسکتا ہے۔

سچ اور صرف سچ ہے تو یہ کہ لکھنے والوں اور خاص طورپر روزانہ اخبارات کے لئے کالم نگاری کے نام پر مجھ ایسے قلم گھسیٹنے والوں کے دل ودماغ پر یہ گماں طاری رہتا ہے کہ قاری ان کے ”گرانقدر “خیالات کے منتظر رہتے ہیں۔ ان دنوں ویسے بھی آپ صرف اخبارات ہی کے لئے نہیں لکھتے۔کالم شائع ہوکر صرف اخبار کے ہاکر کے ذریعے قاری کے گھرتک نہیں پہنچتا۔انٹرنیٹ پر Postبھی ہوتا ہے۔ وہاں کالم پوسٹ ہوجائے تو ہر صورت دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ اسے کتنے لوگوں نے Likeکرکے دوسروں کے ساتھ Shareکیا۔ اس پر کس نوعیت کی تبصرہ آرائی ہوئی۔ کتنی تعداد نے اپنی طرف سے تعریف کے چند کلمات لکھ کر اس کالم کو Re-tweetکیا۔

انٹرنیٹ پر آپ کے لکھے کسی کالم کی پذیرائی کو جانچنے کے پیمانے بہت کڑے ہیں۔ دھوکہ دہی کی اس میں گنجائش ہی نہیں۔ناپ تول کا اعشاری نظام ہے۔ اس نظام کے ہوتے ہوئے دُنیا کے مالدار اور مو¿ثر اخبارات کے لئے لکھنے والوں کو بھی معاوضے میں اضافے کی توقع کے ساتھ اپنی تحریروںکے بارے میں Re-tweets'Likesاور تبصرہ آرائی کی شدید طلب محسوس ہوتی ہے۔

ان سب حقائق کے تناظر میں چند ہفتوں سے میں نے ذرا غور سے انٹرنیٹ پر پوسٹ ہوئے اپنے اس کالم کا جائزہ لیا تو احساس ہوا کہ قارئین کی اکثریت کو وہ کالم زیادہ پسند آئے جس میں کسی نہ کسی نامور سیاستدان کی بھداُڑائی گئی تھی۔ یہ پذیرائی مگر Do Moreکے تقاضوں کے ساتھ ہوتی ہے۔راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراط عصر تو میرے Do Moreسے گھبراکر جھوٹی کہانیاںتراشتے ہوئے میرے ساتھ حساب برابر کرنے کی لگن میں جت گئے ہیں۔ میرا نام لے کر تہمت بھری کہانیاں گھڑتے ہوئے ہمارے انقلابی بقراط کو یاد ہی نہیں رہا کہ ان کا اصل مقام اور ہدف تو پاکستان کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم کو آئندہ ”سو دنوں“ میں فارغ کروانا ہے۔ ان کے ”سودن“ جولائی کی کسی تاریخ سے شروع ہوئے تھے۔ 30ستمبر کئی حوالوں سے ان”سودنوں“ کی Cut Offتاریخ ہے۔ انقلابی بقراط کی جانب سے اپنا ہدف بھول کر مجھے نشانہ بنانے کی تڑپ نے مجھے تو مسکرانے پرمجبور کردیا ہے۔ میں ان کی بے بسی کا لطف اٹھاتا ہوں، مگر سوشل میڈیا پر موصوف کی گھڑی تہمتوں کا ذکر کرتے ہوئے مجھے ”شیر بن شیر“ کے مشورے دئیے جاتے ہیں۔ مجھے یہ مشورے نظرانداز کرنا ہوتے ہیں کیونکہ اخبارات کے صفحات ذاتی حساب برابر کرنے میں ضائع نہیں کئے جانا چاہئیں۔

تشویش البتہ یہ دریافت کرنے کی وجہ سے لاحق ہوئی کہ کئی لوگوں کی دانست میں چودھری نثار علی خان کو نواز شریف کے دربار سے فارغ کروانے کی گیم لگ چکی ہے۔ میں ان کے بارے میں تواتر کے ساتھ تنقیدی فقرے لکھ کر شاید اس گیم میں حصہ ڈالنا چاہ رہا ہوں۔حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔

چودھری نثار علی خان کے اندازِ سیاست سے مجھے سواختلاف ہیں مگر 1985ءسے ان کے ساتھ باہمی احترام کا رشتہ بھی بدستور قائم ہے۔ اس رشتے کو ذہن میں رکھتے ہوئے مجھے یہ جان کر بلکہ افسوس ہوا کہ ان کے کسی مخالف نے، جسے میں بااعتبار اور ان دنوں نوازشریف کے دربار میں مو¿ثر سمجھتا ہوں،مجھے یہ جھوٹ بتایا تھا کہ جس روز چودھری نثار علی خان کی تقریر کے بعد خورشید شاہ پوری اپوزیشن کو لے کر قومی اسمبلی کے ایوان سے احتجاجاََ باہر چلے گئے تھے تو وزیر اعظم نے اپنے وزیر داخلہ سے تین بار یہ درخواست کی کہ وہ خود جاکر ناراض اپوزیشن کو راضی کریں۔ وہ تیار نہ ہوئے تو نواز شریف کو بذاتِ خود خورشید شاہ کے چیمبر جانا پڑا۔ میں نے Double-Checkکئے بغیراپنی سورس کا بتایا قصہ لکھ ڈالا جوحقیقت پر مبنی نہیں تھا۔ساری زندگی رپورٹنگ کی نذر کرنے کے باوجود،کالم میں چسکہ ڈالنے کی حرص میں یہ بات لکھ ڈالی۔

احتیاطاََ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مجھے مذکورہ بات خواجہ آصف یا ان کے کسی دوست نے نہیں بتائی تھی۔ خواجہ صاحب میرے ساتھ جھوٹ نہیں بولتے۔ اگرچہ ان سے ملے عرصہ ہوگیا ہے۔ ایسا کوئی واقعہ حقیقتاََہوا بھی ہوتا اور کسی نہ کسی طرح خواجہ آصف کی وساطت سے مجھ تک پہنچتا تو ایک کان سے سن کر دوسرے سے باہر نکال دیتا۔ دربار کے مصاحبین میں ہوئی گروہ بندی کے تناظر میں رپورٹر کا محتاط رہنا اشد ضروری ہوتا ہے۔

میری تمام تر احتیاط کے باوجود جمعرات کی شام سے کئی سینئر اور جونیئر ساتھیوں نے براہِ راست ملاقاتوں اور ٹیلی فونوں کے ذریعے مجھ سے اس ”خبر“ کی تصدیق چاہی کہ وزیر داخلہ کو ان کے منصب سے فارغ کیا جارہا ہے۔ دو کھانے کی محفلوں میں بھی اکثر احباب مجھ سے یہی سوال پوچھتے رہے۔ ثابت ہوا کہ اسلام آباد میں درباری سازشوں پر گہری نظر رکھنے والوں نے اپنے تئیں یہ طے کرلیا ہے کہ چودھری نثار کی ”فراغت“ کی گیم لگ چکی ہے۔ مجھے اس گیم کی نہ صرف خبر ہے بلکہ اس میں اپنا حصہ ڈالنے کو بھی میں بے قرار ہوں۔ حقیقت مگر اس کے بالکل برعکس ہے۔ بنیادی طورپر ایک رپورٹر ہوتے ہوئے مجھے صرف اس کھیل پر تبصرہ آرائی کی عادت ہے جو کھلی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہوتا ہے۔ درباری مصاحبین کی گروہ بندی میں مجھے کسی فریق کا ساتھ دینے کی بیماری لاحق نہیں۔ اپنی اصل اوقات تک محدود رہتا ہوں۔

چودھری نثار علی خان کی ممکنہ ”فراغت“ سے جڑی داستانوں کو سن کر لطف اٹھانے والوں کو ٹھنڈے دل سے یہ جان لینا چاہیے کہ ہر جماعت کی ایک Core Constituencyہوا کرتی ہے۔امریکی اسے Baseکہتے ہیں۔مثال کے طورپر ڈونلڈٹرمپ، ری پبلکن پارٹی کے بہت سارے خاندانی اور تگڑے رہنماﺅں کو کچلتا ہوا اس جماعت کا صدارتی امیدوار بننے میں کامیاب ہوا تو اصل وجہ اس کی یہ تھی اس نے وہ سب کچھ گلی کی زبان میں برسرِعام کہنا شروع کردیا جو ری پبلکن پارٹی کی Baseکے دلوں میں شدید تعصب کی صورت کئی دہائیوں سے موجود رہا ہے۔

اصلی اور وڈے مسلم لیگی،جو ان دنوں نواز شریف کی قیادت تلے جمع ہیں،پیپلز پارٹی کو اس کے قیام کے پہلے دن ہی سے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹونے،ان کی نظر میں ،مشرقی پاکستان کو جدا کرنے کے کھیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔مشرقی پاکستان گنوانے کے بعد وہ اقتدار میں آئے تو صنعتوں کو نیشنلائزکرکے مسلم لیگ کی Baseکی نظر میں بھٹو نے اس ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی۔ بھٹو صاحب کا تختہ الٹ کر ضیاءالحق نے فوجی آمریت کے جو گیارہ سال گزارے، ان سے مسلم لیگیوں کو کوئی خاص تکلیف نہیں۔ جنرل ضیاءالحق نے کئی حوالوں سے ،بلکہ ان کی نظر میں،پاکستان کا ”اسلامی تشخص“ بحال کیا ہے۔

اپنے تندوتیز بیانات سے چودھری نثار علی خان،پیپلز پارٹی کی نفرت میں مبتلا مسلم لیگی Baseکو خوش کردیتے ہیں۔ اس Baseکی نظر میں وزیر داخلہ نے اپنے بیانات کے ذریعے پیپلز پارٹی کوایک حوالے سے گویا”تحریکِ دفاعِ ڈاکٹر عاصم اور ایان علی“بنادیا ہے۔وزیر اعظم انہیں اس ”جرم“ پر فارغ کیوں کریں گے؟۔ بہرحال 2018ءمیں انہیں اوران کی جماعت کو ایک اور انتخاب بھی تولڑنا ہے۔

انتخابی لڑائی صرف تحریک انصاف تک محدود رہے تو کام آسان ہوجائے گا۔پیپلز پارٹی نے آئندہ انتخاب سے قبل پنجاب میں کسی نہ کسی اپنا طرح اپنا احیاءکرلیا تو نواز لیگ کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔

وقتی مصلحت کا اگرچہ تقاضہ یہی ہے کہ فی الوقت تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو احتجاجی کنٹینر پر اکٹھا ہونے سے روکا جائے۔ نواز شریف اس مصلحت کے تقاضے اپنے نرم رویے اور اسحاق ڈار کی سفارت کاری کے ذریعے پورے کررہے ہیں۔ چودھری نثار علی خان کی تندوتیز باتیں،ان کا کام مشکل ضرور بنادیتی ہیں۔طویل المدتی تناظر میں لیکن انہیں نہ صرف برداشت کرنا ہوگا بلکہ دل ہی دل میں ”لگے رہو منّا بھائی“ بھی کہنا ہوگا۔

(روزنامہ نوائے وقت)  

وال پیپر: سندھ حکومت کا دینی مساجد مدارس کی دوبارہ، رجسٹریشن کافیصلہ


سندھ کابینہ نے مساجد مدارس کی نئے سرے سے رجسٹریشن سے متعلق بل کے مسودے کی منظوری دی ہے جس کے تحت دینی مساجد مدارس کی رجسٹریشن اور ان کی فنڈنگ کا نیا نظام وضح کیا جائے گا۔ نئے قانون کے تحت سوسائٹیز ایکٹ 1860ء کے تحت رجسٹرڈ مدارس کی رجسٹریشن کالعدم قرار پائے گی۔ نئی رجسٹریشن محکمہ داخلہ سندھ اور صوبائی وزارت مذہبی امور کرے گی۔ نئے دینی مساجد مدارس کے قیام کیلئے مجاز کنٹرولنگ اتھارٹی سے این او سی حاصل کرنا لازمی قرار دیتے ہوئے صوبے بھر میں مساجد کے آئمہ اور منتظمین کی رجسٹریشن کے ساتھ نماز جمعہ کیلئے ایک ہی خطبے کا قانون بنانے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعد این جی اوز اور دیگر سماجی تنظیموں کی نگرانی ہوگی اور ان کے اکائونٹس کا آڈٹ ہوگا۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے بقول نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد نہ ہونا وفاقی حکومت کی نا اہلی اور ناکامی ہے۔ سندھ میں اس پر ہر صورت عمل ہوگا۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن اس سمت پہلا قدم ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کا عزم خوش آئند ہے تاہم الزاماتی سیاست سے گریز کرنا چاہئے۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن بجا طور پر اہم، ضروری اور وقت کا تقاضا ہے۔ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے مکمل غیر جانبداری اور شفافیت کا اہتمام کرنا ضروری ہے حکومت مدارس انتظامیہ کے تحفظات دور کر کے ان کی بھر پور مدد کرئے اور مدارس کو بھی وسیع تر ملکی مفاد میں خوشدلی سے تعاون کرنا چاہئے
(روزنامہ نوائے وقت)

راہ ہدایت: نماز کی تاکید

رضا الدین صدیقی


اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور نماز قائم رکھو اور تم مشرکوں میں سے نہ ہو جائو‘‘۔ (الروم: ۳۱) ’’(جنتی مجرموں سے سوال کرینگے) تم کو کس چیز نے دوزخ میں داخل کر دیا؟ وہ کہیں گے: تم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے‘‘۔ (المدثر: ۴۳۔۴۲) حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: کسی شخص اور اسکے کفر اور شرک کے درمیان (فرق) نماز کو ترک کرنا ہے۔ (صحیح مسلم) یعنی نماز کو ترک کرنا کافروں اور مشرکوں کا کام ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بندہ سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائیگا وہ نماز ہے، اگر وہ مکمل ہوئی تو مکمل لکھی جائیگی اور اگر اس میں کچھ کمی ہوئی تو کہا جائیگا دیکھو کیا اسکی کچھ نفلی نمازیں ہیں جن سے اسکے فرض کی کمی کو پورا کر دیا جائے، پھر باقی اعمال کا اسیطرح حساب لیا جائیگا۔ (سنن نسائی) حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس دین میں نماز نہ ہو اس میں کوئی خیر نہیں۔ (مسند احمد بن حنبل) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی رحمتﷺ نے فرمایا: سات سال کی عمر میں اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور دس سال کی عمر میں انکو سرزنش کر کے ان سے نماز پڑھوائو، اور انکے بستر الگ الگ کر دو۔ (سنن ابودائود) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس مرض میں رسول اکرمﷺ کا وصال ہوا اس میں آپ بار بار فرماتے تھے: نماز اور غلام۔ (سنن ابن ماجہ) ابو عثمان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کیساتھ ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا، انہوں نے ایک خشک شاخ پکڑ کر اسکو ہلایا حتیٰ کہ اسکے پتے گرنے لگے، پھر انہوں نے کہا: اے ابو عثمان! کیا تم مجھ سے سوال نہیں کروگے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے ارشاد فرمایا: رسول اللہﷺ نے اسیطرح کیا تھا، میں آپ کیساتھ ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا، آپ نے ایک شاخ کو پکڑکر اسے ہلایا حتیٰ کہ اس کے پتے جھڑنے لگے، آپ نے فرمایا: اے سلمان! کیا تم مجھ سے سوال نہیں کروگے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے عرض کیا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: جو مسلمان اچھی طرح وضو کرتا ہے اور پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے تو اسکے گناہ اسطرح جھڑ جاتے ہیں جسطرح اس درخت کے پتے گر رہے ہیں، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ’’اور دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز کو قائم رکھو، بیشک نیکیاں، برائیوں کو مٹا دیتی ہیں، یہ ان لوگوں کیلئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنیوالے ہیں‘‘۔ (ھود: ۱۱۴) (مسند احمد)