بدھ، 28 مارچ، 2018

ریاست کے اندر ریاستیں


23 مارچ سب نے مل کر منایا ، عظیم الشان پریڈ ہوئی ، اعزازات کی ریوڑیاں ہر صوبائی دارالحکومت کے گورنر ہائوس اور ایوان صدر میں بہ مقدار وافر تقسیم کی گئیں۔ بیانات داغے گئے اور اس طرح داغے گئے جیسے 21، 21 توپیں داغی گئیں یہ ملک جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور 23 مارچ کو اس کا خاکہ مرتب کیا گیا تھا۔14 اگست کو وجود میں آیا اور مذاہب کے نام پر ہی ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کے فون کا نذرانہ لے کر وجود میں آیا مگر یہ واحد قوم ہے جس نے اتنے بڑے سانحے اور واقعے کو اپنے باطن کے اندر سمویا جس کا نتیجہ صاف ہے کہ ملک ایک ہے 23 مارچ ایک ہے 14 اگست ایک ہے مگر حکومتیں ایک نہیں۔ ریاست کے اندر ریاستیں تو سمجھ میں آتی ہیں حکومت کے اندر حکومتیں سمجھ میں نہیں آ رہی۔ برسر اقتدار حکومت بھی ان کی ہے جو اس کے خلاف تحریک برپا کیے ہوتے ہیں ۔ دیگر پارٹیاں تو حکومت سے باہر ہیں ان کی الگ الگ بولی تو ان کی مجبوری ہے اس طرح صدر وفاق کو ایک اکائی قر ار دے رہے ہیں مگر وزیراعظم سینٹ کے نو منتخب چیئرمین پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں ۔چیف جسٹس تمام گڈ گورننس کے دعوئوں کو غلط قرار دے کر ازخود نوٹس لے رہے ہیں اور سیاستدان اپنی دوکان چمکانے کے لئے جوڈیشنل مارشل لاء کا تصور دے رہے ہیں۔ ان حالات میں عام آدمی بے چارا جو سبھی کا موضوع ہے مگر سبھی کے ہاں اس کی دو کوڑی کی عزت نہیں۔ اس پر بوجھ ڈال کر اور اسے زد و کوب کرکے تمام حکومتی و سیاسی اخراجات پورے کیے جا رہے ہیں۔ اگر ڈالر کی قیمت میں ایک ہفتے کے اندر چار روپے اضافہ ہوتا ہے تو اس کا فائدہ کس کو ہے اور نقصان کس کو یہ اب واضح ہے کہ ایسے فیصلوں کے تمام منفی نقصانات عام لوگوں کو ہی برداشت کرنے ہیں ۔ جو وزیر خزانہ بیرون ملک میڈیکل تعطیل پر ہیں، سارا ملبہ مشیر خزانہ پر ڈال رہے ہیں اور مشیر خزانہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کو ملکی ترقی کے لئے بہتر قر ار دے رہے ہیں۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان جیسے اس نازک موقع پر پوری توانائی کے ساتھ حرکت میں آنا چاہیے تھا خاموش ہے اور اس کی خاموشی ’’نیم رضا‘‘ والی          خاموشی ہے۔ یوں لگتا ہے جسے وہ کافی عرصے سے روپے کی قدر میں کمی کرنا چاہ رہا تھا مگر عالمی کساد بازاری کے نتیجے میں ڈالر کی خود ساختہ اڑان نے اس کا کام آسان کردیا۔ اس طرح کے حالات میں 23 مارچ کی عظیم الشان پریڈ کو دیکھ کر ہی تسلی دی جا سکتی ہے کہ پاکستان مضبوط ہاتھوں میں ہے ورنہ معاشی اور اقتصادی حالات تو اتنے اچھے نہیں کہ مستقبل قریب میں عام پاکستانیوں کے لئے کسی بہتری کی توقع وابستہ کی جائے۔ 
35 پنکچروں کے معروف فنکار نجم سیٹھی نے لاہور اور کراچی کی خوشیاں واپس لوٹانے کا دعوی کیا ہے مگر مخالفین اس کو اس لئے تسلیم کرنے سے عاری ہیں کہ چند غیر معروف انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی اتنی زیادہ سکیورٹی اور لاہور اور کراچی کی کئی سڑکیں بند کرنے کے بعد کرکٹ کی رونقیں بحال کرنے کا دعوی واقعی محل نظر ہے مگر چیف جسٹس نے نجم سیٹھی کی دعوت قبول کرکے لاہور کا میچ دیکھ کر تاثر تبدیل کیا ہے۔ جس میں پشاور زلمے کے کامران اکمل نے اگرچہ چوکے چھکے لگا کر اپنی ٹیم کو فتح دلائی مگر اپنے کوچ اور کپتان کے نزدیک بطور وکٹ کیپر اپنی پوزیشن بحال نہ کر سکے ۔ پی ایس ایل ٹرافی کے کچھ میچ متحدہ عرب امارات میں ہوئے کچھ لاہور میں اور فائنل کراچی میں یعنی کرکٹ کی خوشویں کو مرحلہ وار بلکہ شہر وار واپس لینے کا عمل جاری ہے جو اپنی مکمل کامیابی کے لئے کچھ سال اور توجہ طلب کرے گا۔                                             
سپریم کورٹ نے لاہور رجسٹری میں انسانی حقوق کا سیل قائم کرنے کا حکم جاری کیا ہے ، یہ حکم یوں تو ہر رجسٹری میں انسانی حقوق کا سیل قائم کرنے کے لئے جاری کیا جانا چاہیے تھا کہ انسانی حقوق کی پامالی کی صورت حال کسی ایک رجسٹری تک محدود نہیں تاہم اس سے لاہور اور پنجاب سنٹرل کے لوگوں کے مرید ریلیف ملنے کی توقع ہے اور مستقبل قریب میں خیبرپختوانخواہ اور بلوچستان کے لوگ بھی ایسا ہی ریلیف چاہیں گے ۔یہ حکم دراصل گڈ گورننس کے ڈھڑوں کی جانچ پرکھ کے لئے جاری کیا گیا ہے یقیناً عدلیہ کی کارکردگی کے بارے میں بھی ازخود احکامات جاری کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگا، کیونکہ یہ بھی انسانی حقوق کی بحالی میں ایک اہم قدم شمار ہو سکتا ہے اس کے علاوہ بڑے بڑے ہائوسنگ گروپ جو لوگوں کی بچتیں ہتھیا کر دوسرے ملکوں میں انویسٹمنٹ کر رہے ہیں ۔ وہ بھی اس کا موضوع ہوں گے کیا ہی اچھا ہو کہ کسی ایسے ہی از خود نوٹس پر یہ حکم جاری کیا جائے کہ جو لوگ اپنے پلاٹوں کی کل قیمت ادا کر چکے ہیں انہیں ہائوسنگ ادارے پلاٹ دیں یا ان کی مکمل رقم واپس کریں ، کیونکہ مکمل رقم وصول کرنے کے بعد دھوکہ دہی کا کوئی جواز نہیں۔ سرائے عالمگیر میں غربت کے باعث ایک والد نے اپنے چار بچے قتل کر دئیے اس سے قبل ایک عورت کی اپنے تین جگر گوشوں کے قتل کی خبریں دل ہلا چکی ہیں کہ یہ غربت کی بدترین شکل ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے لگے ہیں۔ بیٹے کے ہاتھوں والدہ یا والد کے قتل کی خبر بھی اس سلسلے کی کڑی ہے الحذر الحذر… کہ بڑھتی ہوئی ناآسودہ خاموشیوں کے باعث سوسائٹی اپنا فطری توازن کھو رہی ہے اس کو سنبھالا دینے کے دو ہی طریقے ہیں ایک تو رول آف لاء اور دوسرا غربت میں کمی ،دونوں ہی اس ملک میں اپنا اعتبار کھو رہے ہیں اس لیے گریبان میں منہ دے کر رونے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ یہاں رونے کے لئے کسی بڑے تکلف کی ضرورت نہیں کہ ہر بڑی خبر آنسوئوں کو آنکھوں کے اور قریب کر رہی ہے اور یہ آنسو دل سے آنکھوں کی طرف بڑھتے ہیں کہ آنسو بہانے والے اس ملک کے حوالے سے درد دل رکھتے ہیں اور اس ملک کے ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو اپنے تمام حقوق سے محروم کر دئیے گئے ہیں اور ان میں تفرقہ اس لحاظ سے ہے کہ کوئی گروپ کسی سیاستدان کو نجات دہندہ سمجھ رہا ہے کوئی کسی اور کو مگر کوئی بھی ان کا طرفدار نہیں!!!                                                                   
حلقہ ارباب ذوق لاہور کے گزشتہ سالانہ جلسہ میں سینئر ترین ادیب اکرام اللہ نے طویل خطبہ پیش کیا اور صدق دل سے ملک کی بگڑی ہوئی تاریخ کا احاطہ کیا انہوں نے نہ صرف مسائل کا ادراک کیا بلکہ اصلاح        احوال کیلئے بھی تجاویز دیں اس سے قبل غلام حسین ساجد نے جو کہ سابق سیکرٹری تھے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی اور اس پر داد حاصل کی۔بعدازاں انتقال اقتدار کی رسم منعقد ہوئی جس میں حلقہ اربات ذوق و لاہور کی زمام نوجوان سیکرٹری عقیل اختر اور جوائنٹ سیکرٹری بابر کے حوالے کی گئی جنہوں نے جونیئر اور سینئر ادیبوں کے تعاون کی درخواست سے مشروط اپنی آئندہ سال کی کارکردگی بہتر بنانے کا اعلان کیا۔ حلقہ کے پہلے ماہ کا تنقیدی اجلاسوں کا پروگرام بھی جاری کیا گیا ہے جس میں ان کے دعوئوں کی تصدیق کا سامان موجود ہے۔ سالانہ جلسہ کے اختتام پر حلقہ ارباب ذوق کے گلوکار ممبران نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا خاص طور پر کلاسیکل گلوکار ندیم ریاض نے اپنے خوبصورت فن کا مظاہرہ کیا اور خوبصورت راگ کو اہتمام کے ساتھ گا کر ثابت کیا کہ کلاسیکل میوزک کو سننے والے آج بھی پوری توانائی کے ساتھ اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
۪روزنامہ نوائے وقت ۲۸ مارچ ۲۰۱۸ع۫

منگل، 27 مارچ، 2018

"ووٹ کو عزت دو"



شفیق الرحمن شاکر
"پاکستانی سیاست میں آج کل ایک نیا نعرہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ خوب زور و شور سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ یہ نعرہ ایک ایسے وقت میں لگایا جا رہا ہے جب نعرہ لگانے والے ملک کی سب سے بڑی عدالت کی طرف سے نااہل ہو چکے ہیں اور ان کے خلاف قائم متعدد مقدمات کے متوقع فیصلے ان کے خلاف آنے کے قوی امکانات ہیں۔ ایسے میں انہوں نے ان ناگوار نتائج پر اثرانداز ہونے اور لوگوں کی توجہ اصل حقائق سے موڑنے کے لئے یہ خوبصورت لیکن گمراہ کن نعرہ ایجاد کیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں لفظ سیاست اتنا آلودہ ہو چکا ہے کہ اب اسے صرف منفی معنوں میں ہی لیا جاتا ہے اور اس لفظ کو اتنا آلودہ کرنے میں سب سے بڑا حصہ خود سیاستدانوں کا ہے۔ ان سیاستدانوں نے گزشتہ نصف صدی سے اپنی سیاست کے ایسے ایسے جوہر دکھائے ہیں کہ اب سوجھ بوجھ رکھنے والا کوئی بھی ذی شعور پاکستانی نہ تو ان کی باتوں کو سنجیدہ لیتا ہے اور نہ ہی ان پر اعتبار کرتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارا پاکستانی سماج اور قوم بحیثیت مجموعی ان کے چنگل میں ایسے برے طریقے سے پھنسی ہوئی ہے کہ ہم جتنا اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کرتے جا رہے ہیں‘ اتنا ہی مزید پھنستے جا رہے ہیں۔ ایسے منافع خور سیاستدانوں بلکہ سیاستکاروں سے نجات پانا ناممکنات میں سے نہیں لیکن پتا نہیں کیوں لوگ ان کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں۔ شاید ان کے پُردرد الفاظ میں ایسا کیف اور ان کی تقاریر میں ایسا جادوئی کرشمہ پنہاں ہے جو وہ مسلسل عوام پر مصائب و آلام کے پہاڑ گرانے کے باوجود بھی آسانی سے مظلومین کی صف میں جگہ لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اچانک ان کی آواز بھراتی ہے، آنکھوں میں آنسوئوں کی لڑیاں سج جاتی ہیں، زبانوں پر عوامی خدمت اور ووٹ کی عزت بحال کرانے کی بامشقت جدوجہد کے جرم میں ان کے اوپر ڈھائے گئے مظالم کی حکایات و شکایات جاری ہو جاتی ہیں۔ اس طرح وہ دردناک افسانے سناکر خود بھی رونے اور اپنے ساتھ عوام کو بھی رلانے کا انوکھا فن رکھتے ہیں۔ اپنی تمام تر بربادیوں اوربدحالیوں کے باوجود ہمیں اس معصوم مخلوق سے کوئی شکایت نہیں رہتی۔ اکیلے سیاستکار ہی نہیں جنہوں نے ہمارا بیڑہ غرق کیا ہے، ان کے ساتھ مفت خوروں کی ایک نہ ختم ہونے والی بارات ہے۔ ڈھول پیٹنے والے، شہنائی نواز، طوطاری، ٹھمریاں گانے والے گویے، سازندے اور باجا بجانے والے، رقاص، داستان گو، قصیدہ خوان، نعرہ باز اور نعروں کا جواب دینے والے، لعنتیں بھیجنے والے، مصنوعی رونے اور ہنسنے والے، پھول اور نوٹ پھینکنے والے، مخالفین کو چیلنج کرنے اور انہیں گالیوں سے نوازنے والے، اپنے رہبروں پر سو بار جان قربان کرنے کی دھمالیں ڈالنے والے، دانشور، ادیب و نام نہاد تجزیہ کار‘ کس کس کا بیان کیا جائے کہ عشق کے ان سیاسی آستانوں پر نجانے کتنے سر صدقہ ہونے‘ اور کتنے قلب قربان ہونے کے مشتاق رہتے ہیں۔ ہماری تو عقل ہی دنگ رہ جاتی ہے اور زباں سے بے اختیار یہی الفاظ نکلتے ہیں کہ محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔اگر ان سیاستکاروں کو کوئی خطرہ لاحق ہو تو سمجھو کہ جمہوریت کو بلکہ ملک کی سالمیت کو ہی خطرہ ہے۔ اگر انہیں اپنے افعال، اعمال اور کرتوتوں کی وجہ سے کرسی سے الگ کیا جائے تو سمجھو کہ عوام کے ووٹ کی عزت برباد ہو گئی۔ جتنے بھی پاکستانی ملک میں قانون کی بلاامتیاز حکمرانی کی بات کرتے ہیں، وہ سب عوام کے ووٹ کی توہین کرتے ہیں؟ جو بھی عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لوٹانے کا مطالبہ کرتا ہے‘ وہ جمہوریت دشمن اور سازشی قوتوں کا آلہ کار بنا ہوا ہے؟ عوام کے ووٹ کی عزت کی حسین دیوی‘ جس پر آپ اس وقت اچانک جان و دل قربان کرنے کو تیار ہو گئے ہیں، کا الیکشن کے بعد بھی خیال رکھیں گے؟ ووٹ لینے کے بعد آپ کتنے مہینے بعد اس عوام کو ملاقات کا شرف بخشتے اور کتنے سالوں بعد انہیں اپنی صورت دکھاتے ہیں؟ چلیں تسلیم کرتے ہیں کہ عوام کے ووٹ کی آبرو نہ رکھنے والے حلقے کافی مضبوط ہیں لیکن یہ کیسی بے بسی اور بے اختیاری ہے کہ خود آپ کے اثاثوں میں اضافہ ہی اضافہ ہو رہا ہے؟ لوگوں کے ووٹ کی عزت کی منزل ابھی دور ہے، پہلے یہ تو تسلیم کریں کہ جو لوگ آپ کو ووٹ دیتے ہیں وہ انسان ہیں،جیتی جاگتی انسانی مخلوق۔ جن کے وجود میں سانس چلتی ہے، جن کے پیٹ میں بھی بھوک کا دوزخ جلتا ہے، جن کے جگر ٹکڑے بھی بیمار ہوتے ہیں، ان کے سینوں میں بھی چھوٹی چھوٹی تمنائیں سلگتی اور بجھتی ہیں۔ اگر گندگی کی ڈھیروں تلے اپنا رزق تلاش کرنے والے کم عمر بچوں کے میلوں میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آئی تو پھر دوسروں سے عوام کے ووٹ کی عزت کا مطالبہ کرنے سے پہلے اس سوال کا جواب ضرور چاہیے کہ عوام سے ووٹ لیکر حکمرانی کے مزے لوٹنے والوں نے عوام کے ووٹ کا خود کتنا مان رکھا ہے؟ "
۪ روزنامہ دنیا نیوز ۲۷ مارچ ۲۰۱۸ع  ۫


پیر، 26 مارچ، 2018

وفاق کی علامت سینٹ : وزیراعظم کا بیانیہ


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بلوچستان سے منتخب چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی جو ’عزت افزائی‘ کی، سرشرم سے جُھک گیا۔ وجہ شخصی احترام کے علاوہ بلوچستان بھی ہے۔ رونا یہ آیا کہ وزیراعظم ہوکر وفاق کی علامت ادارے کے وقار کو الزامات سے آلودہ کیا گیا۔ جرا¿ت اظہار اچھی بات ہے۔ سیاستدان اکثر ’پھنس‘ جانے پر’جالب‘ بننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ آسانی آنے پر پھر سے ’بھٹو‘ اور ’ضیائ‘ بن جاتے ہیں۔
وفاداری بشرط استواری تو سُنا تھا لیکن وفاداری کا یہ اندازہ لگتا ہے ۔ ملک میں مارشل لاءکی راہ ہموار کرنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے ہماری خوش گمانی دھری کی دھری رہ گئی کہ ایک پڑھا لکھا دراز قد انسان وطن عزیز میں مثبت طرح ڈالے گا۔ سُلجھے انداز میں شفاف طرز پر ملک کی خدمت کا نیا سلیقہ متعارف ہوگا۔ جالب ہی کی فریاد میں، انہیں خوشنودی شاہاں کا دائم پاس رہتا ہے۔ نوازشریف ’ایکس فیکٹر‘ سے وہ نجات پا نہیں سکے۔ معاملہ بے وفائی کا نہ تھا لیکن کوئی اصول تو انسان کو اپنانا چاہئے؟ جب آپ وطن عزیز کی اتنی اعلیٰ ترین امانت کے پاسدار ہوں لیکن انداز....افسوس صد افسوس۔ وفاق کی علامت سینٹ کی توہین جس انداز میں کی گئی۔ لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ یہ وہ انداز ہے جس سے مسلم لیگ (ن) اور ’اس کا وزیراعظم‘ بلوچستان کی محرومیوں پر مرہم رکھنا چاہ رہا ہے؟ شاہد خاقان بولے کہ ’ہم سینٹ میں غیر متنازعہ اور متفقہ امیدوار لانا چاہتے تھے۔ اس لئے رضا ربانی کا نام لیا۔ ہم اب بھی سینٹ میں متفقہ امیدوار لانے کے حق میں ہیں۔ لیکن زرداری نے ہماری بات نہیں مانی اور ایک ایسے شخص کو سینٹ کا چیئرمین بنا دیا ہے جسے پاکستان میں کوئی نہیں جانتا جس کا کوئی سیاسی وجود نہیں۔‘ کرب کا اندازہ اس گفتگوسے لگائیے ’سینیٹرز بناتے وقت زرداری نے منڈی لگائی۔ لوگوں کے ضمیر خریدے کروڑوں روپے کی خرید و فروخت ہوئی۔ ہم اگر چاہتے تو اپنا چیئرمین سینٹ بنا سکتے تھے لیکن ہم نے شکست قبول کر لی اور اصولوں پہ سودے بازی نہیں کی۔‘ یہی کہا
 جا سکتا ہے کہ عباسی صاحب! اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا!
یہ بیان اُن کا سُن کر مجھے ماضی کے واقعات یاد آنے لگے جو چھانگا مانگا، مری ریسٹ ہاﺅس جیسے ’تابناک کارناموں‘ کی صورت پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ’رقم‘ ہیں۔ چیئرمین سینٹ کا تعلق کسی پارٹی سے نہ ہونے اور ’خریدے ہوئے ووٹوں سے منتخب‘ ہونے کا قلق ہے، تو وزیراعظم اور ان کے حامیوں کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ ’لنگوٹ‘ کس کر راجہ ظفرالحق کو ’دھکا‘ دیں اور انتخاب بھی لڑیں؟ کیا ان ’خریدے‘ ہوﺅں سے مسلم لیگ (ن) کے ’صادق‘ اور ’امین‘ رابطے میں نہ تھے؟ کیا ان کی ہمدردیاں خریدنے کی کوئی کوشش نہ ہوئی تھی؟ ’اصولی‘ وزیراعظم کو پنجاب میں چوہدری سرور کو ووٹ دینے والے اپنے پارٹی ارکان کیوں بھول گئے؟ کیا اُن کا حساب وہ کر بیٹھے ہیں؟ ۔ ’فروخت کئے گئے ووٹوں کی وجہ سے صادق سنجرانی چیئرمین سینٹ بنے ہیں‘ اور اس بناءپر وزیراعظم کو دنیا میں پاکستان کی عزت کی فکر لاحق ہے تو پھر پاناما دستاویزات سے جو شور مچا ہے، اس سے پاکستان کی ’قدر و منزلت‘ میں جو اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پر عباسی صاحب کے کیا ’وچار‘ ہیں؟ ان کے لئے شاید یہ ’نیک نامی‘ ہے؟ عزت کا کیا مقام تراشا ہے؟ واہ۔ وزیراعظم نے بس نہیں کی۔ بولے ’چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں لوگوں کا ایمان اور ضمیر خریدا گیا۔ چیئرمین سینٹ صدرمملکت ہوتے ہیں۔ اس طرح چیئرمین سینٹ کا انتخاب بے عزتی کا مقام ہے۔ کیا اس طرح ملک کی عزت دنیا میں ہو سکتی ہے؟۔برادر عزیز سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کیا برمحل اور شاندار تبصرہ کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ”نئے سوشل کنٹریکٹ کے لئے ’سیاستدان، جج اور جرنیل مذاکرات کریں‘ لیگی صدر کا یہ بیان آئین سے کُھلی بغاوت ہے۔ محمد علی درانی کا یہ کہنا درست ہے کہ ’دستور اداروں کے گرد ذمہ داریوں کی واضح لکیر کھینچ چکا ہے۔ ایسی صورت میں عدلیہ اور فوج کو مذاکراتی سیاست میں اُلجھانا چال ہے۔ درانی صاحب گزشتہ کئی برس سے سوئیٹزرلینڈ اور یورپ سمیت بیرونی ممالک میں لُوٹ کا چُھپایا مال وطن واپس لانے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ عدالت عظمیٰ میں انہوں نے ایک مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے جس کا مقصد اقوام متحدہ کی ایک قانون سازی کا سہارا لے کر پاکستان کے غریبوں کی لُوٹی دولت وطن واپس لانے کے لئے قانونی عمل شروع کروانا ہے۔ اس تناظر میں ان کی یہ دلیل رد نہیں ہو سکتی کہ ’شریف خاندان کے خلاف فوج، عدلیہ یا کوئی اور ادارہ سازش نہیں کر رہا۔ اب مغرب ترقی پذیر ممالک کے اُن سیاسی لیڈروں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا ہے جو غریب عوام کے سرمایہ پر ڈاکہ ڈالنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور مغرب نے سخت ترین قانون سازی کرکے کرپٹ سیاسی قیادت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ ایسی صورت میں اللہ ہی اب کرپٹ لوگوں کو بچا سکتا ہے۔‘ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں بھی خادم حسین رضوی اور ان کے ہم خیال کئی مذہبی پیشواﺅں کو یقین ہے کہ ’اب اللہ بھی انہیں نہیں بچائے گا ۔ ہم تو پھر بھی توبہ واستغفار کی بات کرتے ہیں۔ حماقتیں انسانی فطرت میں ہوتی ہیں لیکن بدنیتی کا کیا علاج۔ محسن بے مثل مرحوم ومغفور مجید نظامی کے مشن سے جو لوگ پھر گئے ہوں۔ اُن کا خون جگر جنہوں نے کیا ہو، ان کو کیا یاد دلانا۔ یاد بھی اُن کو دلائی جاتی ہے    جن کی آنکھ کا ’پانی‘ خ±شک نہ ہوگیا ہو۔ 
حرف آخر یہ کہ چیئرمین سینٹ کے لئے کیا ’فرشتوں‘ کا ووٹ حاصل کریں گے۔ اگر یہی سینیٹرز ہی ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے تو پھر صادق سنجرانی ہی کا کیا قصور ہے؟؟؟ 
دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ

۪روزنامہ نوائے وقت ۲۶ مارچ ۲۰۱۸ع۫

اتوار، 25 مارچ، 2018

عوام کو مزید گمراہ نہ کریں


مجھے یقین ہے وہ تمام سازشی تھیوریاں دم توڑ دیں گی جو پچھلے کئی ماہ سے جاری ہیں اور جن کا مقصد سوائے بے یقینی پھیلانے کے کچھ نہیں۔ کئی تھیوریاں تو پہلے ہی دم توڑ چکی ہیں۔ اب صرف ایک تھیوری باقی رہ گئی ہے کہ عام انتخابات وقت پر نہیں ہوں گے کیونکہ فوج اور عدلیہ نے پہلے گند صاف کرنے کا ارادہ باندھ لیا ہے، ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں گے کہ عام انتخابات وقت پر نہ ہو سکیں اب یہ باتیں کیوں کی جا رہی ہیں کہ انتخابات کو ملتوی کرانے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ یہ سازش کون کر رہا ہے، کہاں ہو رہی ہے، کوئی بتانے کو تیار نہیں بس ایک سازشی تھیوری بیان کر دی گئی ہے، جس کا سر ہے نہ پیر۔اس کے برعکس چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کھل کر یہ کہہ دیا ہے کہ کوئی جوڈیشل مارشل لاء نہیں لگے گا اور نہ ہی فوجی مارشل لاء لگانے کی اجازت دیں گے۔ ملک کا مستقبل صرف اور صرف جمہوریت سے وابستہ ہے، آئین پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے گا اس میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس سے پہلے چیف آف آرمی سٹاف بھی بار ہا کہہ چکے ہیں کہ فوج جمہوریت کے ساتھ ہے اور اسے ڈی ریل نہیں ہونے دے گی۔ اتنی واضح یقین دہانیوں کے باوجود اگر لفظوں کی جگالی کرنے والے ہر کام میں سازشی تھیوری تلاش کر لیتے ہیں تو ان سے بڑا سازشی اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
جس عدلیہ کو نوازشریف آج برا کہہ رہے ہیں، اس کا تو شکر گزار ہونے کی ضرورت ہے، یہ عدلیہ ہی ہے جس نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اب کسی غیر آئینی تبدیلی کو آئینی نظریہ ضرورت کی چھتری فراہم نہیں کی جائے گی۔ ایک طرح سے عدلیہ نے آئین پر شب خون مارنے کی روایت پر خطِ تنسیخ پھیر دیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں فوج جب بھی اقتدار میں آئی، آمروں نے سپریم کورٹ سے نظریۂ ضرورت کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا سب سے پہلے ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کا پابند بنایا اور پھر اپنے اقدامات کی منظوری لی۔ اب یہ باب بند کر دیا گیا ہے۔ کوئی غیر آئینی راستے سے حکومت پر قبضہ کرتا ہے تو اسے نہ صرف سپریم کورٹ نظریۂ ضرورت کا سرٹیفکیٹ نہیں دے گی بلکہ اس کے خلاف آئین توڑنے کا مقدمہ بھی سنے گی۔ اس بات کی تعریف و ستائش کی جانی چاہئے مگر اُلٹا یہ کہا جا رہا ہے کہ عدلیہ فوج کے دباؤ پر فیصلے دے رہی ہے۔
آمریت کے آگے بند باندھنے والی عدلیہ کے بارے میں یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے شکر ہے چیف جسٹس ثاقب نثار ماضی کے چیف جسٹس صاحبان کی طرح صرف اپنے ترجمان کے ذریعے ہی سپریم کورٹ کا موقف بیان نہیں کرتے بلکہ خود سامنے آکر وضاحت کرتے ہیں جس سے تمام شکوک و شبہات ختم ہو جاتے ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ شیخ رشید نے جوڈیشل مارشل لاء لگانے کی بات کی تو کئی لوگ کہنے لگے کہ دیکھا بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے یہی وہ منصوبہ تھا جسے جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف کو خیر باد کہتے ہوئے بہت پہلے بے نقاب کر دیا تھا کہ ملک میں عدلیہ کے ذریعے جمہوریت کی بساط لپیٹ کر عبوری سیٹ اپ قائم کیا جائے گا۔   اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بھی شیخ رشید کی اس تجویز پر تنقید کی اور اسے خلاف آئین قرار دیا۔ گویا اس بیان سے ایک لاوا پکنے کا خدشہ تھا، جسے چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود سامنے آکر ٹھنڈا کر دیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ملک میں مارشل لاء نہیں آئے گا، جوڈیشل مارشل لاء کی آئین میں قطعاً گنجائش نہیں، آئین میں حکومت بنانے کا طریقہ بالکل واضح ہے سپریم کورٹ آئین پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی اور کسی کو آئین کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔اب اس کے بعد تو ساری ذمہ داری سیاستدانوں کے کاندھوں پر آ جاتی ہے وہ جمہوریت کے لئے اس ساز گار فضا سے فائدہ اٹھائیں۔ اچھی اور بہتر قیادت کے لئے کوشش کریں۔ چیف جسٹس نے تو حضرت عمرؓ جیسے کسی حکمران کی دعا مانگی ہے، چلیں ان جیسا نہ سہی کوئی ایسا تو ہو کہ جمہوری اقدار کو ہی اپنا سکے۔ عوام کو ایک بہتر گورننس دے کر ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائے یہ تھیوری اب ناکام ہو گئی ہے کہ سیاستدان صرف یہ واویلا کرتے رہیں کہ ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں اُنہیں اب یہ تھیوری اپنانی چاہئے کہ پارلیمینٹ اپنا کام کرے گی۔ پارلیمینٹ میں 90 فیصد ارکان مٹی کے مادھو بن کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ صرف حاضری لگوانے یا ہاں میں ہاں ملانے کے لئے آتے ہیں اصل ووٹ کی بے عزتی تو وہ کرتے ہیں، اپنے ووٹرز کی اسمبلی میں آواز نہیں بنتے اور معاشرے میں جس طرح تیزی سے مسائل بڑھ رہے ہیں ان کے بارے میں اسمبلی کا فورم ہی استعمال نہیں کرتے۔اسمبلی میں تان اس نکتے پر ٹوٹتی ہے کہ یہاں جمہوریت کو چلنے نہیں دیا جا رہا۔ عجیب بات ہے کہ یہ عوامی نمائندے اسمبلیوں میں جمہوریت کی بات نہیں کرتے اور واویلا جمہوریت کے نہ چلنے کا کرتے ہیں۔ کیا پورا ملک مسائلستان نہیں بنا ہوا، ایک سے بڑھ کر ایک مسئلہ موجود ہے مگر اسمبلیوں میں یا تو کورم پورا نہیں ہوتا یا پھر ایسے ایشوز پر بات ہوتی ہے جن کا براہ راست عوام کے مسائل سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
پاکستان میں ایک منصوبے کے تحت عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ انتخابات نہیں ہوں گے تاکہ عوام اس اُلجھن میں رہیں کہ انہیں ووٹ کا حق ملے گا یا نہیں، جب انتخابات قریب آ جائیں تو انہیں اچھے برے کی تمیز پر توجہ دینے کی بجائے یہی بات غنیمت لگے کہ چلو انتخابات ہو تو رہے ہیں یہی سوچ کر وہ برائیوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں پاکستانی عوام کو اب اس مخمصے سے نکل آنا چاہئے کہ انتخابات بروقت ہوں گے یا نہیں انہیں صرف اس پہلو پر توجہ دینی چاہئے کہ انتخابات میں انہوں نے ووٹ کسے دینا ہے اور ملک کی تقدیر کیسے بدلنی ہے انتخابات کے قریب آتے ہی بہت سے سیاسی مولوی ڈگڈگی لے کر میدان میں آ جاتے ہیں نئے اتحاد بنتے ہیں اور نئی سیاسی جماعتیں تبدیلی کا دعویٰ کر کے میدان میں اترتی ہیں حالات ساز گار ہوں تو ساری ذمہ داری ووٹروں پر آ جاتی ہے ملک کے چیف جسٹس اگر یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ ملک میں نہ صرف انتخابات بروقت ہوں گے بلکہ ان کی شفافیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا تو پھر کسی ووٹر کو یہ شک نہیں رہنا چاہئے کہ وہ اپنے ووٹ سے اچھے نمائندوں کا انتخاب نہیں کر سکتا ہے جو ملک کی تقدیر بدلنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ووٹروں نے اپنی زندگی میں کیا کچھ نہیں دیکھا کیسے کیسے نعرے نہیں سنے اور کیسی کیسی تحریکیں نہیں دیکھیں مگر ہوا تو کچھ بھی نہیں، ہر کوئی بے وقوف بنا کے چلتا بنا کل مولانا فضل الرحمن فرما رہے تھے کہ اس ملک میں عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کے نام پر دھوکے دیئے گئے۔
تبدیلی کے نام پر بے وقوف بنایا گیا۔ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے مگر وہ یہ بھی تسلیم کریں کہ آج انہوں نے متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ زندہ کر کے ایک بار پھر اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینے کی تیاری کر لی ہے میں تقریباً 45 سال سے سیاست کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہوں، اس میں شامل بھی رہا ہوں یہاں سب کچھ دھوکے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے بھٹو کے خلاف جب تحریک نظامِ مصطفیٰ چلی تھی تو دعویٰ یہی کیا گیا تھا کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے گا مگر بھٹو کے ہٹتے ہی مولوی صاحبان ضیاء الحق کی جھولی میں جا گرے اور انہوں نے جمہوریت کی بجائے آمریت کو سپورٹ کیا اس سے پہلے جو متحدہ مجلس عمل بنی تھی، اس کا جمہوریت کے لئے کیا کردار تھا وہ پرویز مشرف کا دایاں بازو بنی ہوئی تھی۔ سو انتخابات کے قریب آتے ہی بہت سے ڈرامے شروع ہو جاتے ہیں، جن کا مقصد سوائے عوام کو نئے سبز باغ دکھانے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔
عوام کو کم از کم اب اس نکتے پر بالکل بے وقوف نہیں بننا چاہئے کہ ملک میں جمہوریت کو کوئی خطرہ ہے جمہوریت اب پاکستان میں ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے۔ اب مسئلہ صرف اسے مضبوط بنانے اور عوام کے لئے ثمر آور بنانے کا ہے یہ ذمہ داری عدلیہ پر ڈالی جا سکتی ہے اور نہ فوج پر، اس کی ذمہ داری صرف سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو اُٹھانی پڑے گی۔ دنیا بھر میں جمہوریت اس لئے کامیاب طرز حکومت سمجھی جاتی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کا مداوا کرتی اور انہیں ایک خوشحال زندگی کا یقین دلاتی ہے۔ ہمارے ہاں جمہوریت عوام سے انتخابات کے بعد لا تعلق ہو جاتی ہے جب عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے تو اس خلاء کو پورا کرنے کے لئے عدلیہ مداخلت کرتی ہے یہ مداخلت جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اس کا مقصد سرکاری اداروں کو خواب غفلت سے جگانا ہوتا ہے۔
یہی بات چیف جسٹس بھی بار بار کہہ چکے ہیں ووٹ کی عزت کا بیانیہ صرف ایک نعرے کے طور پر اپنانے سے بات نہیں بنے گی بلکہ عوام کے ووٹ کو واقعی عزت دینی ہو گی۔ اچھے لوگوں کے انتخاب سے لے کر اقتدار میں آنے کے بعد عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے تک کا عمل اگر نیک نیتی سے جاری نہیں رکھا جاتا تو یہ نہ صرف وعدہ خلافی ہو گی بلکہ جمہوریت پر عوام کے اعتبار کو بھی نقصان پہنچے گا۔ سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ اب بے پر کی اڑانے کا سلسلہ بند کر دیں، افواہوں کا بازار گرم کرنے کی بجائے آنے والے انتخابات کی تیاری کریں۔ اپنی انتخابی مہم کو عوامی و ملکی مسائل کے حوالے سے منظم کریں نہ کہ اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی اپنائیں، جس کی گنجائش ہے اور نہ ہی عوام اسے پسند کریں گے۔
۪ روزنامہ پاکستان ۲۵ مارچ ۲۰۱۸ع
 ۪

پیر، 22 اگست، 2016

جِنّات


مفتی منیب الرحمٰن
انگریزی میں کسی ایک کلمے میں ایک حرف ایک ہی جگہ دوبار آئے ،تو اُسے ہم Doubleسے تعبیر کرتے ہیں ،اِسی کو عربی میں مُشدَّد سے تعبیر کرتے ہیںاورپہلے حرف کو ساکن کر کے دوسرے میں مُدْغَم (Merge)کردیتے ہیں ۔اِسی قاعدے کے تحت لفظِ ''جِنّ‘‘کا نون مُشدَّد ہے۔عربی زبان میں ''ج +ن+ن‘‘سے جتنے بھی کلمات بنتے ہیں ،اُن سب میں ستراور پوشیدگی کا معنی پایا جاتا ہے ، جیسے دل کو ''جَنَان‘‘،رِحمِ مادر میں بچے کو ''جَنین‘‘، دماغ پر پردہ پڑنے کو ''جُنون‘‘،ایسے گھنے باغ کو جس کے نیچے کی زمین نظر نہ آئے ''الْجَنَّۃ‘‘،پردے کو ''الجُنَّۃ‘‘،ڈ ھال کو ''الْجُنّۃ، الْجَنَان اور الْمِجَنّ ‘‘اورقبر کو ''اَلْجَنَنْ‘‘کہتے ہیں ۔پس اسی معنی کی مناسبت سے ناری مخلوق کو'' جِنّ اور جَانّ ‘‘کہتے ہیں ،جو نظروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ہمارے بعض دانشوروں نے ،جنہیں علومِ قرآنی اور عربی دانی کا زعم تھا ،انسانوں سے جدا ایک نوعِ مخلوق ہونے کے اعتبار سے جنّات کا انکار کیا ہے۔غلام احمد پرویز لکھتے ہیں:''عربوں میں ''اَلاِنْس‘‘اُن قبیلوں کو کہتے تھے جو ایک مقام پر مستقل طور پر سکونت پذیر ہوجائیں ،لیکن ''جِنٌّ‘‘ وہ قبائل تھے جو جنگلوں اور صحرائوں میں جا بہ جا پھرتے رہتے اور اس طرح شہر والوں کی نگاہوں سے اوجھل رہتے تھے ،انہیں خانہ بدوش قبائل(Nomadic Tribes)کہاجاتا ہے ۔۔۔آگے چل کر لکھتے ہیں: ''اِن مقامات پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ وہاں ''جِنٌّ‘‘سے مراد انسان ہی ہیں ،یعنی وہ وحشی قبائل (Gypsies) ہیں جو صحرائوں میں رہا کرتے تھے ، (لغات القرآن ،ص:446)‘‘۔
سرسید احمد خان لکھتے ہیں: ''اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام علمائے اسلام نے جنّوں کو ایسی ہی جداگانہ مخلوق قرار دیا ہے جیسے کہ انسان ،مگر قرآنِ مجید سے جنّوں کی ایسی مخلوق ہونے کا ثبوت نہیں ۔۔۔طویل بحث کرنے کے بعد آگے چل کر لکھتے ہیں: ''مشرکینِ عرب جو جنّوں کا یقین رکھتے تھے، وہ اُن کو جنگلوں اور پہاڑوں میں انسانوں سے مخفی رہنے والے جانتے تھے اور شریر اور زبردست قوی ہیکل خیال کرتے تھے اور اِس قسم کے انسانوں پر بھی جنّ کا اطلاق کرتے تھے ،قرآنِ کریم میں کہیں بطورِ استعارہ جنّ کا اطلاق انسان کو گمراہ کرنے والے شیطان پر ہوا ہے اور کہیں وحشی اور شریر انسانوں پر ،(تفسیر القرآن ،ج:2،ص: 505-511، ملخَّصاً)‘‘۔مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:''جنّوں کے جس تاثّر کا ''سورۃ الجنّ‘‘میں حوالہ دیا گیا ہے ،اس سے اگرچہ وہ لوگ متاثر نہیں ہوں گے جو صرف محسوسات کے غلام ہیں اور اُن چیزوں کے سِرے سے وجود ہی کے منکر ہیں ،جواُن کے محسوسات کے دائرے سے باہر ہیں ،(تدبرقرآن،ج: 8،ص:609)‘‘۔معروف اسکالرسرسید احمد خان اورغلام احمد پرویز معجزات کے منکر ہیں اور وہ اُن کی طرح طرح کی تاویلیں کرتے رہتے ہیں ،چنانچہ معراج النبی ﷺ کے بارے میں عام مسلمانوں کے عقیدے کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:''رسول اللہﷺ کا جسمانی طور پر رات کو بیت المقدس جانا اور وہاں سے ایک سیڑھی کے ذریعے آسمانوں پر جانا قانونِ فطرت کے خلاف ہے اور عقلاً محال ہے۔ اگر معراج النبی ﷺ کے راویوں کو ثقہ بھی مان لیا جائے ،تو یہی کہا جائے گا کہ انہیں سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ یہ کہہ دینا کہ اللہ اِس پر قادر ہے ،یہ جاہلوں اور مرفوع القلم لوگوں کا کام ہے، یعنی ایسے لوگ مجنون کے حکم میں ہیں ،سچے مومن ایسی بات نہیں کہہ سکتے۔ قانونِ فطرت کے مقابل کوئی دلیل قابلِ قبول نہیں ہے۔ ایسی تمام دلیلوں کو انہوں نے راوی کے سَہو اور خطا، دوراَزکار تاویلات، فرضی اور رکیک دلائل سے تعبیر کیا، (تفسیر القرآن، ج:2، ص: 122-123)‘‘۔
اِن اہلِ علم نے وحیِ ربانی اور دینِ اسلام کے مُغَیِّبَات کو اپنی عقل کی کسوٹی پر پرکھ کر رَد کرنے کا شِعار اختیار کیا اور عقل یا اپنے الفاظ میں قوانینِ فطرت کو اٹل اور ابدی تسلیم کیا،یہاں تک قرار دیا کہ فاطِروخالق سبحانہٗ وتعالیٰ بھی اِن قوانینِ فطرت کا پابند ہے ۔ظاہر ہے اللہ تعالیٰ تو وہی ہے جو ہر چیز پر قادر ہے ،ہر چیز پر حاکم ہے اور تمام ممکنات اُس کی قدرت کے تابع ہیں ۔کسی بھی چیز میں کوئی کمال ذاتی نہیں ہے ، بلکہ ہرچیز میں جو بھی کمال ہے ،وہ اللہ تعالیٰ کے خَلق اور اُس کی عطاسے ہے اور وہ جس طرح کسی چیز میں کوئی کمال یا خاصیت پیدا کرنے پر قادر ہے ،اِسی طرح اُسے سَلب کرنے اورقلبِ ماہیت پر بھی قادر ہے ،ارشاد فرمایا:''ہم نے حکم دیا :اے آگ!تو ابراہیم پر ٹھنڈک اور سلامتی ہوجا،(الانبیائ:69)‘‘۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جنات کے بارے میں فرمایا(1): ''اور جنّ کو خالص آگ کے شعلے سے پیدا کیا،(الرحمن:15)‘‘۔ (۲):''اوراس سے پہلے ہم نے جنّات کو بغیر دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا،(الحجر:27)‘‘۔الغرض قرآنِ کریم میں صراحت ہے کہ جنّ انسانوں سے جدا ایک نوعِ مخلوق ہے اور اُس کا مادّہ ٔ خلقت آگ ہے ۔سورۂ احقاف اور سورۃ الجنّ میں جنّات کی رسول اللہﷺ کے پاس آمد کا ذکر ہے ،ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ''آپ کہیے!میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنّات کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا اور کہا: ہم نے عجیب قرآن سنا ہے ،جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے ،پس ہم اُس پر ایمان لائے اور ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے اور بے شک ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ،نہ اُس نے کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ اولاد، (الجن:1-3)‘‘۔ سورۃ الجن سے معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین وجنّات عالَمِ بالا میں جایا کرتے تھے، وہاںگھات لگا کر بیٹھ جاتے تھے اور فرشتوں کی باتوں کی سُن گُن لیتے تھے اور کوئی ناتمام بات سُن لیتے تو اُس میں اپنی طرف سے آمیزش کر کے کاہنوں کو پہنچادیتے اور وہ لوگوں کو اپنے دامِ عقیدت میں پھنساتے اور گمراہ کرتے۔لیکن اچانک عالَمِ بالا میں تبدیلی آئی اور جنّات وشیاطین کا داخلہ بند ہوگیا ،تو وہ اس تلاش میں نکل کھڑے ہوئے کہ آخر اس تبدیلی کا سبب کیا ہے ؟۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:''(جنّات نے کہا:) اور ہم نے آسمانوں کا جائزہ لیا تو ہم نے اُسے سخت پہرے داروں اور آگ کے گولوں سے بھرا ہوا پایا ،اور (اس سے پہلے )ہم سُن گُن لینے کے لیے گھات لگا کر بیٹھ جاتے تھے ، سو اب جو کوئی بھی (عالَمِ بالا کی باتیں )سننے لگے تو وہ اپنے لیے آگ کا شعلہ تیار پاتا ہے ،اور ہمیں معلوم نہیں کہ (اس بندش سے) زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کے رب نے اُن کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور بے شک ہم میں سے کچھ لوگ نیک ہیں اور کچھ اس کے برعکس ،ہماری راہیں جدا جدا ہیں، (الجنّ: 8-11)‘‘۔پھر فرمایا: ''اوربے شک ہم میں سے چند اطاعت گزار ہیں اورکچھ سرکش ہیں ،(الجنّ:14)‘‘۔
رسول اللہ ﷺ کے حضورجنّات کی آمد کی تفصیل حدیث پاک میںموجود ہے:''حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنّات پر قرآن مجید نہیں پڑھا تھا اور نہ ان کو دیکھا تھا، نبی ﷺ اپنے اصحاب کی جماعت کے ساتھ عُکاظ کے بازار میں گئے اور آسمان کی خبر اور شیاطین کے درمیان کوئی چیز حائل ہوگئی تھی اور ان کے اوپر آگ کے شعلے پھینکے جاتے تھے، پس شیاطین اپنی قوم کی طرف گئے اور انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان کوئی چیز حائل ہوگئی ہے اور ان کے اوپر آگ کے شعلے پھینکے جاتے تھے؟۔ انہوں نے کہا: ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے،زمین کے شرق وغرب میں سفر کرو اور تلاش کرو کہ ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان کیا چیز حائل ہوگئی ہے، پھر انہوں نے زمین کے مشارق اور مغارب میں سفر کیا، ان کی ایک جماعت تہامہ کی طرف گئی اور وہاں نبی ﷺ عُکاظ کے بازار میں اپنے اصحاب کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ،جب انہوں نے قرآن کو سنا تو انہوں نے کہا: یہی وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کے درمیان حائل ہوگئی ہے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس گئے اور کہا: اے ہماری قوم!ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے ،ہم اُس پر ایمان لے آئے اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک قرار نہیں دیں گے ،(صحیح البخاری:4921)‘‘۔
اس مضمون کو سورۃ الاحقاف میں بیان کیا ہے :''اور یاد کیجیے !جب ہم نے جنّات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف متوجہ کیا جو توجہ سے قرآن سنتے تھے ،پس جب وہ وہاں حاضر ہوگئے ،تو آپس میں کہا:خاموش رہو، پھر جب قرآن پڑھا جاچکا ،تو وہ اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے ہوئے پلٹے، آپس میں کہا: اے ہماری قوم!ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام )کے بعد نازل کی گئی ہے ،جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے ،حق اور سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتی ہے ،(الاحقاف: 29-30)‘‘۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے ماننے والے تھے۔
سو جنّات کا وجود ایک حقیقت ہے ،اس پر ہمارا ایمان ہے اور قرآن اس پر شاہد ہے ۔ان میں مسلمان بھی ہیں اور کفار بھی، صالح بھی ہیں اور فاسق وفاجر بھی۔لیکن آج کل عجیب وغریب ہیئت کے حامل لوگ اورجنّات کے عامل ہونے کے دعویدار سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں ، لوٹ رہے ہیں، بلیک میل کر رہے ہیں اور بعض صورتوں میں توَہُّم پرست عورتوں کو پھنسا کر اُن کی آبروریزی کرتے ہیں اور میڈیا بھی اپنے کاروبار کے لیے ایسے لوگوں کو پروموٹ کر رہا ہے ،ان جعلی عاملوں کے لیے سخت تعزیری قوانین کی ضرورت ہے۔
(روزنامہ دنیا)   

طنز و مزاح : گھریلو ٹوٹکا اور رہنمائے باورچی خانہ


ظفر اقبال
سالن میں نمک زیادہ
سالن میں نمک کی کمی بیشی اکثر اوقات ہی رہتی ہے جس پر تلخی وغیرہ بھی ہوتی رہتی ہے اور میاں کی سرزنش بھی‘ ظاہر ہے کہ نمک کی زیادتی کھانے کی ساری لذت ہی کو شرما کر رکھ دیتی ہے۔ حتّیٰ کہ شاعر لوگ بھی بلبلا اٹھتے ہیں: مثلاً غالباً شاد عارفی کا شعر ہے ؎
نمک سالن میں اتنا تیز توبہ
مزعفر ڈالڈا آمیز توبہ
یعنی ایک نمک کی زیادتی ہی سے آدمی توبہ توبہ کر اٹھتا ہے۔ سو‘ سالن میں نمک کم کرنے کے کوئی سائنسی طریقے بھی ضرور ہوں گے کیونکہ سائنس جتنی ترقی کر چکی ہے وہ پریشان کن بھی ہے۔ اسی لیے سائنس سے دور دور رہنا ہی اچھا ہوتا ہے۔ تاہم زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم اگرچہ سائنسدان نہیں ہیں اور الحمدللہ کہ نہیں ہیں اور اس بدمزگی کو دور کرنے کے لیے جو طریقہ ہم نے ایجاد کیا ہے وہ سہل الحصول بھی ہے اور اس پر کچھ زیادہ خرچہ بھی نہیں اٹھتا‘ اور وہ یہ ہے کہ نمک زدہ سالن میں دو چمچ بھر کر پسی ہوئی سرخ مرچوں کے ڈال دیں اور سالن کو اچھی طرح سے ہلائیں اور گھمائیں! حتّیٰ کہ مرچیں سالن میں اچھی طرح سے مکس ہو جائیں‘ اور جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نمک کی تلخی نیست و نابود ہو جائے گی بلکہ کھانے والوں کو یاد ہی نہیں رہے گا کہ سالن میں کبھی نمک زیادہ بھی تھا ‘یعنی مرچوں کی زیادتی نمک کی زیادتی کو بالکل زائل کر دے گی اور نمک کی زیادتی کی وجہ سے شُوں شُوں کرنے والے شُوں شُوں بھول کر شاں شاں کرنے لگیں گے اور اگر تھوڑی بداحتیاطی سے سالن میں مرچیں زیادہ ہو جائیں تو بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس میں دو چمچ نمک کے ڈال کر اس کو دہرائیں‘ خاطر خواہ نتائج حاصل ہونگے۔
رہنمائے باورچی خانہ
خواتین خانہ کی سہولت کے لیے ہم نے یہ نہایت مفید کتاب تیار کروائی ہے تاکہ وہ ہر قسم کے کھانے گھر پر ہی تیار کر سکیں اور اپنے میاں کی بھی منظور نظر رہیں کیونکہ بقول شخصے خاوند کی محبت اس کے پیٹ کے راستے سے آتی ہے۔ اگرچہ موجودہ حالات میں وہ بے چارہ ماسوائے محبت کے اور کچھ کر بھی نہیں سکتا۔ اگرچہ گھر سے باہر رہنے میں وہ زیادہ سکون محسوس کرے گا لیکن کڑا پہنانا سراسر زیادتی ہے۔ بلکہ اب تو مزید سہولت ہو گئی ہے کہ برتن وغیرہ صاف کرنے کے علاوہ وہ دفتر یا دکان سے گھر آ کر رات کا کھانا بھی تیار کر سکتا ہے۔ کھانوں کی اس شہرہ آفاق کتاب کا دیباچہ ہماری خصوصی درخواست پر میاں نوازشریف نے لکھی ہے اور بہت مزے لے لے کر لکھا ہے جس میں قسم قسم کے کھانوں کی ترکیبیں پوری تفصیل سے بیان کر دی گئی ہیں جو کہ ماشاء اللہ باتصویر ہیں اور ہر پکوان کی رنگین تصویر بھی شامل کر دی گئی ہے۔ کتاب ہذا میں صاحب موصوف کے چوبیس باورچیوں کے تفصیلی انٹرویوز بھی شامل کئے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے کام سے بوقت طعام کس طرح عہدہ برا ہوتے ہیں کیونکہ اکثر اوقات انہیں ڈبل ڈیوٹی بھی ادا کرنا پڑتی ہے اور ہر وقت انہیں اپنی نوکری کے لالے پڑے رہتے ہیں۔
فاضل دیباچہ نگار نے کھانوں کی تیاری کے علاوہ انہیں کھانے کے طریقے بھی وضاحت سے بیان کئے ہیں کہ اللہ تعالی کی نعمتوں سے کس طرح زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے انسان کو کھانے اور اپنی عبادت کرنے ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ علاوہ ازیں اگر تیاری کے دوران کھانا کچا رہ جائے یا زیادہ پک جائے تو اس کو صبر و شکر کے ساتھ کھانے کی تلقین کی گئی ہے کیونکہ اسے کسی صورت بھی ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔ نیز یہ کہ کھانا اگر ضرورت سے زیادہ تیار ہو جائے تو محفوظ کرنے کی بجائے اللہ کا نام لے کر اسے بھی کھا جانا چاہیے کیونکہ ایک تو باسی ہو کر اس کی غذائیت کم ہو سکتی ہے اور دوسرے لوڈشیڈنگ کے اس زمانے میں فریج وغیرہ بھی متاثر ہوتے رہتے ہیں اور کھانا خراب ہونے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔
صاحب موصوف نے رنگ رنگ کے کھانوں کے علاوہ انہیں ہضم کرنے کے لیے طرح طرح کی پھکیاں تیار کرنے کے طریقے بھی بیان کر دیئے ہیں تاکہ اگر ضرورت سے زیادہ بھی کھا لیا جائے تو اسے اچھی طرح ہضم بھی کیا جا سکے کہ اوّل تو ہر شریف آدمی کا معدہ لکڑ ہضم‘ پتھر ہضم ہونا چاہیے کہ اسے پھکیاں وغیرہ استعمال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے‘ تاہم پھکیوں کے ساتھ ساتھ مختلف چورن تیار اور استعمال کرنے کے طریقے بھی اس ازحد مفید کتاب میں بتائے گئے ہیں۔ مزید برآں یہ سنہری نسخہ بھی بیان کر دیا گیا ہے کہ اگر پھکی اور چورن استعمال کرنے کے باوجود کھانا ہضم نہ ہو رہا ہو یا پھکی وغیرہ ہر وقت دستیاب نہ ہو تو اوپر سے دبا کر مزید کھا لینا چاہیے تاکہ اس کے بوجھ تلے آ کر پہلا کھانا بھی ہضم ہو جائے۔
فاضل دیباچہ نگار نے اپنی پسندیدہ ڈشیں تیار کرنے کا طریقہ بطور خاص بیان کیا ہے جو تقریباً 125 بنتی ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ ان سب کو اگر ایک ساتھ یعنی ایک ہی وقت میں کھانا مطلوب ہو تو اس کا کیا طریقہ ہے کہ معدے کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ صاحب موصوف کے نظریے کے مطابق خدا اگر توفیق دے تو ہر وقت کھاتے رہنا چاہیے بصورت دیگر یہ کفران نعمت میں شمار ہو سکتا ہے بلکہ اس پر عمل کرنے سے آپ عاقبت کی فکر سے بھی فارغ ہو جائیں گے کیونکہ کھانا بجائے خود ایک عبادت ہے کہ ساتھ ساتھ آپ اللہ کا شکر بھی ادا کرتے جاتے ہیں۔ کھانوں میں جن جن جانوروں اور پرندوں کا گوشت استعمال ہوتا ہے صاحب موصوف نے ان سب کے خواص بھی دل کھول کر بیان کر دیئے ہیں کہ کس کس جانور یا پرندے کا گوشت کھانے سے دماغ تیز ہوتا ہے اور کون سا قوت مردی میں اضافہ کرتا ہے‘ کون سا جسم کو چاق و چوبند رکھتا ہے اور کس کے کھانے سے ہاضمہ تیز ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ آپ جناب نے تیتر‘ تلور‘ بٹیر‘ تلیئر‘ کبوتر‘ مرغابی‘ مرغ‘ فاختہ‘ ہریل‘ مچھلی‘ ہر قسم کا بکرا‘ مینڈھا‘ دنبہ‘ گائے‘ بھینس‘ ہرن‘ خرگوش اور دیگر خوردنی جانوروں اور پرندوں کے خواص کھول کر بیان کر دیئے ہیں تاکہ قوم اس سے صحیح معنوں میں استفادہ کر سکے۔ ہر جانور اور پرندے کی رنگین تصویر چھاپنے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جو اپنے طور پر بیحد اشتہا انگیز ہے۔
اس مقبول عام کتاب کا یہ ایک سو آٹھواں ایڈیشن ہے جس کی قیمت صرف 500 روپے رکھی گئی ہے۔ موجودہ ایڈیشن کی ایک کاپی خریدنے والے کو سابقہ ایڈیشن کے دو نسخے مفت پیش کئے جائیں گے۔ نیز دیباچہ نگار نے کھانا بنانے‘ کھانے اور پھکی اور چورن استعمال کرتے ہوئے ہرپوز میں رنگین تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں جس کی وجہ سے کتاب ماشا اللہ دھڑا دھڑ فروخت ہو رہی ہے اور سابقہ سارے ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ موجودہ ایڈیشن ترمیم و اضافہ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے جس میں دیباچہ نگار کی کچھ مزید پسندیدہ ڈشوں کا اضافہ کیا گیا ہے ''پہلے آئو‘ پہلے پائو‘ ‘ نقالوں سے ہوشیار رہیں۔ سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ ایسی مفید عام کتابیں ہر روز شائع نہیں ہوتیں۔ عقلمنداں را اشارہ کافی است۔دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔
آج کا مقطع
محبت سربسر نقصان تھا میرا ظفرؔ اب کے
میں اس سے بچ بھی سکتا تھا مگر ہونے دیا میں نے 
(روزنامہ دنیا)   

صحافت کے طلبہ کے لئے


عامر خاکوانی
صحافت کے طالب علموں کی صلاحیت کے حوالے سے ہمارا تاثر کچھ زیادہ اچھا نہیں۔ خاص طور سے ان کی مطالعہ سے عدم دلچسپی ناگوار لگتی ہے۔ کتاب تو دور کی بات ہے، ان میں سے بیشتر اخبار تک نہیں پڑھتے۔ جو نیک بخت کسی اخبار میں ملازم ہیں، وہ اپنا اخبار بھی پڑھنے کی زحمت نہیں فرماتے۔ کوئی پوچھ تو لے تو مزے سے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس اخبار پڑھنے کا وقت نہیں ۔ دنیا کی شاہکار کتابیں، شاہکار فلمیں، مشاہیر علم وادب وفنون لطیفہ ... ان سب سے نابلد رہتے ہیں اور افسوس کہ اس کمی یا خامی کو دور کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کی جاتی۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارا سسٹم اور میڈیا کی موجودہ حالت ان خامیوں کے باوجود انہیں نہ صرف قبول کر لیتی ہے، بلکہ چند سال گزرنے کے بعد یہ پڑے پڑے سینئر ہوجاتے ہیں اور پھر اپنی جہالت اور کم علمی کے اثاثوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے سے اگلی نسل کا بیڑا غرق کرنے میں جت جاتے ہیں۔ویسے تو یہ صورتحال آج کی نہیں ، پچھلے دو عشروں میں ایسی بہت سی مثالیں میرے سامنے ہیں، ایک دو بار ان کے حوالے بھی دے چکا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ سترہ اٹھارہ برس پہلے ایک بڑے اخبار کے نیوز روم میں کام کرتا تھا۔ انہی دنوں میرا آرٹیکل ایک معروف جریدے میں شائع ہوا۔ ایک ساتھی سب ایڈیٹرکو فخریہ دکھایا تو اس نے تیزی سے رسالہ چھینا اور اسے ڈیسک کی دراز میں رکھ دیا، پھر سرگوشی میں کہا ، ایسی چیزیں دکھاتے نہیں، چھپایا کرتے ہیں۔ حیرت سے میں ان کا چہرہ دیکھتا رہا کہ یہ عجب تماشا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ نیوز روم کے ایک اعلیٰ افسر اس قسم کی'' غیر نصابی سرگرمیوں‘‘کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ موصوف کبھی کبھار نیوز روم آ کر بیٹھ جاتے اور اپنی گرجدار آواز میں مختلف معاملات پر تبصرے فرماتے ۔ ایک بات وہ زور دے کر کہا کرتے کہ سب ایڈیٹر کو ''علم دشمن‘‘ ہونا چاہیے۔کتابیں وغیرہ پڑھنے میں وقت ضائع کرنے کی قطعی ضرورت نہیں، ایسے لوگوں کا نیوز روم میں کوئی کام نہیں۔ یہ بات سن کر میرے جیسے اکا دکا کتاب میں دلچسپی رکھنے والے سہم کر دبک جاتے ہیں کہ کہیں کوئی کم بخت ہماری طرف انگلی نہ اٹھا دے...ع 
اکبر نام لیتا ہے '' کتاب‘‘ کا اس زمانے میں
بات صحافت کے طالب علموں سے شروع ہو ئی تھی، گزشتہ روز ایک سینئر صحافی نے اپنے کالم میں مختلف یونیورسٹیوں کے ماس کمیونیشن طلبہ کے حوالے سے افسوسناک انکشافات کئے ہیں۔ان کے بقول ایک بہت بڑی اکثریت کتاب پڑھتی ہے نہ اخبار اور نہ ہی کسی کو کوئی نیوز ٹاک شو دیکھنے کی توفیق ہوئی۔ معلومات اس قدر کمزور کہ کسی نے قذافی کا نام لیا تو اسے یہ نہیں معلوم کہ اس کا تعلق کس ملک سے تھا۔ صدام اور حسنی مبارک سے وہ ناواقف تھے۔ یہ نوجوان صدر پاکستان، چاروں صوبوں کے گورنر، تین صوبوں کے وزیراعلیٰ، سپیکرز، چئیرمین سینیٹ وغیرہ کے ناموں سے بے خبر تھے۔ (ہمیں پنجاب حکومت کا شکرگزار ہونا چاہیے، جس نے پتے پتے، بوٹے بوٹے پر خادم اعلیٰ پنجاب کی تصویر اور نام لکھ لکھ کر کم از کم یہ نام تو نوجوانوں کو ازبر کرا دیا، ورنہ صحافی موصوف کو مزید دھچکا لگتا)۔ ان یونیورسٹیوںکے بیشتر نوجوان ابھی تک کلنٹن کو امریکہ کا صدر اور بلیئر کو برطانیہ کا وزیراعظم سمجھتے ہیں، انہیں نائن الیون کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، یہ نہیں جانتے کہ مشرقی پاکستان کو مشرقی پاکستان کیوں کہتے تھے ؟
یونیورسٹی طلبہ کی اس حالت کو دیکھ کرایک سینئر کالم نگار نے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر حضرات اور ماس کمیونکیشن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان کو مشورے بھی دئیے، ان میں کچھ پر تو ضرور عمل ہونا چاہیے ۔انہوں نے لکھا:''شعبہ صحافت کے سلیبس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں، ایک حصہ تکنیکی تعلیم پر جبکہ دوسرا انٹلکچوئل تعلیم پر مشتمل ہو۔سو کتابوں، پچاس فلموں اور پچیس مقامات کی فہرست بنائیں ، یہ تینوں فہرستیں صحافت کے طلبہ کے لئے لازمی قرار دی جائیں۔کتابوں میں پچاس کلاسیکل ، پچیس پچھلے دو برسوں کی بیسٹ سیلر اور پچیس تازہ ترین کتب ہوں۔یہ کتابیں اساتذہ اور طالب علموں دونوں کے لئے لازمی ہوں۔فلموں میں پچیس آل ٹائم فیورٹ، پندرہ پچھلے دس برسوں کی اکیڈمی ایوارڈ یافتہ اور دس تازہ ترین یعنی اسی سال کی ہوں۔پچیس مقامات میں قومی اسمبلی، سینیٹ، چاروں صوبوں کی صوبائی اسمبلیاں، گورنرہائوسز، وزیراعلیٰ ہائوسز، دنیا کے پانچ بڑے ممالک کے سفارت خانے، آثار قدیمہ کے پانچ بڑے پاکستانی مراکز، جی ایچ کیو، آئی جی آفسز اور میڈیا ہائوسز شامل ہوں۔نائن الیون سے لے کر ترکی کی تازہ ناکام بغاوت تک دنیا کے دس بڑے ایشوز نصاب میں شامل کئے جائیں۔ یہ ایشوزطلبہ کو ازبر ہونے چاہئیں۔ ملک کے بیس بڑے ایشوز جیسے بجلی کا بحران، گیس، پانی کا مسئلہ، دہشت گردی، سیلاب، صنعتیں، بے روز گاری، صحت، تعلیم، ٹریفک ، منشیات، انسانی سمگلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، پراپرٹی مافیا، ٹیکس اصلاحات، آبادی کا پھیلائو،ماحولیاتی آلودگی، خوراک کی کمی اور بے راہ روی وغیرہ کو مختلف طلبہ میں تقسیم کر دیا جائے۔ وہ ان میں مہارت حاصل کریں اور دوسروں طلبہ کو بھی پریزینٹیشن کے ذریعے آگاہ رکھیں،وغیرہ وغیرہ۔ ‘‘
یہ سب عمدہ تجاویز ہیں ، میری خواہش ہے کہ کسی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو تو ان تجاویز کو الگ سے موٹے الفاظ میں کمپوز کرا کر اپنی سامنے دیوار پر لگانا چاہیے اور اپنے شعبہ ماس کمیونیکیشن میں ان اصلاحات کونافذ کرے۔ جب وہ ایسا کر لے تو پھر اسی پیٹرن کو مختلف ڈیپارٹمنٹس میں ان کی ضرورتوں کے مطابق نافذ کرے۔ اگر ایسا ہوگیا تو صرف دو تین برسوں کے اندر ہماری یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات کی کارکردگی میں غیرمعمولی بہتری آجائے گی۔ 
جن طلبہ کو یہ چیزیں مشکل لگ رہی ہیں یا ان کے پڑھے لکھے والدین کو یہ خدشہ ہو کہ ان کی اولاد اس پر عمل نہیں کر پائے گی، انہیں پہلے مرحلے پر اخبارپڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ گھروں میں اخبار لگوا لیں۔میں اپنے اکثر عزیزوں اور دوستوں کو کہتا ہوں کہ اردو کا اخبار کا ماہانہ بل چار سو روپے بھی نہیں ہوتا۔ جولائی کا روزنامہ دنیا کا بل تین سو ساٹھ روپے تھا۔ اتنی معمولی رقم کے عوض پورا مہینہ اخبار پڑھنے کی عیاشی اور اس سے قارئین کو جس قدر معلومات حاصل ہوں گی ، اس کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ ہماری پڑھی لکھی مڈل کلاس جس کی یہ خواہش تو رہتی ہے کہ ان کی اولاد میں مطالعہ کی عادت پیدا ہو، وہ کتابیں پڑھے ، مگر اس کے لئے وہ پہلا قدم یعنی اخبار لگوانے کو تیار نہیں ہوتے۔ اتنی معمولی رقم جس سے آج کے دور میں ایک معقول قسم کا برگر بھی نہیں آ سکتا، اخبار پر وہ بھی خرچ کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اب انٹرنیٹ پر اخبار پڑھ لیتے ہیں، وہ بھی بالکل مفت۔ خود میرے بڑے بھائی صاحب نے اپنا اخبار بند کرا کر اسے موبائل نیٹ پر پڑھنا شروع کر دیا ہے۔جب کبھی ویک اینڈ پر وہ تشریف لاتے ہیں، پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک طمانیت انگیز مسکراہٹ کے ساتھ لاہور کے کسی شاندار ریستوران کا تذکرہ کرتے اور وہاں ڈیڑھ دو ہزار کے عوض دئیے جانے والے شاندار بوفے ڈنرکے قصیدے پڑھتے ہیں۔اپنے ہر وزٹ میں وہ ہمیں فاتحانہ مسکراہٹ سے یہ بتانا نہیں بھولتے کہ میں نے اخبار بند کر کے ماہانہ ساڑھے تین سو روپے کی بچت کر لی ہے۔ ہم میاں بیوی ان کی اس ''بچت‘‘کو سن کر ہمیشہ مسکراتی نظروں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ بھائی صاحب مگر مطمئن اور آسودہ ہیں کہ نیٹ پر مفت اخبار اور کالم پڑھنے کا فائدہ ہو رہا ہے، یہ اور بات کہ ہر ماہ وہ کئی ہزار اپنے کھابوں پر اڑا دیتے ہیں۔
میں اپنے دوستوں سے اکثر یہ کہتا ہوں کہ آپ بے شک موبائل پر اخبار پڑھیں بلکہ کتابیں بھی دیکھیں، کہ مستقبل کامیڈیم یہی موبائل ہی نظر آ رہا ہے، لیکن اخبار کی افادیت تسلیم شدہ ہے۔ جس تیزی سے اور کم وقت میں اخبار پڑھا جا سکتا ہے، موبائل پر اس سے کہیں زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ پھر اخبار گھر میں لگوانے کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ بچوں کو اخبار پڑھنے کی عادت ڈالی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ اخبار لگوانا پہلا قدم ہے، بچوں کو اس جانب راغب کرنا دوسرا اور باقاعدہ قسم کا مرحلہ ہے۔ اس کے لئے بچوں کو ان کی پسند کی خبریں، بچوں کے ایڈیشن، کہانیوں وغیرہ کی طرف مائل کرنا ہوگا۔ ان میں چھوٹے چھوٹے مقابلے کرانے ہوں گے، بلند آواز سے ریڈنگ کی مشق کرانی پڑے گی، اچھے نتائج پر انعامات دینے پڑیں گے، پھر کہیں جا کر بچوں کی دلچسپی پیدا ہوگی۔ ایک مرتبہ یہ مشکل کام اگر ہوگیا تو پھر آپ کے لئے آسانی پیدا ہوجائے گی۔ اخبار سے کتاب پر چھلانگ لگانا بہت آسان ہے ۔ کچھ نہ پڑھنے والے سے البتہ یہ توقع کی جائے کہ وہ اچانک ہی ناول پڑھنا شروع کر دے گا، یہ خام خیالی ہے۔ اپنے گھر میں اور نئی نسل میں مطالعہ کی عادت ڈالنے کے لئے ہمیں کچھ نہ کچھ محنت کرنا پڑے گی۔ یاد رکھا جائے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم جو نسل تیار کریں گے، وہ مطالعے سے نابلد، معلومات سے خالی ، صرف ناک کی سیدھ میں دیکھنے اور رٹا لگا کرنمبر لینے والی مشینیں ہوں گی۔ زندگی کے امتحان میںان سے اعلیٰ کارکردگی دکھانے اور کچھ نیا ، غیر معمولی تخلیق کرنے کی خواہش رکھنا پھر زیادتی ہوگی۔ 
(روزنامہ دنیا)